جیو نیوز کی نشریات اور کیبل آپریٹرز کا کردار

جیو نیوز کی نشریات اور کیبل آپریٹرز کا کردار

  

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جیو کے تمام چینلوں کو جلد از جلد بحال کرایا جائے گا اور اس کی نشریات بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے لائسنس منسوخ کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بات لاہور میں صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ان کی یقین دہانی اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیبل آپریٹرز کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ اپنی مرضی سے کبھی بھی کوئی بھی چینل بند کر دیں؟کیا وہ کسی کو جواب دہ نہیں؟وزارت دفاع کی شکایت پر جیو نیوز کا لائسنس 15دنوں کے لئے معطل کیا گیا تھا۔ یہ 15 دن چھ جون کو شروع ہو کر 20جون کو ختم ہو چکے ہیں گویا جیو اپنی سزا کی مدت پوری کر چکا ہے۔ اس مدت کو پورے ہوئے بھی تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں،لیکن اس کے باوجود بہت سے علاقوں میں ابھی تک لوگ اسے دیکھنے سے قاصر ہیں، کیونکہ کیبل آپریٹرز نے جیو کے چینل بند کر رکھے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ان کیبل آپریٹرز نے جیو نیوز کے علاوہ اس گروپ کے تحت چلنے والے تمام چینل سزا کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی بند کر دیئے تھے۔ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ کیبل آپریٹرز ایک مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور کسی بھی چینل کی قسمت کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ پرویز رشید صاحب آج یہ بیان تو دے رہے ہیں، لیکن پچھلے 15دن سے انہوں نے اس بات کا نوٹس کیوں نہیں لیا ؟ پیمرا کہاں ہے؟ کیا یہ قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہیں ہے؟ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کیبل آپریٹرز کی ہٹ دھرمی کا نہ صرف سخت نوٹس لیا جانا چاہئے، بلکہ اُن کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جانی چاہئے بالکل ویسے ہی جیسے جیو کے خلا ف کی گئی تھی۔ مستقبل میں ایسے معاملات یا ایسی صورت حال سے بچنے کے لئے قانون شکنوں کو سزا دینا انتہائی ضروری ہے۔ *

مزید :

اداریہ -