بھٹو کی تحریر:چند اقتباسات،5جولائی کے حوالے سے

بھٹو کی تحریر:چند اقتباسات،5جولائی کے حوالے سے
بھٹو کی تحریر:چند اقتباسات،5جولائی کے حوالے سے
کیپشن: pic

  

آج (ہفتہ) وہ دن ہے جب سینتیس سال قبل شب خون مارا گیا اور اس کے نتیجے میں جنرل ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لاءلگایا اور ابتداءمیں قوم سے عام انتخابات کے نہ صرف وعدے کئے، بلکہ اکتوبر میں انتخابات کے شیڈول کا بھی اعلان کردیا، لیکن یہ اعلان ہی رہا کیونکہ انتخابی مہم کے دوران ہی واضح ہو گیا تھا کہ بھٹو کا تختہ الٹنے اور ان کو گرفتار کر لینے کے باوجود پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری ہے اور انتخابی عمل مکمل ہوگیا تو اکثریت پھر اسے ہی ملے گی۔ 4 اور 5جولائی کے دن اور رات تاریخ کا اہم ترین موڑ ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ(مرحوم) کے بقول 4جولائی کی شب پاکستان قومی اتحاد اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا تھا۔قومی اتحاد کے 32میں سے ساڑھے اکتیس نکات مان لئے گئے تھے، لیکن ضیاءالحق نے مارشل لاءلگا کر حالات ہی بدل دیئے، پروفیسر غفور احمد نے بھی اپنی کتاب میں ان مذاکرات کا ذکر اسی انداز میں کیا، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی اتحاد کی قیادت نے جنرل ضیاءالحق کی عبوری کابینہ میں شرکت کی تھی، جو انتخابی التواءکے بعد بکھری۔

پاکستان پیپلزپارٹی ہر سال اس دن (5جولائی) کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے اور اس مرتبہ بھی منا رہی ہے ۔تنظیم کی طرف سے اعلان کیا گیا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ 1977ءمیں ذوالفقار علی بھٹو اپنی پارٹی کو کس نگاہ اور حیثیت سے دیکھتے اور مستقبل میں اس کی اہمیت کیا سمجھتے تھے اور آج پیپلزپارٹی کس مقام پر کھڑی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کرکے نظر بند کیا گیا تو ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کی طرف سے اسے ہائیکورٹ میں رٹ درخواست کے ذریعے چیلنج کیا گیا تھا، اس کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کا بیان حلفی بھی شامل کیا گیا جو انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ایک سو صفحات پر مشتمل اس بیان کے ذریعے نظر بندی کے لئے جنرل ضیاءالحق کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات کا مفصل جواب دیا گیا۔ان دنوں میڈیا پر پابندیاں تھیں اور اس درخواست اور بیان کی اشاعت روک دی گئی تھی، چنانچہ یہ بیان پاکستان سے لندن سمگل کیا گیا اور وہاں کتابی شکل میں شائع ہوا، یہ کاوش برادر محترم بشیر ریاض کی تھی جو پیپلزپارٹی کے ساتھ غیر ملکی میڈیا کوآرڈینیٹر کے طور پر منسلک تھے، انہی کی کوشش سے اب بے نظیر بھٹو ،ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلزپارٹی سے متعلق کتابیں شائع ہوئیں اور یہ کتاب ”میرا پاکستان“ اضافے کے ساتھ ”بھٹو لیگیسی فاﺅنڈیشن“ کی طرف سے چھپی جس کے سربراہ بشیر ریاض ہیں اور وہ اس تاریخی ورثے کو محفوظ کر چکے اور کرتے جا رہے ہیں۔

آج کے کالم میں اس دور کے حوالے سے اس کتاب کے چند اقتباسات نقل کئے جا رہے ہیں کہ اس وقت کہی گئی باتیں آج کی حقیقت بھی ہیں، بیان حلفی کے پیرا 57میں ذوالفقار علی بھٹو رقم طراز ہیں۔”ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے بہتر مسلمان نہیں ہو سکتا، کلمہ پڑھنے والا کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس سے بہتر ہے، دوسرے مذاہب اور نظریات پر یہ بات صادق نہیں آتی، ایک کمیونسٹ دوسرے کمیونسٹ سے بہتر ہوسکتا ہے، ایک عیسائی دوسرے عیسائی سے بہتر کہلا سکتا ہے، لیکن مسلمانوں میں ایسا نہیں، اللہ کے نبی نے اپنے آخری پیغام میں کہا تھا”تم سب ایک دوسرے کے بھائی ہو، تم میں سے ہر ایک دوسرے کے برابر ہے۔اسلام کے بھائی چارے میں تم میں سے کوئی بھی دوسرے سے کم تر یا اعلیٰ تر نہیں“، لیکن آج پاکستان میں کیا ہو رہا ہے، وہ لوگ جنہوں نے سر سے پیر تک پاکستان کی مخالفت کی اور بانی پاکستان کو انتہائی سخت الفاظ میں بُرا بھلا کہا، نئے نظام کے متولی بنے بیٹھے ہیں۔یہ کوئی عجوبہ نہیں کہ بھارت کو ”پیارا بھارت“ کہا جا رہا ہے۔

اسی بیان کے پیرا نمبر134میں انہوں نے عوام پر اپنے اعتماد اور اپنی پارٹی کے حوالے سے خوش کن جذبات کا اظہار کیا، وہ کہتے ہیں ”عوام آزمائش کے ان لمحات میں مجھ سے کنارہ کش نہیں ہو سکتے۔1958ءسے میرا نام پاکستان کی تاریخ کے ہرصفحہ پر لکھا ہوا ہے۔ان میں صرف چند ایک اہم باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔پاکستان کے جوان مجھے اپنی امنگوں کے ساتھ یاد رکھیں گے کہ میں نے انہیں جواں سال قیادت دی۔پاکستان کی خواتین مجھے ہمیشہ مہربانی سے یاد رکھیں گی کہ میں نے انہیں آزادی دینے کی کوشش کی۔کسان مجھے جوش و جذبہ سے یاد رکھیں گے کہ مَیں نے جاگیرداروں کی زنجیریں توڑیں۔محنت کش طبقے مجھے محبت سے یاد رکھیں گے کہ مَیں نے انہیں قومیائی گئی صنعتوں کا مالک بنا دیا۔دانشور میری قدر کریں گے کہ مَیں نے خود کو ٹیکنالوجی اور جدیدیت سے مخلصانہ طور پر وابستہ رکھا۔اقلیتیں ہمیشہ مجھے یاد رکھیں گی کہ میں نے ان کے ساتھ سچا سلوک کیا۔وہ بے نام مجھے یاد رکھیں گے کہ میں نے انہیں پانچ مرلہ اسکیم کے ذریعے نام دیا۔وہ بے نام چہرے مجھے اس لئے یاد رکھیں گے کہ کچی آبادی میں ان کو مالکانہ حقوق دے کر چہر ے دیئے۔میںنے شیعہ سنی کو لڑایا نہ ان میں محاذ آرائی کرائی۔جتنا جی چاہے کوئی کوشش کرے مسلح افواج میری منفرد خدمات کو فراموش نہیں کر سکتیں کہ میں نے ان کے مجروح وقارکو بحال کیا۔میں نے ایک بے فولاد ڈھانچے کو فولادی بنایا۔میں نے قوموں کی برادری میں پاکستان کا وقار بلند کیا“۔

اگلے پیرے میں پیپلزپارٹی کا ذکرکرتے ہوئے لکھا:” پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی سب سے بڑی قومی جماعت ہے۔اس کی جڑیں ہر جگہ ہیں لیکن سندھ اور پنجاب میں یہ جڑیں غیر متزلزل ہیں۔ان دونوں صوبوں میں پارٹی سب سے طاقت ور ہے، لیکن اس کا پیغام اور اس کی گرفت تیزی کے ساتھ سرحد اور بلوچستان میں بھی بڑھ رہی ہے۔عظیم عوام کی یہ جماعت آدم خور نہیں بن سکتی۔یہ صوبائی عصبیت میں الجھ کر اپنے ہم جنسوں کو نوالہ نہیں بنا سکتی۔جس طرح ایک فوج اپنا اسلحہ خانہ تباہ کرکے جنگ نہیں لڑ سکتی۔اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی اپنے سیاسی درخت کی شاخیں نہیں کاٹ سکتی“۔

