سازشوں نے ملک کو الجھا دیا

سازشوں نے ملک کو الجھا دیا
 سازشوں نے ملک کو الجھا دیا

  



گہری سازشوں نے ملک کو مکڑی کے جالے کی طرح الجھا دیا ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے وعدوں، خوبصورت خوابوں کی آڑ میں عوام کو بہلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف خانہ جنگی پر اُکسایا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر بندوق کسی کی ہے اور کندھا کسی کا ہے۔ کھاپی کر اور موج مستی کر کے دوسروں کو تقسیم کرنے والے اپنی تقسیم سے تو بچ گئے مگر ان کے دلوں میں دوسروں کی تقسیم کا شوق انگڑائیاں لے رہا ہے اور یہ انہی سازشوں کا بویا ہوا بیج ہے کہ پاکستان آج بھی سیاسی، اقتصادی اور انتظامی بحرانوں کا شکار ہے اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ تاہم چاروں اطراف خطرات کے باوجود پاک فوج کا کردار قابل ستائش ہے کہ وہ وطن دشمنوں کے خلاف ڈٹ چکی ہے اور نا قابل یقین کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔

قوم چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے مثالی کردار کی مداح ہے کہ وہ نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف بلکہ جرائم پیشہ افراد کے سہولت کاروں کے خلاف بھی نا قابل شکست رہنا چاہتے ہیں اور ملک میں جمہوریت ہی ان کی اولین ترجیح ہے۔ مگر یہ جمہوری حکمرانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ محض جمہوریت کو پانچ سال پورے کرنے اور چند با اثر افراد کی لونڈی سمجھنے سے گریز کریں۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسا خونی واقعہ ہو چکا ہے اور وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ یہ سانحہ کسی ڈراؤنے خواب کی طرح ذمہ داروں کا پیچھا کرے گا۔

حکومت وقت کے لئے زیادہ ضروری ہے کہ وہ کسی فرار کی بجائے اپنی کمزور ہوتی سیاست پر مکمل توجہ دے اور جس طرح زرداری حکومت نے اپنے پانچ سال محض جمہوریت کے نام پر ضائع کر دیئے اور اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اپنی بقیہ مدت ضائع نہ کرے اور جلد سے جلد جمہوریت کے سنہری اصول یعنی عوام کی حاکمیت، عوام کے ذریعے، عوام پر نافذ کریں اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو انکے سیاسی سفر کو محفوظ بنا سکتا ہے اور وقت تھوڑا ہے۔

مزید : کالم