وارننگ، سیلاب کا خدشہ اور ہمارے محکمے!

وارننگ، سیلاب کا خدشہ اور ہمارے محکمے!

  

محکمہ موسمیات کی طرف سے مون سون اور موجودہ موسم کے بارے میں تفصیلی رپورٹ کی روشنی ہی میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیلاب کے خطرے سے آگاہ کیا۔ اتھارٹی کے مطابق اس سال مون سون کی زیادہ بارشیں بالائی علاقوں میں ہوں گی، جبکہ گرمی کی شدت کی وجہ سے برف بھی تیزی سے پگھلی ہے۔ اس طرح خدشہ ہے کہ اوپر سے زیادہ پانی سیلاب کا سبب بنے گا، اتھارٹی کے مطابق اس سلسلے میں بھارت کی انتظامیہ سے بھی رابطہ رہے گا تاکہ دریاؤں میں پانی کی آمد کی اطلاع قواعد کے مطابق پہلے مل سکے۔

اتھارٹی نے محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتایا ہے کہ مون سون اِسی ہفتے سے شروع ہو گا اور بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کی توقع ہے تاہم ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں برسات معمول سے کم ہو گی اس کے باوجود مینہ تو برسے گا اور مسائل بھی پیدا ہوں گے۔

اتھارٹی نے محکمہ موسمیات کے پاس جدید آلات کی کمی پر بھی توجہ مبذول کرائی ہے اس کے باوجود محکمہ امکان بھر درست تجزیئے کرتا ہے۔ اس انتباہ کا سیدھا سادا مطلب اور مقصد ہے کہ وسطی اور جنوبی علاقوں والے، یعنی سندھ، پنجاب اور بلوچستان والے ابھی سے خبردار ہو جائیں اور ماضی کے سیلابوں کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات کر لیں کہ زیادہ پانی کی صورت میں نقصان سے بچ سکیں۔ اس انتباہ اور اطلاع کے بعد بھی پیشگی انتظامات نہ ہوئے اور نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ پر ہو گی۔

ادھر لاہور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی طرف سے یہ مشتہر کیا گیا کہ پانی کی نکاسی کے راستوں کی صفائی کے لئے عملہ متعین کر دیا گیا ہے۔ واسا کی طرف سے ہمیشہ کی طرح دعویٰ کیا گیا کہ برسات سے قبل برساتی نالے اور پانی کی گزر گاہیں بھی صاف کر دی جائیں گی (یعنی ڈی سلٹنگ ہو گی) لیکن عملی طور پر ابھی تک یہ کام نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ جمعرات کو لاہور کے بعض حصوں میں ہونے والی تیز بارش نے معمول کے مطابق عوام کو پریشان کیا کہ پانی جمع بھی ہوا اور اخراج بھی تاخیر سے ہوا۔

ہمارے انتظامی ڈھانچے میں یہ کمزوری پیدا ہو چکی ہوئی ہے کہ ’’عملی کام‘‘ کے بجائے اعلانات کا سہارا لیا جاتا، بڑی بڑی میٹنگوں کے بعد بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ایک تجویز سالہا سال سے پیش کی جا رہی ہے کہ واسا ماہرین کو بارش کے دوران ان مقامات کا جائزہ لینا چاہئے جہاں پانی کھڑا ہو کر تاخیر سے نکلتا ہے اور موقع پر جائزہ لے کر منصوبہ بندی کرنا چاہئے کہ پانی جمع ہونے کی وجوہات تلاش کر کے ان کی اصلاح کی جائے۔

مزید :

اداریہ -