مضبوط اپوزیشن :جمہوری سسٹم کی ضمانت

مضبوط اپوزیشن :جمہوری سسٹم کی ضمانت
 مضبوط اپوزیشن :جمہوری سسٹم کی ضمانت
کیپشن: ppp

  

1997ءکے الیکشنوں میں جب میاں نواز شریف بھاری مینڈیٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے تھے ، تو دیگر امور کے علاوہ اس جیت کی سب سے بڑی وجہ 1993ءسے 1996ءتک کے محترمہ بے نظیر کے دور میں ان کا ایک مضبوط اپوزیشن لیڈر ہونا تھا۔ ویسے بھی پاکستان مسلم لیگ بعض اپنوں (منظور وٹو غیرہ) کے پارٹی چھوڑجانے کی وجہ سے کم سیٹوں سے ہی ہاری تھی۔ اپوزیشن اس سارے عرصے میں خاصی مضبوط رہی اور صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو بے نظیر بھٹو کی اس دور کی حکومت چلائی ہی اپوزیشن نے تھی۔ میاں نوازشریف نے اس وقت اپنے ساتھیوں پر کافی حدتک پہرہ بھی دیا تاکہ یہ لوگ نہ تو سٹیل مل کے خام لوہے کے ٹھیکوں کی طرف جائیں،نہ ہی ایل پی جی گیس کے ٹھیکوں کی طرف اور اس کے کوٹے کی طرف نگاہ ڈال سکیں۔ پی پی پی کی حکومت تو سب کو ہرطرح کے لالچ دے رہی تھی ،خاص طورپر سرحد والے گلزار اس کام کے لئے کوشش بھی کرتے رہے ،لیکن فاروق لغاری سمیت اس ضمن میں سب کی کوششیں بیکار گئیں۔ پارلیمنٹ کا جب بھی اجلاس ہوتا، اپوزیشن پوری تیاری کے ساتھ موجود رہتی، سب سے پہلے آنے والوں میں خود اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف ہوتے اور جب تک پی پی پی ارکان یا وزراءاور خود وزیراعظم ایوان میں آتیں، اس سے کافی دیر پہلے تمام اپوزیشن ارکان کی حاضری خود میاں نواز شریف لے چکے ہوتے تھے۔

 وقفہ سوالات کے لئے چارگنا تعداد سے بھی پہلے سوالات جمع ہوچکے ہوتے اور سپلیمنٹری سوالات کے لئے بھی تیاری کرائی جاچکی ہوتی تھی، جبکہ حالات حاضرہ اور روزمرہ کے اہم معاملات پر بھی اپوزیشن کی طرف سے التوا کی درجنوں تحریکیں سپیکر کے پاس مقررہ وقت کے مطابق جمع ہوگئی ہوتی تھیں۔ پھر جونہی اسمبلی میں سوالات کاوقفہ ختم ہوتا، التوا کی ان تحریکوں پر زور دار بحث شروع ہوجاتی ، یوں وقت ختم ہونے تک گویا ایک پل بھی ایسا نہیں ہوتا تھا، جب سپیکر خود کو فارغ کرسکے۔ ایسے میں ضروری قانون سازی کے لئے بہت ہی کم وقت باقی رہ جاتا تھا۔ خاص طورپر بجٹ اجلاسوں میں تو بحث وتکرار ایسی صورت اختیار کرلیتی کہ لڑائی جھگڑے کا ساسماں پیدا ہوجاتا تھا۔ میرے کہنے کا مطلب اور اس سارے سماں باندھنے کی وجہ صرف یہ بتانا ہے کہ بے نظیر بھٹو کا یہ دوسرا دور حکومت صرف اپوزیشن کی وجہ سے چلا ،ورنہ 1988ءسے 1990ءتک کے عرصے میں ان کے شوہر نامدار آصف علی زرداری نے مسٹر ٹین پرسنٹ (10%) کا جو لقب حاصل کرلیا تھا ، اس کے بعد سرے محل کے نئے قصوں میں کچھ اضافہ ہی ہوا اور ایسا ہرگز نہیں تھا کہ پی پی پی حکومت اپنے پہلے دور سے کوئی سبق حاصل کرپاتی یا معاملات کو شفاف بنایا جاتا۔

جمہوری سسٹم تو 1988ءسے چلا ہی نہیں، بلکہ سرپٹ دوڑ رہا تھا ،لیکن جب 1993ءمیں اس کی بساط لپےٹی گئی یا پھر آگے چل کر نومبر 1996ءمیں فاروق لغاری نے پی پی پی حکومت کو برطرف کیا تو یہ عمل کسی فوج نے نہیں، بلکہ آئینی اعتبار سے طاقت رکھنے والے صدر مملکت کے احکام پر ایسا کیا گیا تھا۰ پہلے صدر غلام اسحاق خان نے مسلم لیگ کی حکومت کو برطرف کیا تھا اور پھر ڈیڑھ ماہ بعد سپریم کورٹ نے اس حکومت کو بحال کردیا تھا لیکن اس کے باوجود صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان دونوں کو ہی مستعفی ہوکر نئے الیکشنوں کا اعلان کرنا پڑا تھا۔ حدتو یہ ہے کہ دونوں مرتبہ پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ صوبائی گورنروں نے صوبائی اسمبلیوں کو بھی گھر بھجوادیا ، یوں دونوں مرتبہ عام انتخابات کے لئے راستہ ہموار کیا گیا۔ پی پی پی کی حکومت نے کرپشن کی جو ڈھٹائی 1988ءسے 1990ءتک دکھائی تھی، اس میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آیا تھا ۔ اس سارے کھیل میں پہلے کی طرح جس نام نامی کی گونج میڈیا میں سب سے زیادہ سنائی دی، وہ قبلہ گاہی آصف زرداری کا ہی نام تھا۔

