تائیوان کے ایک ادھیڑ عمر سائنسدان کا انوکھا ہیئر سٹائل

تائیوان کے ایک ادھیڑ عمر سائنسدان کا انوکھا ہیئر سٹائل

  

تائپے (نیوز ڈیسک) تائیوان کے ایک ادھیڑ عمر سائنسدان نے ایک نوجوان دوشیزہ کو پھنسانے کیلئے کئی دن کی محنت اور ہزاروں روپے خرچ کرکے ایک ڈبے کی طرح نظر آنے والا ہیئر سٹائل بنایا لیکن جب وہ لڑکی کو متاثر کرنے پہنچا تو اس نے بیچارے سائنسدان کو انتہائی بے وقوف قرار دیتے ہوئے نظروں سے دور ہوجانے کا کہہ دیا۔ چون سالہ وولی نیشنل تائیوان یونیورسٹی میں بطور سائنسدان کام کرتا ہے اور اس کی تنخواہ 14000 پاﺅنڈ ماہانہ ہے۔ وولی کا کہنا ہے کہ وہ نوعمر لڑکی کو متاثر کرنے کیلئے کوئی ایسا کام کرنا چاہ رہا تھا کہ جس سے وہ بالکل منفرد نظر آئے۔ اس مقصد کیلئے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بالوں کا ایسا سٹائل بنائے گا جس سے بال ایک چوکور ڈبے کی طرح نظر آئیں۔ اس سٹائل کیلئے وولی نے ایک مہنگے ہیئر سٹائلسٹ سے رابطہ کیا جس نے کئی دن جاری رہنے والے عمل کے دوران ڈھیروں جیل اور دیگر لوازمات استعمال کرکے اس کے بالوں کو بالکل ڈبے کی طرح بنادیا۔ بھرپور تیاری کے بعد جب وولی لڑکی کو لبھانے کیلئے پہنچا تو وہ بہت بدتمیزی سے پیش آئی، اس کا کہنا تھا کہ وہ اس سٹائل کی وجہ سے دنیا کا بے وقوف ترین انسان نظر آرہا ہے۔ وولی اپنی سخت محنت اور بھاری رقم کے ضائع ہونے پر افسردہ ہے البتہ وہ اپنے منفرد سٹائل کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہوگیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -