50ء کی دہائی میں آپ نے جو اڑن طشتری دیکھی ،وہ ہم تھے:سی آئی اے

50ء کی دہائی میں آپ نے جو اڑن طشتری دیکھی ،وہ ہم تھے:سی آئی اے
50ء کی دہائی میں آپ نے جو اڑن طشتری دیکھی ،وہ ہم تھے:سی آئی اے

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکی ایجنسی سی آئی اے نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر ایک ٹویٹ کے ذریعے 50ءکی دہائی میں یورپ میں نظر آنے والی پُراسرار اڑن طشتری کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ خفیہ ایجنسی نے 60 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد ناروے میں آسمان پر دیکھے جانے والے عجیب نظاروں کی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔ 1950ءمیں جب یہ عجیب نظارے دیکھنے کو ملے تو ناروے کی سرکاری رپورٹس میں یہ لکھاگیا کہ یہ خلائی مخلوق کے جہاز ہیں، جو بہت دور آسمان پر پرواز کر رہے ہیں۔ لیکن سی آئی اے کا شکریہ، جس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس حقیقت کو کچھ اس طرح آشکار کیا کہ ” کیا آپ کو 1950ءمیں آسمان پر ہونے والی غیرمعمولی سرگرمیوں کے بارے میں یاد ہے، دراصل وہ ہم تھے۔ وہ کوئی اڑن طشتری نہیں بلکہ امریکہ کا U2 نامی جہاز تھا، جو اس وقت 60 ہزار فٹ کی بلندی پراڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جب ایسا سوچنا بھی ممکن نہ تھا۔ اتنی بلندی پر اڑنے کے دوران جب جہاز پر سورج کی شعاعیں پڑیں تو وہ سلور رنگ کو منعکس کرنے لگا۔ واضح رہے کہ سی آئی اے نے گزشتہ ماہ ہی ٹویٹر جوائن کیا اور قلیل عرصہ میں اس کے فالورز کی تعداد 6لاکھ 30ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -