قومی زوال کے اسباب (2)

قومی زوال کے اسباب (2)
قومی زوال کے اسباب (2)

  

یعنی سابقہ حکم کے کچھ عرصہ بعد دوسرا حکم نازل ہوا اور پہلے حکم میں تخفیف کر دی گئی اور صرف اپنے سے دوگنی تعداد کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حکم دیا گیا۔ یہ وعدہ توقیامت تک کے لئے قائم ہے، مگر ان سچے اہل ایمان مجاہدین کے لئے ہے جو راہ حق میں پیش آنے والی ہر تکلیف کو خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔ دشمن کی قوت و تعداد کو دیکھ کر صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں اور فولادی چٹان بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت بھی اگر مسلمان حکمران دُنیائے اسلام کے تمام مجاہدین کو اپنی کفالت، حفاظت اور سرپرستی میں لے لیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ مغربی دُنیا کے تمام ممالک مل کر بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لئے کہ بقول اقبال ؒ مجاہد کی صفت تو یہ ہے کہ-:

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال ِ غنیمت نہ کشور کشائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

دُنیائے اسلام 57 اسلامی ممالک پر مشتمل ہے:

اسلامی دُنیا کرہ¿ ارض پر مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور وسطی ایشیاءتین بڑے حصوں میں منقسم ہے، جن میں تقریباً 57اسلامی شامل ہیں، جہاں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے۔ اس کے علاوہ دُنیا کے ہر ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ بحیثیت مجموعی دراصل مسلم ممالک ایک سپر طاقت ہیں۔ کچھ ملک معدنی اعتبار سے مالا مال ہیں اور کچھ افرادی قوت کے لحاظ سے فائق ہیں، مگر مقام افسوس ہے کہ ہر ملک اپنے باہمی انتشار و افتراق کی وجہ سے اقوام یورپ کے بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طرح سے زیر اثر ہے۔ سیاسی اقتصادی اور عسکری اعتبار سے سپر طاقتوں کا محتاج ہے۔ اس پر بنیادی پرستی اور دہشت گردی کا لیبل خواہ مخواہ چسپاں کر دیا گیا ہے، انہیں متحد ہونے نہیں دیا جا رہا۔ اقوام متحدہ کے منشور کو پامال کیا جا رہا ہے۔ آج دُنیائے اسلام میں مسلمانوں کی کثیر تعداد اسوہ¿ محمدی سے ہٹ کر کسی نہ کسی ایسے دستور کی داعی یا پیروکار ہے، جو امامت کبریٰ یا امارت عامہ کی اسلامی دُنیا سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کائنات عالم میں معموہ¿ انسانیت کی عظیم الشان اسلامی برادری کی کوئی بڑی فعال پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) موجود نہیں۔ اللہ کے نائب جب موجود نہیں تو نظم و نسق، امن و امان، صلح و خیز، آزادی، مساوات، امانت، عدل و احسان اور رحم و رعایت کیسے قائم ہو۔ مسلمان، مسلمان کے اجتماعی حقوق دینے کے لئے تیار نہیں تو وہ امام و امیر کہاں سے آ سکتے ہیں، جو اس یقین کے ساتھ سوتے تھے کہ رات سے قبل مملکت کے ہر غریب کا پیٹ بھر چکا ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائے۔ حقیقتیں افسانہ نہ بن چکی ہیں۔ لباس تبدیل ہو گئے ہیں۔ عمارتیں ڈھیر ہو رہی ہیں۔ پوری بہار مٹ رہی ہے۔ ہر طرف تاریکی اُجالے کے انتظار میں دن گن رہی ہے۔ مایوسیاں امیدوں کے سہارے اُونگھ رہی ہیں۔ اسلامی دُنیا ان مردان خدا کی منتظر ہے، جو اپنے پیغمبر اعظمﷺ کی ہر بات کو سچ کر دکھائیں وہ گرجتے بادلوں پر سوار ہو کر آئیں یا کوندتی بجلیوں کی فوج ساتھ لے کر زندگی کے اسلامی محاذ پر ظاہر ہوں، مگر یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے۔ جب والیان ملک اور صاحبان اختیار و اقتدار کے انتخابات اسلامی اصولوں کے تحت طے شدہ قوانین و ضوابط کے تحت ہوں، کسی عام سی نوعیت کی ذمہ داری سپرد کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آیا وہ شخص مطلوبہ نوعیت کی تعلیم و تربیت اور تجربہ کا اہل ہے بھی یا نہیں، مگر یہ عجیب بات ہے کہ امور سلطنت کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے کوئی ضابطہ ¿ اخلاق یا کسی طرح کے قوانین و ضوابط، صفت و صفات یا معیار مقرر نہیں کیا گیا، جن کے تحت کسی آزاد ملک کی سب سے بڑی مجلس قانون ساز کو چلانے کے لئے ممبران کا چناﺅ کیا جاتا ہے، حالانکہ اس ضمن میں قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ کن صفات حسنہ کے حامل لوگ حکمران ہو سکتے ہیں۔ سورة الانبیاء(105:21 اور 106) کا ترجمہ ملاحظہ ہو ”اور بلاشبہ ہم

 نے (زبور) میں ذکر (وموعظت) کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے صالح (باصلاحیت اور صاحب کردار بندے ہوں گے۔ یقینا اس میں واضح حقیقت ہے، عبادت گزار بندوں کے لئے جس زمین کی وراثت کا وعدہ صالحین کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد جنت کی سرزمین ہے، جس طرح دوسری آیات میں اس کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے: ”کہ جب متقی لوگ گروہ درگروہ جنت میں دا خل ہوں گے تو کہیں گے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، جس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، اسے سچ کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا اب ہم نے جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پس نیک کام کرنے والوں کے لئے بہترین اجرا ہے“۔ باقی رہی دنیوی بادشاہت و حکومت تو وہ کبھی صالحین اور کبھی فاسقین کو دے دی جاتی ہے، جس کا ذکر دوسری آیت میں ہے:”زیر بحث آیت سامنے رکھ کر بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ فلاح و تقویٰ کا قرآنی معیار حکومت کا ہونا اور نہ ہونا ہے۔ ان کا یہ قول قرآن کریم کی صد ہاتصریحات کے خلاف ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے ظالم، خونخوار اور نااہل لوگ تخت ِ شاہی پر متمکن رہے، جن کے مظالم اور نااہلی سے اُن کی اپنی قوم نالاں رہی۔ حصول ِ حکومت کو صلاحیت کا معیار دینے والے کیا نمرود، شداد اور فرعون کو بھی صالح ہونے کی سند دیں گے؟ جب ان کے مظالم حد سے بڑھ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نیست و نابود کر دیا۔ پھر ہٹلر اور سٹالن وغیرہ نے حکمرانی کی زعم میں لاتعداد انسانوں کو ہلاک کیا اور خود بدانجام کو پہنچے۔ اب زمانہ حال میں امریکن، برطانوی اور اسرائیلی حکمران قوت و طاقت کے نشے میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں، مگر وہ وقت دُور نہیں جب خود یہ طاقتیں بھی تباہ و برباد ہو جائیں گی۔ سورة آل عمران کی آیت27کا ترجمہ ملاحظہ ہو ”اے حبیب یوں عرض کرو، اے اللہ! اے مالک سب ملکوں کے! تو بخش دیتا ہے ملک جسے چاہتا ہے اور چھین لیتا ہے، ملک جس سے چاہتا ہے اور عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ذلیل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ہے ساری بھلائی

 بے شک تو ہر چیز پر قادرہے“، یعنی حکومت دینے والا بھی وہی ہے اور چھیننے والا بھی وہی ہے، جس کو چاہتا ہے دین و دُنیا کی عزتوں سے سرفراز کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل و خوار کرتا ہے۔ کسی فرد یا قوم کو حق حاصل نہیں کہ وہ حکومت اور عزت کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے لگے اور اس فریب میں مبتلا رہے کہ اس کے اعمال خواہ کتنے ہی سیاہ کیوں نہ ہوں اس سے حکومت چھینی جا سکتی ہے اور نہ اُسے عزت سے محروم کیا جا سکتے ہے۔ ایسا ہر گز نہیں، بلکہ سب کچھ اس مالک ِ حقیقی کے دست ِ قدرت میں ہے وہ احکم الحاکمین جس کی صف علم و حکمت کے ساتھ، رحمت و عدل کی ساری قدریں قائم اور باقی ہیں اس کی سنت یہ ہے کہ وہ جب کسی فرد یا قوم میں رحمت عدل کے تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے حکومت اور عزت سے سرفراز فرما دیتا ہے اور جو فرد یا قوم اپنے عمل سے اپنے آپ کو اس نعمت کا نااہل ثابت کر دیتی ہے تو اسے ذلت و خواری کے گڑھے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ نمرود، شداد اور فرعون بھی تو بادشاہِ وقت تھے۔ اللہ نے انہیں ملک عطا کئے، جب انہوں نے احکامات ِ الٰہیہ سے بغاوت اور سرکشی کی تو نیست و نابود کر دیئے گئے تو حکومت کی عطا دراصل ایک سخت آزمائش اور کڑا امتحان ہے، اسے وجہ عزت و افتخار نہیں سمجھنا چاہئے، بعض حکمران اس عطا کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھتے ہیں۔ شیطان انہیں وسوسے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ ساری مخلوق سے تمہیں حکمرانی دی گئی ہے۔ تجھ میں کوئی کمال ضرور ہے اور تجھ سے اللہ نے کوئی خاص کام لینا ہے۔ اگر دنیوی حکمرانی اور مادری ترقی کو ہی صالحیت کا معیار قرار دیا جائے گا، تو قرآن کریم کی بے شمار آیات کی تحریف کے مرتکب ہونے کے ساتھ وہ تاریخ کی عدالت میں بھی ایک مجرم قرار دیا جائے گا، اگر اس شخص کو قرآنی اصطلاح میں صالح کہہ دیا جائے، جس نے کسی ناجائز طریقے سے زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لی ہو، خواہ اُس نے تمدن و حضارة (شہری زندگی) کے روشنی کے تمام چراغ بجھا دیئے ہوں۔ خواہ اس کی فتوحات سے کاروان ِ انسانیت پر بربریت، وحشت اور جہالت کی شب ِ دیجور چھا گئی ہو۔ تو یہ احکامات الٰہیہ کی صریحاً خلاف ورزی ہو گی اور وہ شخص قابل ِ مواخذہ ہو گا۔(ختم شد)    ٭

مزید :

کالم -