امام خمینی یا چی گویرا، آپ کا انقلاب کون سا ہے؟

امام خمینی یا چی گویرا، آپ کا انقلاب کون سا ہے؟
امام خمینی یا چی گویرا، آپ کا انقلاب کون سا ہے؟
کیپشن: pic

  

تجزیہ : چودھری خادم حسین

دنیا میں آنے والے انقلابوں میں امام خمینی کی قیادت میں ایرانی انقلاب اپنی مثال آپ ہے کہ جب فصل بالکل تیار ہوئی اور امام خمینی پیرس سے وطن واپس آئے تو آنکھیں فرش راہ تھیں کہ اوپر سے نیچے کی سطح تک ذہنی تیاری مکمل تھی۔ تھوڑا عرصہ قبل ایک میڈیا تقریب میں مدعو کئے گئے تو تہران میں قیام کا اتفاق ہوا میزبانوں نے قم کا بھی دورہ کرایا اور وہاں ایک آبادی میں امام خمینی کی رہائش اوردرس گاہ بھی دکھائی۔ ساتھ ہی ان کی انقلابی جدوجہدسے آگاہ کیا۔امام خمینی چھوٹے سے مکان میں ایک کمرے میں رہائش پذیر رہے اور ایک حصے میںدرس و تدریس کا سلسلہ جاری کیا اور مسلسل یہ خدمتبجالاتے رہے حتی کہ ایک دوسرے قریبی شہر میں بھی مقررہ روز اور وقت پر درس کے لئے جاتے رہے۔ اور کبھی ناغہ نہیں کیا زیادہ تفصیل میں جائے بغیر یہ بتایا گیا کہ امام خمینی نے کسی خوف اور لالچ کے بغیر درویشانہ زندگی گزاری اور اسی دوران قوم کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔ جلا وطنی سے قبل فصل تیار تھی صرف پکنے کا انتظار تھا اور اس کے لئے وہ پیرس میں بیٹھ کر بھی رابطہ میں رہے اور پھر جب وقت آیا تو وہ اس شان سے وطن آئے کہ انسانوں کا سمندر ان کی راہ میں آنکھیں بچھائے منتظر تھا اور جب اترے تو نہ صرف پولیس بلکہ فوج نے بھی خیر مقدم کیا اور سلامی دی ایک قطرہ خون بہائے بغیر تبدیلی آگئی، لیکن یہ نہیں کہ انقلاب کی جدوجہد کے دوران مسائل پیدا نہیں ہوئے ۔ شاہ ایران جو مظالم کر سکتا تھا اس نے کئے لیکن پرستاروں نے سب جھیل لئے خود امام خمینی کو مصیبتیں اٹھانا پڑیں یہ ایک پوری تاریخ ہے جو رقم ہوچکی یہ بہت مختصر سا ذکر یوں کرنا پڑا کہ محترم ڈاکٹر طاہر القادری جواب ”شیخ الاسلام“ سے ”قائد انقلاب“ بن چکے نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں اپنے مخصوص انداز میں قوم کو نوید سنادی اور کہا ہے کہ وہ جلدی ہی یوم انقلاب کا اعلان کرنے والے ہیں اور پھر سب کچھ بہہ جائے گا اور انقلاب رہ جائے گا انہوں نے پولیس والوں اور سرکاری ملازمین کو تڑی لگادی اور کہا وہ اس حکومت کے غیر قانونی احکام نہ مانیں انکار کردیں یا پھر نوکری چھوڑ دیں کیونکہ انقلاب کے بعد بہت سخت قسم کا احتساب ہوگا موجودہ حکمران جیل میں ہوں گے ۔ محترم نے ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا ”ہم انقلابی کونسلیں بنارہے ہیں۔ جو فوری طور پر نظم و نسق سنبھال لیں گی“

ڈاکٹر طاہر القادری کا یہ پرانا انداز ہے کہ وہ آہستہ روی سے چلتے اور پھر بہت جوش کے ساتھ بہت بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں جن کی عملی صورت اور خود ان کی کہی بات کے انداز بدل جاتے ہیں۔ اب انہوں نے ایک طرف تو یہ بات کی کہ وہ انقلاب کی تاریخ کا اعلان کرنے والے ہیں اور انقلاب آجائے گا۔ سارا نظم و نسق انقلابی کونسلیں سنبھالیں گی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب آئین کے عین مطابق ہوگا اس سلسلے میں وہ عوامی حقوق کے آرٹیکلون کا حوالہ دیتے ہیں لیکن حکومتی تبدیلی کے طریق کار سے اغماض برتتے ہیں۔ جو پارلیمنٹ کے ذریعے آئے تو آئینی ہوگی ورنہ ماورائے آئین اقدام ہی سے یہ ممکن ہے ۔ اگر یہی ہونا ہے تو پھر ان کو تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے جو ماورائے آئین قدم اٹھالیں گے وہ خود ذمہ دار ہوں گے ۔ ڈاکٹر صاحب کی وہاں کیا ضرورت ہوگی دوسری طرف وہ سونامی سے اختلاف کا برملا اظہار کرتے اور کہتے ہیں کہ ان کا اور ہمارا پروگرام ہی مختلف ہے وہ تو دس نکات پر سب کو اپنے پیچھے چلانا چاہتے ہیں ان کے حامی واضح طور پر امام خمینی کی مثال دیتے ہیں تو ایک فدائی نے ان کی چی گو یرا سے بھی تشبیہہ دے دی۔ کسی نے کہا چی گویرا بلٹ پروف لینڈ کروزر اورایئرکنڈیشنڈ کنٹینر ہی کے ذریعے انقلابی جدوجہد کرتے رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ حکمران جماعت باقاعدہ ایک جماعت ہے اور اس کے ماننے والے بھی ہیں کیا ان کے انقلابی نعرے سے ملک میں فساد کی صورت نہیں ہوگی اور کہیں یہ بھی عراق اور شام تو نہیں بن جائے گا؟ اس کا جواب محترم علامہ طاہر القادری پر قرض ہے ۔

دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ نے ایک بہت بڑے شو کا اہتمام کیا ہے اسے متفق علیہ بنانے پر بھی محنت کی اور سب کو شرکت کی دعوت دی۔ موضوع کے اعتبار سے انکار کی گنجائش کہاں؟ لہذا کل ( اتوار) یہ شو بہت کامیاب ہوگا۔ تاہم ڈاکٹر طاہر القادری اور محترم عمران خان کو ان کی اس تجویز پربھی غور کرلینا چاہئے جو اپیل کی صورت میں ہے کہ سونامی مارچ اور انقلاب ملتوی کردیا جائے فوج کو اتحاد کی ضرورت ہے ۔ متحدہ کے قائد الطاف حسین نے یہ کہہ کر ڈاکٹر طاہر القادری کی ہمت افزائی کی کہ عوامی تحریک سے متحدہ کے اتحاد کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔ الطاف حسین نے آس بھی لگادی ہے۔ آگے اللہ جانے ویسے جنرل (ر) پرویز مشرف کو مدعو کیا جانا اہم ہے ۔دعوت قبول ہوگئی شاید شرکت بھی ہوہی جائے۔

مزید :

تجزیہ -