جذباتی انداز بیان اور پرجوش حرکات و سکنات، ہٹلر کا یہ انداز قدرتی نہیں تھا

جذباتی انداز بیان اور پرجوش حرکات و سکنات، ہٹلر کا یہ انداز قدرتی نہیں تھا

  

برلن (نیوز ڈیسک) بدنام زمانہ جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر جب لاکھوں کے مجمع کو خطاب کرتا تھا تو اپنے جذباتی انداز بیان اور پرجوش حرکات و سکنات سے سننے والوں پر سحر طاری کردیتا تھا، لیکن ھال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ ہٹلر کا یہ انداز قدرتی نہیں تھا بلکہ وہ گھنٹوں اس مشق کرنا تھا اور پھر اپنی عوام کے سامنے بھرپور اداکاری کرتے ہوئے انہیں متاثرکرنا تھا۔ ہٹلر کی اس فنکاری کا انکشاف ان تصاویر سے ہوا ہے جو اس کے خاص فوٹو گرافر نے اس کی مشق کے دوران بنائی تھیں۔ فوٹوگرافر ہینرچ ہافمین ہٹلر کو عوام کے سامنے اظہار جذبات اور ہاتھوں کے پرجوش اشاروں کے استعمال کی مشق کروانے پر مامور تھا۔ اس نے 1925ء میں ہٹلر کے ساتھ تربیتی نشستوں کی تصاویر بنائیں تاکہ ان کی مدد سے پریکٹس میں مدد ملے۔ پٹلر کا حکم تھا کہ ان تصویروں اور ان کے نیگیٹو کو تباہ کردیا جائے لیکن فوٹوگرافر نے نیگیٹو چھپالئے اور ہٹلر کی موت تک انہیں محفوظ رکھا۔ کئی سال تک مختلف تاریخی آرکائیوز میں محفوظ رہنے کے بعد بالآخر یہ نیگیٹو منظر عام پر آگئے اور ان سے ہٹلر کی خفیہ پریکٹس کی تصویری حاصل کرلی گئیں۔ دنیا میں دہشت کی علامت سمجھا جانے والا ڈکٹیٹر ان تصاویر میں کسی مداری کی طرح مختلف پوز بناتے ہوئے نظر آتا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -