لانگ مارچ اور سول نافرمانی کی دھمکیاں ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش ہیں:وزیراعظم

لانگ مارچ اور سول نافرمانی کی دھمکیاں ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ...
لانگ مارچ اور سول نافرمانی کی دھمکیاں ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش ہیں:وزیراعظم

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن کی کامیابی کے لئے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے، متاثرین کو ہر سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی‘ اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ‘ متاثرین کی دیکھ بھال کےلئے جتنے بھی مزید فنڈز درکار ہوں گے جاری کئے جائیں گے‘بعض عناصر نہیں چاہتے پاکستان آگے بڑھے‘ لانگ مارچ اور سول نافرمانی کی دھمکیاں ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش ہیں‘ ملک اب مزید محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا‘حکومت تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ وہ جمعہ کو وزیر اعظم ہاﺅس میں (ن) لیگ کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، گورنر خیبرپختونخواہ سردار مہتاب احمد خان عباسی، وزیر خزانہ اسحق ڈار،سیفران کے وفاقی وزیرلیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ ، وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی،وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ اور (ن) لیگ کے انتہائی اہم رہنما چوہدری نثار علی خان کو ناراضگی کی وجہ سے مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اجلاس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال ‘ پارٹی کے اندرونی معاملات ‘ خاص طور پر چوہدری نثارکی ناراضگی ‘ عمران خان کی 14 اگست کو لانگ مارچ اور طاہر القادری کی سرکاری ملازمین کو حکومتی احکامات نہ ماننے کیلئے دی جانے والی سول نافرمانی کی کال سمیت دیگر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس میں اس ساری صورتحال کو جمہوری حکومت کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ نے پہلے بھی ایسی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ہم اب بھی جمہوری انداز میں ایسی ہر کوشش کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کا مکمل تحفظ کیا جائیگا۔ آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائیگا۔ وزیر اعظم نے میڈیا میں پارٹی کے اندرونی اختلافات بارے رپورٹس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی پارٹی کے اندر گروپنگ کی اجازت نہیں ہم سب کو متحد ہو کر عوام کے مسائل کے حل کے ایجنڈے پر کام کرنا ہے۔ اجلاس میں پارٹی رہنماﺅں کی طرف سے ملکی سیاسی صورتحال میں آنے والی تیزی ‘ حکومت مخالف عناصر کے اکٹھے ہو کر حکومت کو کمزور کرنے کی کوششوں کے بارے میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا۔بعض رہنماﺅں نے اس حوالے سے کھل کر وزیر اعظم کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بعض ایشوز پر پارٹی قیادت کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پارٹی کے اندر اختلافات بارے پیدا تاثر کو ختم کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف فوجی آپریشن سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے فوج کو تمام وسائل فراہم کرے گی ۔ آپریشن متاثرین کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہاءنہیں چھوڑا جائےگا ان کیلئے ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے شمال یوزیرستان آپریشن کے متاثرین کے لئے اب تک ہونے والی امدادی سر گرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وہ متعدد مرتبہ متاثرین کے کیمپوں کے دورے کر چکے ہیں اور امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی بھی کی ہے جبکہ مقامی قبائلی کے عمائدین سے بھی ملاقات کیں اور ان کی مشکلات کے جلد ازالے کے لئے یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ  566000 لوگوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، متاثرین کے کیمپوں میں کھانے پینے کی اشیاءکے علاوہ دیگر سہولتیں بھی دی گئی ہیں اور خوش آئند بات یہ ے کہ متاثرین کے کیمپوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ کیمپوں میں پولیو کے انجکشن بھی لگائے جا رہے ہیں، جبکہ موبائل کیش کے ذریعے رقوم کی تقسیم کا کام بھی ہفتے کے اندر  شروع کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار نے بتایا کہ متاثرین کے لئے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2.8 بلین روپے کی 60000 ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں نے ملکی سالمیت اور استحکام کی خاطر بڑی قربانی دی ہے اور فوج اس علاقے میں امن قائم کرنے کے لئے آپریشن کر رہی ہے اور شمالی وزیرستان کے لوگ ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر آئے ہیں۔ حکومت ان کو کیمپوں میں تمام وسائل مہیا کرے گی۔ آپریشن کے خاتمے کے بعدتمام متاثرین کو ان کے گھروں میں دوبارہ آباد کرنے کے لئے بھی حکومت تمام وسائل استعمال کرے گی

مزید :

قومی -اہم خبریں -