انقلاب اور استعفے

انقلاب اور استعفے
انقلاب اور استعفے
کیپشن: pic

  

وطن عزیز میں اطمینان اور عدم اطمینان کی کیفیات ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، چلو یہ بھی شکرہے کہ اس حوالے سے ایک توازن موجود ہے، وگرنہ ہم تو ٹھہرے عدم توازن کے رسیا، توازن تو ہمیں راس ہی نہیں آتا، زندگی کے ہر شعبے میں عدم توازن خود پیدا کرتے ہیں اور پھر الزام دوسروں کو دیتے ہیں۔ پاکستان میں اطمینان کا نکتہ آج کل یہ ہے کہ آپریشن ضربِ عضب بہت کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بڑی موثر اور بھرپور کارروائیاں جاری ہیں، دوسری طرف اس کے ردعمل پر بھی بہت گہری نظر رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد سوائے اِکا دُکا واقعات کے دہشت گرد کوئی بڑا ردعمل ظاہر نہیں کر سکے، سب سے بڑا خطرہ اسی بات سے تھا اور اب تک ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں خاصی کامیاب رہی ہیں۔

آپریشن ضربِ عضب کا ایک اور پہلو متاثرین سے جڑا ہوا ہے۔ لاکھوں آئی ڈی پیز شمالی وزیرستان سے نکل کر مختلف شہروں اور علاقوں میں بے سرو سامانی کے ساتھ آئے ہیں، اُن کی امداد اور بحالی کے لئے فوج اور حکومت مل کر کوششیں کر رہی ہیں اور قوم بھی ان میں شامل ہو گئی ہے۔ ملک کے ہر بڑے شہر میں امدادی سامان اکٹھا کرنے کے کیمپ لگ گئے ہیں، جن میں عوام بڑھ چڑھ کر اشیاءاور نقدی جمع کرا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ہم ایک بڑے معرکے کو کامیابی کے ساتھ سر کرتے جا رہے ہیں اور تمام اشارے ہماری اس کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک اور پہلو جس نے اطمینان بخشا ہے وہ آپریشن ضربِ عضب کے حوالے ملک بھر میں پایا جانے والا اتفاق رائے اور بے مثال یکجہتی ہے۔ تمام سیاسی و مذہبی قوتیں اس نکتے پر فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ مَیں سمجھتا ہوں پاک فوج کے لئے قوم کی یہ حمایت اور محبت بھی اس آپریشن کی کامیابی کے لےءخشت ِ اول کی حیثیت رکھتی ہے۔

ایک طرف اطمینان کا یہ پہلو ہے تو دوسری طرف بہت سے پہلو ایسے بھی ہیں کہ جن سے عدم اطمینان جنم لے رہا ہے۔ خاص طور پر ملک کی سیاسی صورت حال میں جو ہلچل ہے اُس نے خاصی بے یقینی پیدا کر رکھی ہے۔ کہنے کو حکومتی حلقے اس پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے بے وقت کی راگنی قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں، تاہم یہ معاملہ اتنا آسان نہیں کہ اسے ایک دو بیانات کے ذریعے پس پشت ڈالا جا سکے۔ اس وقت سیاسی سطح پر دو کاﺅنٹ ڈاﺅن چل رہے ہیں۔ ایک عمران خان نے دیا ہے اور دوسرا ڈاکٹر طاہر القاری نے۔ اس بات پر سب حیران ضرور ہیں کہ جب ملک میں جنگی طرز پر آپریشن جاری ہے، تو اس آپریشن کی حامی جماعتیں ہی یہ انتشار کیوں پیدا کر رہی ہیں، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے جو فوری کوششیں کی جانی چاہئیں، وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے چند ہفتوں میں حکومت کے جانے کی پیش گوئی کر دی ہے۔ وہ انقلاب لا رہے ہیں اور انقلاب کے آتے ہی یہ حکومتی بندوبست بقول اُن کے رخصت ہو جائے گا۔ بظاہر یہ سب ناممکن لگتا ہے، مگر کیا اس بنیاد پر حکومت کو ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھے رہنا چاہئے یا وزراءکے تمسخرانہ بیانات پر اکتفا کر لینا چاہئے۔ سیاست میں ممکنات کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔ وہ موجود ہوتے ہیں، بس انہیں ڈھونڈنے اور استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس معاملے میں حکومت بہت سست الوجود ثابت ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر طاہر القادری مسلم لیگ(ن) کے عہدیداروں یا وزراءسے نہیں ملنا چاہتے تو حکومت اپنے اتحادیوں کو رابطے کا ٹاسک کیوں نہیں سونپتی، مقصد تو اس خلیج کو پاٹنا ہے جو اس وقت حکومت اور ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان موجود ہے۔ اگر ایک طرف ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب کی دھمکی اور دوسری طرف وزراءانہیں ہوش و خرو سے بیگانہ قرار دیتے رہے تو اور کچھ ہو نہ ہو کوئی نیا سانحہ ضرور رونما ہو جائے گا۔

کچھ اسی قسم کی صورت حال عمران خان اور حکومت کے درمیان بھی موجود ہے۔ ان کا کاﺅنٹ ڈاﺅن بھی جاری ہے۔ انہوں نے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی اور 14اگست کو اسلام آباد میں سونامی مارچ کی دھمکی دے رکھی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ لیا جانا چاہئے تھا، مگر عالم یہ ہے کہ وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر عمران خان کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں۔ سیاست میں اس قدر غیر سنجیدگی اور ڈرامے بازی پہلے کہاں تھی؟ حکومت اگر عمران خان کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے لئے آمادہ اور سنجیدہ ہے، تو پھر فوری طور پرایک نمائندہ وفد اُن کے پاس بھیجا جانا چاہئے، جو انہیں حکومت کی اس رضا مندی سے آگاہ کرے اور بعدازاں مذاکرات کا شیڈول بنایا جائے، بجائے اس کے معاملات کو ٹی وی چینلوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ عمران خان کی طرف سے ایک مثبت تجویز یہ آئی ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ایک تین رکنی بنچ بنا کر4حلقوں کی دو ہفتوں میں دوبارہ گنتی مکمل کر لی جائے تو وہ اپنا لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔ اگرچہ یہ مطالبہ مسلم لیگ(ن) کے لئے پہلے ہی ناقابل قبول رہا ہے، تاہم اب بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر لچک کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حالات جس راستے پر جا رہے ہیں انہیں روکا جا سکے۔

 میرے نزدیک یہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے کا وقت نہیں، بلکہ آنکھیں کھلی رکھنے کا وقت ہے، معجزے کی امید ضرور رکھنی چاہئے، مگر ایسا معجزہ تو نہیں ہو سکتا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان ایک دن اچانک منظر سے غائب ہو جائیں اور حکومت کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ رہے۔ یہ دونوں اس وقت ملک کی بڑی سیاسی حقیقتیں ہیں، اس لئے انہیں نظر انداز کرنا خود کو تیر کے آگے کرنے کے مترادف ہے۔ رونما ہونے والے واقعات بھی اس بات کی چغلی کھا رہے ہیں کہ اب پاکستان میں شتر بے مہار قسم کی طرزِ حکمرانی ممکن نہیں، زمین پر بہت کچھ بدل چکا ہے اور حکمرانی کے تقاضے بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ آپ اور کچھ نہیں تو ان تین استعفوں کو ہی لیجئے جو رانا ثناءاللہ، ارسلان افتخار اور مصطفی رمدے نے دیئے ہیں۔ یہ تینوں واقعات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اب90ءکی دہائی والی طرز حکمرانی نہیں چل سکتی۔ چلیں رانا ثناءاللہ کو تو ایک بڑے سانحے کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا۔ وہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید اُن کی وزارت بھی نہ جاتی، لیکن ارسلان افتخار اور مصطفی رمدے کے استعفے اس حقیقت کا کھلا اظہار ہیں کہ بلا استحقاق اب نوازنے کی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔

مجھے اس سارے معاملے میں ذاتی طور پر ایک کچوکا اس وجہ سے لگا کہ افتخار محمد چودھری اور خلیل رمدے میرے آئیڈیل جج تھے۔ خلیل رمدے پولیس والوں کو راہ راست پر لانے کے حوالے سے بہت مشہور تھے۔کہا جاتا تھا کہ جس پولیس افسر کو خلیل الرحمن رمدے اپنی عدالت میں طلب کر لیتے اسے رات بھر نیند نہیں آتی تھی۔ انہوں نے پولیس کے مقابلے میں مظلوموں کی داد رسی کر کے بہت نام کمایا، مگر افسوس وہ اسے آخری عمر میں گنوا بیٹھے۔ ان پر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگ رہے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے خلاف میریٹ اپنے بیٹے مصطفی رمدے کو پنجاب کا ایڈووکیٹ جنرل بننے دیا۔ ساری زندگی وہ لوگوں کو میرٹ کا درس دیتے رہے، اس کے لئے اپنے اختیارات بھی استعمال کئے، لیکن خود اس امتحان میں پورا نہیں اتر سکے۔ کچھ یہی صورت حال ارسلان افتخار کے کیس میں بھی سامنے آئی۔ حیرت ہے کہ اس قدر جہاںدیدہ اور سیانے ہونے کے باوجود میرے یہ دونوں آئیڈیل جج اس بات کا ادراک نہیں کر سکے کہ جو کچھ وہ کرنے جا رہے ہیں، اس نے جنگل نہیں معاشرے میں وقوع پذیر ہونا ہے اور معاشرہ اسے مشکل ہی سے ہضم کرے گا۔ آج ارسلان افتخار اور مصطفی رمدے کے استعفے ایک ایسا کلنک کا داغ بن گئے ہیں ، جس کی سیاہی مشکل ہی سے جائے گی۔

خود حکمرانوں کے لئے بھی ایسے واقعات کوئی نیک شگون نہیں۔ ان میں بے تدبیری صاف نظر آ رہی ہے، جب اپوزیشن انتخابات میں دھاندلی اور کرپشن کی بنیاد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لئے ہوئے ہے،ایسے میں اس قسم کے اقدامات کی کیا ضرورت تھی، جو بالواسطہ طور پر اپوزیشن کے الزامات کو درست ثابت کرتے ہوں۔کیا یہ کام تھوڑے عرصے بعد نہیں ہو سکتا تھا۔ لگتا ہے دونوں طرف سے جلدی تھی، لینے والا ہاتھ بھی بے تاب تھا اور دینے والا ہاتھ بھی بے قرار، اس جلد بازی کا نتیجہ وہی نکلنا تھا، جو سامنے آ چکا ہے۔ انقلاب اور سونامی کے گرداب میں پھنسی ہوئی حکومت کیا اس قسم کے ایڈونچرز کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اس سوال پر غور ہونا چاہئے۔٭

مزید :

کالم -