صدام حسین کا گاﺅں ISIS کے ہاتھ سے نکل گیا

صدام حسین کا گاﺅں ISIS کے ہاتھ سے نکل گیا
صدام حسین کا گاﺅں ISIS کے ہاتھ سے نکل گیا

  

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں شدت پسند گروپ الدولة الاسلامی (ISIS) کی متعدد کامیابیوں کے بعد بالآخر عراقی فوج نے بھی جوابی وار شروع کردئیے ہیں اور خونریز جنگ کے بعد سابق صدر صدام حسین کے آبائی گاﺅں اوجاکو شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کروالیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا پولیس اور شہریوں کے بیانات کے مطابق عراقی فوج نے رضا کار  جنگجوﺅں کی مدد سے ایک گھنٹے کی جنگ کے بعد شدت پسندوں کو شکست دے دی۔ اوجاگاﺅں تکریت شہر سے 8 کلومیٹر کے فاصلہ پر جنوب میں واقع ہے۔ شدت پسندوں نے پچھلے ماہ اس شہر پر قبضہ کرلیا تھا۔ عراقی فوج نے تکریت پر دوبارہ قبضہ کرنے کیلئے 28 جون کو آپریشن کا آغاز کیا تھا لیکن ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ہوسکی۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی کے دفاعی نمائندے نے بیان دیا ہے کہ اوجا کو شدت پسندوں سے ممل طور پر پاک کردیا گیا ہے اور آپریشن میں 30 شدت پسند مارے گئے۔ عراقی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اب سمارا شہر سے لے کر اوجا تک 50 کلومیٹر ہائے وے ان کے قبضہ میں ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -