ایف آئی اے کی نامکمل انکوائری، سابق لیسکو چیف اور ڈائریکٹر آپریشن کی ضمانت منظور

ایف آئی اے کی نامکمل انکوائری، سابق لیسکو چیف اور ڈائریکٹر آپریشن کی ضمانت ...

  

لاہور(نامہ نگار)سپیشل جج سنٹرل نے ایف آئی اے کی طرف سے انکوائری نامکمل ہونے کی بنیاد پر سابق لیسکو چیف ارشد رفیق اور ڈائریکٹر آپریشن محبوب علی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزمان کو2،2لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔سپیشل جج سنٹرل عبدالرشید ملک نے سابق لیسکو چیف ارشد رفیق اور ڈائریکٹر آپریشن محبوب علی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، ملزموں کی طرف سے منیر بھٹی ایڈووکیٹ اور ایس ایم رسول ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ ملزموں نے خود سے لوڈ شیڈنگ نہیں کی بلکہ ٹیپا کی درخواست پر 8 گرڈ سٹیشنز بند کرنا پڑے اور اس حوالے سے پیپکو کو اطلاع کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی تشہیر کر دی گئی تھی، بجلی کی تقسیم ڈائریکٹرآپریشن محبوب علی کا کام نہیں ، لوڈ شیڈنگ حکومت کے کہنے پر کی گئی جس کا ریکارڈ بھی موجود ہے، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے فوراً مقدمہ کا اندراج قوانین کی خلاف ورزی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کے خلاف پہلے انکوائری ہونی چاہئے اور اگر انکوائری میں ملزم پر الزام ثابت ہو تو مقدمہ درج کیا جانا چاہئے تاہم انکوائری بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی لہذا عدالت ملزموں کی ضمانت منظو ر کرے، عدالت نے ریکارڈ دیکھنے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزموں کی 2 لاکھ فی کس مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہا ئی کا حکم دے دیا ہے۔یادرہے کہ مذکورہ دونوں ملزمان کے خلاف ایف آئی اے حکام نے مقدمہ درج کر رکھا ہے کہ انہوں نے 27مئی کو ڈیفنس، گلبرگ، ائر پورٹ ،کینٹ اور ملحقہ علاقوں کی بجلی اپٹما کی ٹیکسٹائل ملوں کو دے دی تھی جس کی وجہ سے مذکورہ رہائشی علاقے تقریباً10گھنٹے تک مسلسل بجلی سے محروم رہے تھے تاہم ایف آئی حکام نے اس واقعہ پر وزیر اعظم پاکستان کی برہمی کے بعد سابق لیسکو چیف ارشد رفیق اورڈائریکٹر آپریشنز محبوب علی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا ۔

 ضمانت منظور

مزید :

صفحہ آخر -