اکتوبر 77ءکے انتخابات کے حوالے سے بھٹو پر الزام لگایا گیا کہ وہ انتخابات کے التواءکی سازش کررہے ہیں، اس کے ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو پارٹی معاملات کے حوالے سے اختیارات کا بھی ذکر ہوا تھا، بھٹو کہتے ہیں: ” میں گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصہ سے جیل میں ہوں۔بے نظیر بھٹو سے متعلق فیصلہ پارٹی کا فیصلہ ہے۔میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، پارٹی نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا کہ بے نظیر، بے نظیر ہے“۔

جولائی کے فوجی اقتدار اور جنرل ضیاءالحق کی طرف سے نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل میں ملوث اور مولوی مشتاق(جسٹس) کی عدالت سے سزائے موت کے پس منظر میں ذوالفقار علی بھٹو کا ایک مختصر بیان بھی بہت اہمیت رکھتا ہے جو اس کتاب کے ٹائٹل کے آخری صفحہ پر ہے اور 21مارچ 1978ءکو دیا گیا۔بھٹو کے الفاظ : ”میرا خدا جانتا ہے کہ میں نے اس آدمی کا خون نہیں کیا۔اگر مَیں نے اس کا ارتکاب کیا ہوتا تو مجھ میں اتنا حوصلہ ہے کہ مَیں اس کا اقبال کر لیتا۔یہ اقبال جرم اس وحشیانہ مقدمے کی کارروائی سے کہیں کم اذیت دہ اور بے عزتی کا باعث ہوتا۔میں مسلمان ہوں اور ایک مسلمان کی تقدیر کا فیصلہ قادر مطلق کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔مَیں صاف ضمیر کے ساتھ اس کے حضور پیش ہو سکتا ہوں اور اس سے کہہ سکتا ہوں کہ مَیں نے اس مملکت اسلامیہ پاکستان کو راکھ کے ڈھیر سے دوبارہ ایک باعزت قوم میں تعمیر کر دیاہے۔ مَیں آج کوٹ لکھپت کے اس ”بلیک ہول“ میں اپنے ضمیر کے ساتھ پرسکون ہوں“۔

ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب سے خود ان کی تحریر کے یہ اقتباسات ان کی فراست کے مظہر ہیں۔انہوں نے سپریم کورٹ میں سزائے موت کے خلاف اپیل کے ساتھ جو بیان حلفی دیا اور پھر عدالت میں پیش ہو کر خود جو بیان دیا وہ بھی ایک تاریخی حیثیت کے حامل ہیں، جبکہ امتناع قادیانیت کے حوالے سے قومی اسمبلی والی تقریر اور لاہور کے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں سیرة کانفرنس سے ان کا خطاب بھی ایسی تاریخی پیشگوئیاں ہیں جو آج پوری ہو رہی ہیں۔انہوں نے جو نقشہ کھینچا وہ ہمارے سامنے ہے۔یہ تاریخ ہے اور بدقسمتی سے بھٹو جیسی شخصیت کو غیر فطری انجام سے دوچار ہونا پڑا،وہ انسان تھے ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی، لیکن جنرل ضیاءالحق کے اقدام کا تو کوئی جواز نہیں تھا،جس کی وجہ سے ملکی سیاست کا نقشہ ہی بدل گیا، بلکہ حلیہ بگڑ گیا اور آج ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں تو ذوالفقار علی بھٹو بہت یاد آئے صرف وہی نہیں کئی اور بابصیرت سیاست دان بھی تھے جن کے جانے سے پیدا ہونے والا خلاءواقعی پر نہیں ہوا اور آج ہمارا واسطہ جن حضرات سے ہے وہ بونے نظر آتے ہیں، اللہ پاکستان کو عوام کے لئے آفات سے محفوظ رکھے کہ اسے پھر امتحان میں ڈالنے کی کوشش جاری ہے۔ ٭

مزید :

کالم -