اقتصادی رابطہ کمیٹی کا آپریشن کےمتاثرین کو 60ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کا فیصلہ

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا آپریشن کےمتاثرین کو 60ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کا ...

  

                       اسلام آباد (آئی این پی ) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا شمالی وزیرستان آپریشن کے متاثرین کو 60ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کا فیصلہ، گندم کی فراہمی پر 2 ارب 28 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، وفاقی وزیر اور متاثرین کے لئے امدادی آپریشن کے انچارج لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر کی سربراہی میں کمیٹی گندم کی تقسیم کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی نے 25 ممالک سے زندہ جانوروں و گوشت کی در آمد، سی این جی کٹس و سلنڈروں کی درآمد اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں میں سی این جی کٹ نصب کرنے پر پابندی ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت درآمد یوریا کھاد پر باربرداری کی مد میں 20 روپے فی بوری کے حساب سے اضافی سبسڈی دے گی، کمیٹی نے اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن چینی بر آمد کرنے کی تاریخ میں توسیع کی منظوری دے دی۔ جمعہ کو ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت وزیر اعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت شمالی وزیرستان سے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں میں 60ہزار میٹرک ٹن گندم مفت فراہم کرے گی جس پر 2 ارب 28کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ گندم کا آئی ڈی پیز میں تقسیم کے عمل کی وفاقی وزیر سیفران جنرل(ر) عبدالقادر کی سربراہی میں کمیٹی نگرانی کرے گی۔ وفاقی وزیر ٹیکسٹاءعباس آفریدی، سیکرٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی، سیکرٹری تجارت اور گورنر خیبرپختونخواہ کا ایک نمائندہ کمیٹی میں بطور ممبر شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت تجارت کی سمری پر زندہ جانوروں ، گوشت و دیگر اجزاءکی 25ممالک سے درآمد پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ دے دیا، جس کے تحت یہ لازمی ہو گا کہ مذکورہ ممالک سے گزشتہ 11سال کے دوران”پاگل گائے“ کی کوئی شکایت نہ آئی ہو۔ واضح رہے کہ مذکورہ پابندی جون 2001ءمیں لگائی گئی تھی تاہم مئی 2013ءمیں عالمی ادارہ برائے صحت مویشیاں(او آئی ای) نے سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا کہ ان 25ممالک سے جانوروں و گوشت کی در آمد میں کم از کم خطرہ ہے۔ وزارت تجارت کی سمری پر ای سی سی نے اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن گندم بر آمد کرنے کی آخری تاریخ میں 45 سے 90روز کی توسیع کی منظوری دے دی جبکہ بر آمد کنندگان کو ایڈوانس ڈیپازٹ بھی اب 25فیصد کی بجائے 15فیصد جمع کرانا ہو گا۔ وزارت صنعت و پیداوار کی سمری پر فیصلہ ہوا کہ حکومت در آمد ی یوریا کی تقسیم پر مال برداری کے اخراجات کی مد میں نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ کمپنی کو فی بوری 20روپے سبسڈی ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے سرکاری خزانے پر 15ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ علاوہ ازیں ای سی سی نے وزارت پٹرولیم کی سمری پر سی این جی کٹ و سلنڈر وپرزہ جات کی درآمد پر پابندی ہٹاتے ہوئے مقامی سطح پر تیار ہونے والی کاروں میں سی این جی کٹ و سلنڈرنصب کرنے کی اجازت بھی دے دی

مزید :

صفحہ اول -