آڈیٹر جنرل پنجاب کے دفتر ہونیوالی مبینہ بے ضابطگیوں کی انکوائری شروع

آڈیٹر جنرل پنجاب کے دفتر ہونیوالی مبینہ بے ضابطگیوں کی انکوائری شروع

  

لاہور(کامرس رپورٹر)آڈیٹر جنرل پنجاب کے دفتر ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کی انکوائری شروع ہو گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز یہاں سابق چیف سکیرٹری پنجاب پرویز مسعود کی صدارت میں اے جی آفس لاہور میں منعقد ہوا۔ قائم مقام آڈیٹر جنرل پنجاب غضنفر مہدی نے انکوائری کمیٹی کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ ذرائع کے مطابق غضنفر مہدی نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی کی جانب سے جعلی دستاویزات کے ذریعے 9 کروڑ روپے کی رقم نکلوانے کی کوشش کی گئی تھی، جس پر بروقت کاروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانوں کا راستہ روکنے کی وجہ سے معاملہ بگڑا ہے۔ انکوائری کمیٹی کے پہلے اجلاس میں چار میں سے دو ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں چئیرمین وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم عرفان علی اور رکن معائنہ ٹیم محمد اکبر موجود تھے۔ اجلاس کے بعد چئیرمین انکوئری کمیٹی پرویز مسعود نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ معاملہ خاصا پیچیدہ ہے لیکن کمیٹی ایک دو ہفتوں میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے وزیراعلیٰ کو رپورٹ ارسال کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے تکینیکی پہلوں کی جانچ کے لئے کمیٹی نے اکاو¿نٹس اور ا?ڈٹ ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی ہیں تاکہ ٹرانزکشنز کا تمام پہلوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز مسعود نے کہا کہ ابھی بے ضابطگیوں یا بدعنوانی کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے، انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی صحیح صورتحال کا پتہ چلے گا۔

انکوائری

مزید :

صفحہ آخر -