سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مزید اہم انکشاف

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مزید اہم انکشاف
سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مزید اہم انکشاف

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے مزیداہم انکشافات سامنے آئے ہیں اور ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار نے مظاہرین پر فائرنگ کے واقعہ سے قبل تمام افسروں کو کوٹھا پنڈ طلب کرکے اہم اجلاس کیا، اس اجلاس میں گلوبٹ بھی موجود تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 30 منٹ کے اس اہم اجلاس میں ہر صورت رکاﺅٹیں ختم کرنے اور مظاہرین پر جوابی حملے کی فائرنگ کرنے کا حکم دیا گیا۔ معلومات کے مطابق چھ اورسات جون کو رات گئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر رکاوٹیں ختم کرنے پہنچے مزاحمت کے باعث پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوگیا۔ پولیس نے اشگ آور گیس کے استعمال کے علاوہ مظاہرہ پر لاٹھی چارج کیا جبکہ کارکنوں نے پولیس پر پتھراﺅ کیا اور آہنی ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق اور ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار سے موبائل فون پر مسلسل رابطہ تھا اور وہ دونوں افسروں کو ہدایات جاری کرتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم شخصیات کی جانب سے سخت کارروائی کی ہدایات ملنے کے بعد فائرنگ کے واقعہ سے قبل ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار نے وائرلیس پر تمام افسرون کو کوٹھا پنڈ پوائٹ پر میٹنگ کے لئے طلب کیا جس میں ایس پی ہیڈ کوارٹر معروف واہلہ، ایس پی سیکیورٹی سلیمان علی خان، ایس پی طارق عزیز، ایس پی سیکیورٹی علی خان، ایس پی طارق عزیز، ایس پی عمر چیمہ، ایس پی مجاہد عبدالرحیم شیرازی، ایس پی ماڈل ٹاﺅن انویسٹی گیشن، ایس پی صدر ملک اویس اور ایس پی علامہ اقبال ٹاﺅن اور دیگر افسروں کو حکام کی جانب سے ملنے والے حکامات سے آگاہ کیا۔

مزید :

لاہور -