پاکستانی طلبہ کی تیار کردہ ریسنگ کار بین الاقوامی مقابلے میں شامل

پاکستانی طلبہ کی تیار کردہ ریسنگ کار بین الاقوامی مقابلے میں شامل
پاکستانی طلبہ کی تیار کردہ ریسنگ کار بین الاقوامی مقابلے میں شامل
کیپشن: Car

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکسانی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوانوں کی ٹیم اپنی ڈیزائن اور تیار کردہ فارمولا ریسنگ کار ”این اے ایس 14“ کی کامیابی کے لئے کافی پرامید ہیں۔ یہ ٹیم گیارہ سے تیرہ جولائی کو لندن میں ہونے والے بین الاقوامی سطح کے ایونٹ ”فارنوکا سٹوڈنٹ موٹر سپورٹس“ میں حصہ لے گی، جہاں ان کے مد مقابل دنیا کی مختلف جامعات سے آئے طالبعلموں کی 114 ٹیمیں موجود ہوں گی۔ ”نسٹ“ کی یہ واحد ٹیم ہے، جو دنیا کی یونیورسٹی کے طلبہ کے اس ایونٹ مین پاکستان کی نمائندگی کررہی ہے۔ ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ”فارمولا نسٹ ریسنگ“ کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر شاہ طلحہ سہیل نے اس ریسنگ کار کے ھوالے سے بتایا کہ یہ مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی گئی ہے، ہم نے اس گاڑی کا نام ”این اے ایس 14“ رکھا ہے۔ گزشتہ برس ہمارے فیکلٹی ایڈوائزر تھے نیول کیپٹن ندیم احمد شہید، جن کو نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا، ہم نے ان کے نام پر اس گاڑی کا نام رکھا ہے۔ بنیادی طور پر اس گاڑی میں 600 سی سی کا انجن ہے۔ اس میں دراصل ہنڈا سی بی آر 600 ہیوی بائیک کا انجن استعمال کیا گیا ہے۔ اس برس پاکستان کی نمائندگی 29 طالبعلموں پر مشتمل ایک ٹیم کررہی ہے۔ اس ریس کے حوالے سے شاہ طلحہ نے بتایا، ”اس مقابلے مین ہوتا یہ ہے کہ پہلے ایک سال مین آپ کو ایک گاڑی ڈیزائن کرنی ہوتی ہے، پھر اسے مینوفیکچر کرنا ہوتا ہے اور پھر اسے وہاں جاکر پیش کرنا ہوتا ہے۔ یہ طالبعلموں کا بین الاقوامی سطح کا مقابلہ ہوتا ہے، جس میں مکمل طور پر فارمولا کار کو ڈیزائن کرنا ہوتا ہے بغیر کسی بیرونی مدد کے، ہمیں امید ہے کہ اس ریس میں ہم اچھی کارکردگی دکھائیں گے“۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -