5جون1977ء:یادرکھنے کادن

5جون1977ء:یادرکھنے کادن
5جون1977ء:یادرکھنے کادن

  



آج پھر5جولائی ہے 37برس قبل الیکشن میں دھاندلی کے الزام میں چلنے والی تحریک کومارشل لاءکے انقلاب میں کامیاب کرایاگیا۔پاکستان کی تاریخ بہت جلداپنے آپ کودھرانے لگ جاتی ہے۔آج بھی ایک پارٹی چارحلقوں میں دھاندلی کاالزام لگاکراسلام آبادپر یلغارکرناچاہتی ہے۔ایک اورسیاسی پارٹی انقلاب کے نام پرجمہوری نظام اورالیکشن سسٹم کے خلاف دھرنادیناچاہتی ہے۔ ہمارے راہنماﺅں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان قومی اتحادنے1977ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک شروع کی۔درجنوں دانشوروں اورپی این اے کے قائدین نے اس تحریک اورجنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے متعلق کتابیں لکھی ہیں۔تمام قائدین ایک دوکوچھوڑکرخلوص نیت کے ساتھ تحریک چلارہے تھے۔اس کاثبوت یہ ہے کہ بامقصداورسنجیدہ مذاکرات شروع کئے گئے۔تمام سیاسی قائدین اوردانشوراس بات پرمتفق ہیں کہ PNAاورحکومت کے درمیان تمام معاملات پراتفاق ہوگیاتھا۔بدقسمتی سے جس رات مذاکراتی کمیٹی نے کامیابی کااعلان کیااس رات شب خون ماراگیا۔5جولائی1977ءکے مارشل لاءنے کسی سیاسی لیڈرکوفائدہ نہیں پہنچایا۔ایئرمارشل اصغرخان پرالزام لگایاجاتاہے کہ انہوں نے خط لکھ کرفوج کوکارروائی کی دعوت دی۔میں اس بحث میں نہیں پڑرہاکہ خط لکھناصحیح تھایاغلط، لیکن ایک حقیقت کوجانتاہوں کہ اصغرخان نے جنرل ضیاءالحق کے دورحکومت میں پانچ سال نظربندی میں گزارے۔جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءکسی سیاستدان کے لئے نہیں،بلکہ اپنے لئے لگایاتھا،فوج کسی کے لئے سیڑھی نہیں بنتی،سچ تویہ ہے کہ سیاستدان ان کے لئے سیڑھی بنتے رہے ہیں۔

جنرل ضیا ءالحق نے اپنانظام بنایا۔اپنے سیاستدان بنائے اور11سال ڈٹ کرحکومت کی۔قوم اورملک کے مسائل کوڈنڈے کے زورپرحل نہیں کیاجاسکتا۔آج بھی دنیاکابہترین نظام جمہوریت کانظام ہے۔ 5 جولائی 1977ءکومنتخب جمہوری حکومت کاتختہ اُلٹاگیا۔لیکن جنرل ضیاءالحق نے جمہوری نظام کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔تین بلدیاتی انتخابات،صوبوں کی اسمبلیاں اورمجلس شوریٰ بناکرعوام کوشامل کرنے کی کوشش کی گئی اوربالآخرغیرجماعتی انتخابات کراکربراہ راست لوگوں کوشریک کیاگیا۔جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاءلگاکربھی بلدیاتی انتخابات اورعام انتخابات کرائے۔سوال یہ ہے کہ اگرعوام کی شمولیت ہی ضروری ہے اورجمہوری نظام ناگزیرہے توپھر5جولائی1977ءاور 3 نومبر 1999ءکی کیاضرورت ہے؟

قوموں کی تاریخ ایک دن میں نہیں لکھی جاتی۔ملک مضبوط ہونے،ادارے بننے اورجمہوریت کاپھل کھانے کے لئے صبرکی ضرورت ہوتی ہے۔ذوالفقارعلی بھٹوکی کی حکومت کاتحتہ الٹنے کاکوئی جوازنہیںتھا۔اس طرح میاں نوازشریف کی حکومت کوگھربھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مختلف بہانوںاورسیاستدانوںکواستعمال کرکے ملک، قوم اورجمہوریت کومضبوط اورتوانانہیں بنا سکتے۔ اگرآپ ایک پودے کوہرپانچ سال بعداکھاڑدیں اور پھر نیا پودا لگائیںتوکیایہ پوداکبھی بھی مضبوط درخت بن سکے گا۔ ذوالفقارعلی بھٹوکوچلنے دیاجاناچاہئے تھا،دوبارہ الیکشن کرائے جاتے یاالیکشن کے نتائج کوتسلیم کیاجاتاتوآج ملک لوہے کی طرح مضبوط ہوتا۔جمہوریت بھی اپنے رنگ دکھارہی ہوتی اورطالبان کاجن بھی پیدانہ ہوتا۔

