5جولائی1977ء ۔۔۔ پھر جولائی کاانتظار

5جولائی1977ء ۔۔۔ پھر جولائی کاانتظار
 5جولائی1977ء ۔۔۔ پھر جولائی کاانتظار

  



آج 5جولائی ہے اورلوگ پھراس مہینے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کس کاانتظارہے؟کرپشن ختم ہونے کایاپانامہ لیکس کافیصلہ ہونے کایاپاکستان کی تنہائی ختم ہونے کایاکشمیرکامسئلہ حل ہونے کایااس کاجوسارے کام کرے اورملک کوصحیح سمت میں لے جائے۔

5جولائی ہمیں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی یاد دلاتا ہے جب پیپلز پارٹی کی حکومت اورپاکستان قومی اتحادکے درمیان مذاکرات ہورہے تھے اورجب اتفاق رائے پیدا ہو گیا تو مارشل لاء لگ گیا۔5 جولائی کے مارشل لاء پردرجنوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں دانشوروں نے تبصرے کئے ہیں اورکچھ لوگوں نے آنکھوں دیکھا حال بھی لکھاہے۔کہنے کی حد تک مارشل لاء لگنے کی وجہ سیاسی عدم استحکام تھا۔الیکشن میں دھاندلی کاالزام اور سیاستدانوں کااتفاق رائے پیدانہ کرنا تھا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت وقت حالات کی خرابی کاکبھی احساس نہیں کرتی۔حکومت نشے اورطاقت میں فیصلے کرتی ہے اپوزیشن سے کیڑے مکوڑوں کی طرح ڈیل کرتی ہے۔ پارلیمنٹ کوبے وقعت بنا دیا جاتا ہے5جولائی کوجنرل ضیاء نے منتخب حکومت کاتختہ الٹ دیا۔مارشل لاء لگانے کے اقدام کوسراہنے والوں نے بھی بعدمیں اس پر شدید تنقیدکی دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ چنددن آنے کاوعدہ کرنے والوں اوراصلاحات کے ایجنڈے پر حکومت کاتختہ الٹنے والے دوحکومتوں کے Tenure سے زائد وقت گزاردیتے ہیں۔لیکن نہ ادارے قائم کرتے ہیں اورنہ ہی دورس نتائج کے حامل اقدامات اٹھاتے ہیں جنرل ضیا ء الحق کے مارشل لاء کوخوش آمدید کہنے والے اورکابینہ میں شریک رہنے والوں نے بعد ازاں جنرل ضیاء الحق کی بھر پور مخالفت کی۔ ایئر مارشل اصغرخان سے جنرل ضیاء الحق نے وعدہ کیاکہ وہ بروقت الیکشن کرادیں گے لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔ ہمارے محب وطن دانشورجنرل ضیاء الحق کے دوست اورذوالفقارعلی بھٹوکے دورحکومت میں ہرطرح کی تکلیفوں سے گزرنے والے بھی آج1977ء کے مارشل لاء کوغلط قرار دیتے ہیں اورآج کی خرابیوں کواس دورسے جوڑتے ہیں۔ بدقسمتی سے کوئی بھی ماضی سے سبق نہیں سیکھتا۔ بھٹوکے دورحکومت میں اصلاحات کے نام پرمتوسط طبقے کورونددینے کاالزام تھا۔مخالفین کے خلاف کاروائیاں روکنے کا نام نہیں لیتی تھی لیکن 1973ء کے آئین جیسے اچھے کام بھی ہوئے تھے۔ 5 جولائی1977ء کامارشل لاء گیارہ سال چلتا رہا جس کے دوران منتخب وزیراعطم کوپھانسی دی گئی۔ افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف پاکستان کواستعمال کیا گیا۔ دومرتبہ بلدیاتی اور1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے۔اس طرح سیاستدانوں کی نئی کھیپ تیارکی گئی۔اگرصحیح معنوں میں دیکھاجائے توآج کے قومی لیڈرانہی غیرجماعتی بلدیاتی اورعام انتخاب کی پیداوار ہیں اوراکثریت جمہوریت اور سیاست کونہیں سمجھتی۔گلی محلے کی سیاست اورتھانہ کچہری کے معاملات پارلیمنٹ کے ارکان کے کام رہ گئے ہیں۔منتخب ہونے کیلئے صرف پیسے کی ضرورت ہے۔اوریہی وجہ ہے کہ کرپشن اپنے عروج پرہے۔1977 میں دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی توآج کرپشن کے خلاف تحریک چلانے کی بات ہورہی ہے۔افسوس صرف یہ ہے کہ کوئی بھی حقیقت کی طرف نہیں آرہا۔دوسال قبل عمران خان نے دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا تو باقی اپوزیشن نے حکومت کاساتھ دیاجبکہ عمران خان انگلی اٹھنے کاانتظارکرتے کرتے دھرناختم کرکے چلے گئے۔ ڈاکٹرطاہرالقادری اپنی بانسری بجانے کیلئے جب دل چاہے آجاتے ہیں اورShowکرتے ہیں کہ انہیں طاقتوں کی سپورٹ حاصل ہے مگرکچھ حاصل نہیں ہوتا۔

جولائی2016پھر5جولائی1977ء کی طرف دیکھ رہاہے۔ملک میں سیاسی افراتفری ہے۔ کراچی اور بلوچستان کے حالات خراب کئے جا رہے ہیں ۔مخصوص طاقتیں ملک کونقصان پہنچانے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔آرمی چیف کوکراچی جانا پڑا۔ ایک طرف وزیرداخلہ اوردوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ کوبٹھاکروعدہ کیاکہ کراچی کی زندگی معمول پرلائیں گے اورامن کے حصول کامشن جاری رہے گا۔ مجرموں کوپاک کرکے دم لینگے جبکہ عدالتیں حکومت کی کارکردگی سے سخت ناخوش ہیں اورسپریم کورٹ کہتی ہے کہ حکومت عدالتوں کے فیصلوں پرعمل نہیں کررہی ۔حکومتیں سمجھتی ہیں کہ انکے اقدامات چیلنج نہیں ہوسکتے۔فوجی ترجمان اور دفترخارجہ کے ترجمان کہتے ہیں کہ فوج جمہوریت کی حامی ہے اورجنرل راحیل شریف کویہ اعلان کرنا پڑ رہاہے کہ کرپشن کے خلاف جنگ میں فوج ساتھ دے گی۔کرپشن کے خلاف کچھ نہ کچھ توہورہاہے لیکن یہ تاثرتیزی سے ابھررہاہے کہ احتساب صرف بلوچستان اور سندھ میں ہورہاہے۔اچھی بات صرف یہ ہے کہ کہیں بھی انتقامی کاروائی نہیں ہورہی ہے اورنہ ہی جھوٹے مقدمات قائم کئے جارہے ہیں جبکہ پنجاب اورکے پی کے میں برائے نام احتساب ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیادونوں صوبوں میں کوئی کرپشن نہیں ہورہی؟

پارلیمنٹ کی حالت یہ ہے کہ اس میں ارکان کی اکثریت اجلاسوں میں نہیں آتی۔قومی بجٹ میں درجنوں ارکان شریک نہیں ہوئے۔پارلیمانی کمیٹی نہ توپانامہ لیکس کامعاملہ حل کرپائی ہے اورنہ ہی الیکشن کمیشن مکمل کرسکی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب میگا منصوبے بنانے کے ماہر ہیں اور ان میں کرپشن بھی نہیں ہونے دیتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میگامنصوبوں سے غریب آدمی کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب تین سال حکومت کرنے کے باوجود جاری ہے۔لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں مہنگائی کاجن بوتل سے باہرآچکاہے۔ٹیکسوں کی بھرمار ہے لیکن لوگوں کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پانامہ لیکس پرٹی او آرکمیٹی میں کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔ دکھ کی بات ہے کہ اتنے بڑے بڑے ماہرین یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ریفرنس کیا ہونا چاہئے۔ اگر پارلیمنٹ کے یہ لوگ فیصلے نہیں کرسکتے توپھرایسی پارلیمنٹ کا کیا فائدہ۔ پارلیمنٹ تو لوگوں کوریلیف دیتی ہے۔لوگوں کی امیدوں کا مرکز ہوتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن پارلیمنٹ کی طرف دیکھتی ہیں۔اس مایوسی اوربے یقینی کی حالت میں لوگوں کوپارلیمنٹ سے ہٹ کرکہیں اور دیکھنا پڑ رہا ہے۔ جولائی2016ء کو 5 جولائی 1977ء کے حالات سے موازنہ کرنا پڑ رہا ہے۔ جنرل راحیل شریف کواقتدارکی کوئی خواہش نہیں لگتی انہوں نے تواپنی ملازمت میں توسیع لینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ حکمران پارٹی اپنے خوف سے اوراپوزیشن نجات دہندہ کے طورپرجنرل راحیل کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ 5 جولائی1977 کو دہرانا مسائل کاحل نہیں اورنہ ہی کوئی انقلاب برپاکرکے اس کودرمیان میں چھوڑتاہے ۔اس لئے تین سال کی حکومت پرکون اعتبارکرے چاہے اسکی پشت پرعدلیہ اورعسکری طاقتیں ہوں۔ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم ہی اپنی اصلاح کرلیں اورماضی سے سبق سیکھیں۔ جنرل ضیاء الحق کیلئے مارشل لاء لگانے کاکوئی جواز نہیں تھاآج بھی مارشل لاء لگانے کاکوئی جواز نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بے یقینی کی فضاء سے ملک اور قومیں زندہ نہیں رہتیں۔پارلیمنٹ اورعدلیہ کارول ختم ہوجائے تو پھر کس طرف دیکھا جاتا ہے؟ احتساب نہ ہو اور انصاف ختم ہو جائے توکون انقلاب کوروک سکتا ہے؟ یہی 5 جولائی کاسبق ہے اور ہمیں اسکو یاد رکھنا چاہئے کہ معاملات ٹھیک کرکے ہی جولائی2016ء کے خوف سے نکل سکتے ہیں اور بین الاقوامی تنہائی کودورکرسکتے ہیں۔

مزید : کالم