جیالے جو ہمیشہ ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف کیا کرتے تھے اور ان کو رہنما ہی نہیں اپنا دیوتا بھی سمجھتے تھے، اب محترمہ کی پہلی حکومت کے بعد دوسرے دور میں بھی کرپشن کی داستانوں سے بے حد پریشان تھے ، زیادہ پریشانی اس بات کی تھی کہ لاکھوں کی تعداد میں ووٹ دینے والے ان کروڑوں جیالوں کے چولہے خالی تھے اور بھوکے پیٹ پر پتھر باندھ کر یہ لوگ محترمہ بے نظیر کے جلسوں میں آتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ حلوہ تو صرف آصف زرداری کھارہا ہے تو انہوں نے اندرون خانہ ہونے والی میٹنگوں میں واویلا کرنا شروع کردیا اور ایسی ہائے ہائے اور توتکار شروع کی کہ بی بی نے سنٹرل باڈی کا اجلاس بلانا ہی موقوف کردیا اور پارٹی کے اندرونی الیکشنوں سے بھی ہاتھ اٹھا کر عہدوں کے لئے نامزدگیاں شروع کردیں۔ اس صورت حال سے جیالوں میں بے چینی اتنی بڑھی کہ آگے چل کر انہوں نے 1997ءمیں اپنی ہی پارٹی کا ایسا بائیکاٹ کیا کہ ووٹنگ والے روز یہ جیالے ووٹر اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کے لئے سرے سے اپنے گھروں سے باہر ہی نہیں نکلے ۔

آج ملک میں جس صورت حال کو محسوس کیا جارہا ہے وہ اپوزیشن کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف جہاں حکمران پارٹی چین کی نیند سورہی ہے ، وہاں اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں کوئی ہوم ورک دکھائی نہیں دیتا۔ میرا آج بھی ایمان ہے کہ اگر عوامی بھلائی کے لئے شروع کئے گئے منصوبوں کو اگلے چند برسوں کی محنت سے مکمل کرلینے دیا جائے تو ماسوائے مہنگائی ان منصوبوں سے ملک وقوم کی کایا تو پلٹ جائے گی ،لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سارے فیصلے شفاف ہوں۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو ہر منصوبے پر کھل کر بحث کرلینے دی جائے اور میڈیا کو بھی اعتماد میں لے کر سب کچھ سامنے رکھا جائے، اگر میاں نواز شریف خود کو 1993ءسے 1996ءکے دور میں دیکھیں تو اس محنت کی بدولت ہی انہیں 1997ءکا بھاری مینڈیٹ ملا تھا اور 2013ءکی حکومت بھی اسی محنت کا نتیجہ ہے۔ درمیانی عرصہ کو ایک خراب خواب سمجھ کر بھلا دیں تو زیادہ بہتر ہے، آگے کا سوچیں.... جمہوری سسٹم کو چلانا ہے تو اپنی برداشت کی قوت کو اس حدتک بڑھائیں کہ اگر 2018ءکے عام انتخابات میں انہیں اپنی پارٹی کے لئے مزید ٹرم درکار ہے تو اس کی ابتداءابھی سے کرنا ہوگی، طاہر القادری کے ووٹ تو شاید جماعت اسلامی سے بھی کم ہوں۔

فی الحال انہیں بطور مضبوط اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف کے عمران خان کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر 2018ءکی پارلیمنٹ میں کوئی مضبوط اپوزیشن لیڈر نہ ہوا تو پھر وہ اسمبلی بچوں کا ایک ایسا کھیل بن جائے گی جس میں سکول کا ہیڈماسٹر سکول شروع ہوتے وقت سیٹی مار کر سب کو میدان میں اکٹھا کر لیتا ہے اور پاک سرزمین شاد باد کے ترانے سے سکول شروع کرادیتا ہے، یعنی محض روٹین کی اور روز کی ایک جیسی کارروائی ، جیسے انگریزی دور میں ایسی قانون ساز اسمبلی کا رواج ہوا تھا، جسے انگریز نامزد کرتے تھے یا پھر جس طرح جنرل محمد ضیاءالحق نے مجلس شوریٰ کے ارکان اور ان کا چیئرمین وغیرہ نامزد کرکے کام چلایا تھا۔ آپ شاید حیران ہوں گے کہ آج بھی ان کے کئی ایک نگینے الیکشن لڑتے دیکھے گئے ہیں اور وہ خود کو جمہوریت پسند، بلکہ جمہوریت کا چیمپئن کہتے نہیں تھکتے۔ یاد رکھئے، کسی بھی جمہوری معاشرے اور جمہوری نظام میں ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب برسراقتدار پارٹی کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ایسی ہو کہ جس کا وزن سب کو معلوم بھی ہو اور محسوس بھی۔ ورنہ آپ کو یاد ہوگا کہ ابھی چند برس قبل بنگلہ دیش میں بیگم خالدہ ضیاء(بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کے الیکشنوں کا بائیکاٹ کیا گیا تو اس کی ایسے الیکشنوں کے نتیجے میں ان کی تشکیل پانے والی حکومت تین ہفتوں سے زیادہ نہیں چلی تھی اور انہیں الیکشن پھر سے کرانا پڑے تھے، لہٰذا یادرکھیں کہ مضبوظ اپوزیشن ہی اچھے جمہوری سسٹم کی بقا کی ضمانت ہواکرتی ہے۔ ٭

مزید :

کالم -