5جولائی1977ءکادن ہمیں سبق سکھاتاہے کہ سیاستدانوں، سیاسی پارٹیوںا ورسٹیک ہولڈرزکوبرداشت پیداکرنی چاہئے ۔2008ءکے اتنخابات میں پیپلزپارٹی اورپاکستان مسلم لیگ(ن)کوبڑی پارٹیوں کی حیثیت ملی۔مَیں سمجھتاہوںکہ دونوں پارٹیوں نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ایک دوسرے کوبرداشت کیا۔سخت مخالفت کے باوجودحکومت کوپانچ سال پورے کرنے دئیے گئے۔ مَیں نے ہمیشہ کہاہے کہ پی پی پی کی حکومت کوپانچ سال پورے کرنے کاکریڈٹ میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف کوجاتاہے۔ان کی برداشت نے جمہوری پودے کی آبپاری کی آج برداشت کی بہت کمی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی دوسری بڑی پارٹی ہونے کے باوجوداپنی سیاسی حیثیت کھوبیٹھی ہے،جس کے نتیجے میںتحریک انصاف اوردوسری سیاسی پارٹیوں کوآگے آنے کاموقع مل رہاہے۔عمران خان ،ڈاکٹرطاہرالقادری اوردوسرے لیڈروںکے پاس سیاسی تجربہ ہے نہ حکومتی اورنہ ہی جمہوری آپروچ۔

14ماہ کی حکومت کوہٹانے اوراس کے خلاف تحریک چلانے کاکوئی جوازنہیں،جس پارٹی کی ایک صوبے میںحکومت ہواوردوسرے صوبے میںاپوزیشن کی قیادت اورقومی اسمبلی میں بھرپورنمائندگی اس کی طرف سے اسلام آبادکی طرف مارچ کی سمجھ نہیں آرہی۔ڈاکٹرطاہرالقادری صاحب عوام کی بات کرتے ہیں۔انقلاب کی بات کرتے ہیں توانہیں عوام کے پاس جاناچاہئے۔عوام کامینڈیٹ حاصل کرناچاہئے۔

5جولائی1977ءسے سبق سیکھناچاہئے۔فوج کودعوت دینے کاکوئی فائدہ نہیں ۔عمران خان اورڈاکٹرطاہرالقادری نے پہلے بھی جنرل پرویز مشرف کی حمایت اس لئے کی تھی کہ ان کو اقتدارمیں حصہ ملے۔فوج کواقتدارمیں آنے کاکوئی شوق نہیں۔پاکستان کی فوج ملک کومحفوظ بنانے کے لئے اوردہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانوں کی قربانی دے رہی ہے توہم پھرکس مقصدکے لئے ان کودعوت دے رہے ہیں۔ یاد رکھناچاہئے کہ اگرفوج کو مجبوراً اور سیاستدانوں کے پیداکردہ حالات کی وجہ سے اقتدارمیں آنا پڑا توپھرعمران خان اورڈاکٹرطاہرالقادری کوحصہ نہیں ملے گا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوری مسائل کوجمہوری طریقے سے حل کیاجائے، پارلیمنٹ تمام مسائل کاحل ہے۔ مذاکرات کے ذریعے معاملات کوحل کیاجاسکتاہے۔ ایک سال گزرانہیں آپ نے احتجاج اوردھرنوں کااعلان کردیا۔کیااس کے نتیجے میںمڈٹرم انتخابات ہوجائیں گے؟ مڈٹرم انتخابات مسائل کاحل نہیں ہوتالیکن ناگزیر وجوہات ہوں تومڈٹرم انتخابات واحدحل رہ جاتا ہے۔ اگر میاں نوازشریف نے مڈٹرم انتخابات کااعلان کردیاتوکس کویقین ہے کہ عمران خان اتنی سیٹیں بھی لے سکے گا،آج بھی دنیاکہتی ہے کہ اگرذوالفقارعلی بھٹو1977ءمیں دوبارہ انتخابات کااعلان کردیتے توبڑی اکثریت سے کامیاب ہوتے۔اگرمیاں نوازشریف بھی مڈٹرم انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہوگئے توپھرکیابنے گا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی مڈٹرم انتخابات کوہونے نہیںدیتااورپھراستعمال ہونے والے جیلوں میں چلے جاتے ہیں اورحکومت کرنے والے 5جولائی1977ءکی طرح کئی کئی سال حکومت کرتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم