ضرورت عوام

ضرورت عوام
ضرورت عوام

  

شہنشاہ عالم پناہ ذی وقار(والد گرامی) نے مجھے اپنا ہونہار ولی عہد مانتے ہوئے، اپنی بے پناہ املاک میں سے ایک سرسبز و شاداب قطعۂ زمین عطا کیا ہے، جس پر مَیں ایک ملک آباد کرنا چاہتا ہوں۔ اس قطعۂ زمین میں قدرت کے خزانے پوشیدہ ہیں، ان خزانوں سے کماحقہ اِستفادے کی غرض سے مجھے ’’عوام‘‘ کی ضرورت ہے۔ عوام سے میری مراد، مردوزن، عقل مند، بے وقوف، کمزور، بہادر، جنونی، قنوطی، محنتی، سست الوجودوغیرہ ہر قسم کے عوام شامل ہیں۔ایسے عوام جو اپنے ممالک میں ناخوش ہوں یا کسی اور جگہ اپنی قسمت آزمائی کے قائل ہوں،بے دھڑک یہاں آکر آباد ہو سکتے ہیں، مگر چند شرائط پر۔۔۔ یہ شرائط ہرگز ایسی نہیں ہیں کہ کوئی عام انسان ان پر پورا نہ اتر سکے، بس اتنا دھیان رکھنا ہے کہ میرا حقِ حکمرانی مجروح نہ ہو، کیونکہ مَیں ایک پیدائشی حکمران ہوں اور ایسے حکمرانوں میں بہت سی صفات بھی ہوتی ہیں۔ہاں البتہ چیدہ چیدہ خصوصیات کا ذکر نہ کرنا بھی ’’شانِ حکمرانی‘‘ کے خلاف ہے اور مَیں یہ فرض بھی پورا کرنا چاہتا ہوں تاکہ میرے ’’متوقع عوام‘‘ ہربات سے آگاہ رہیں۔ میری پہلی خوبی یہ ہے کہ مَیں نہایت خوبصورت ہوں اور پرانے دیومالائی تصورات کے مطابق کسی دیوتاجیسا رنگ وروپ رکھتا ہوں۔ عام طور پر دنیا میں حکمران عجیب و غریب وضع قطع کے پائے جاتے ہیں جو حکمران ہوتے ہوئے بھی ’’غلام‘‘ سے لگتے ہیں، حتیٰ کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے ’’روشن خیال بیوقوف‘‘ عوام نے تو انتہا کردی ہے کہ ایک گندمی نما، کالے بندے کو حکمران چن لیا ہے، مَیں تو ایسے عوام پر لعنت بھیجتا ہوں، جن میں ذرا بھی ’’ذوقِ جمال‘‘ نہ ہو۔ مَیں تو اپنے جیسے ’’گورے چٹے، سوہنے من موہنے‘‘ ٹائپ کے حکمران کا قائل ہوں۔میری دوسری خوبی یہ ہے کہ میرے اندر ایک نہایت درد منددل دھڑکتا ہے۔ عوام دکھی ہوں تو میرے دل کی تڑپ فزوں ہو جاتی ہے اور درحقیقت یہی تڑپ میرے دل کا سکون ہوتی ہے۔ عوام اگردکھی نہ ہوں تو مجھے لگتا ہے میرے دل کی دھڑکن بند ہو جائے گی، لہٰذا ہر صورت میں مجھے دکھی عوام پسند ہیں۔

میری ایک اور خوبی جو اکتسابی ہے، وہ یہ ہے کہ شہنشاہ عالم پناہ( والد گرامی) نے متعدد استادانِ فن کے توسط سے مجھے فنِ تقریر میں ماہر کردیا ہے اور مَیں ہر قسم کی تقریر پر عبور رکھتا ہوں۔ آپ حیران ہوں گے اگرچہ عوام بھوکے ہوں، ننگے ہوں یا کنگلے ہوں، میرے چند الفاظ کی تقریر انہیں مسحور کرسکتی ہے اور وہ اپنی بھوک، لباس یا معاش یکسر بھول جائیں گے۔ فنِ تقریر کے ساتھ ساتھ میرے اندر قائدانہ صلاحیتیں بھی ایسے سمودی گئی ہیں کہ عوام اگرچہ ’’لولے لنگڑے‘‘ ہوں، میرے قدم کے ساتھ قدم ملا کر دوڑیں گے اور منزلِ مراد پائیں گے۔ اپنے متوقع عوام کی مزید تعلیم کے لئے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ شہنشاہ عالم پناہ(والد گرامی) نے چند مصاحب خاص بھی تحفتاً میرے ساتھ کئے ہیں جو کہ ہر لحاظ سے ’’دانشور‘‘ محسوس ہوتے ہیں۔ میرے یہ مصاحب عوام کے تمام تر دکھوں، دردوں کا فوری اور ’’کافوری‘‘ علاج اپنے پاس رکھتے ہیں۔ان مصاحب کو باقاعدہ ترقی یافتہ ممالک سے تربیت بھی دلائی گئی ہے کہ عوام اگر دکھی ہوں تو انہیں دکھی رکھ کر مطمئن کیسے کیا جاسکتا ہے۔ یہ مصاحب خاص ہی تو دراصل میرے دست و بازو ہیں اور مجھے ان کی ’’کارکردگی‘‘ پر ناز ہے۔بہر حال یہ تو ایک معمولی ساتعارف تھا، اصل مزاتو عوام کو تب آئے گا، جب وہ میرے زیر نگیں اپنی زندگیاں بسر کریں گے۔ اب مَیں اس بات کی طرف آتا ہوں کہ مجھے کس طرح کے عوام پسند ہیں جو میرے ملک کو آباد کریں، خود بھی شاد رہیں اور مجھے بھی شاد کریں۔میرے ملک میں آباد ہونے والے عوامی رکن کے لئے ضروری ہے کہ وہ :

1۔ٹینشن فری ہو اور فلسفۂ موت و حیات پر یقین کامل رکھتا ہوکہ موت کسی وقت بھی نازل ہو سکتی ہے اور زندگی کے لمحات کو ہیچ سمجھتا ہو ،بلکہ زندگی کو زندگی ہی نہ سمجھے۔

2۔بحیثیت مسلمان تمام ارکان اسلام اسے زبانی یاد ہوں، مگر ان کی رُوح سے نابلد ہو۔

3۔نہایت کمزور یادداشت یا ایسی یادداشت کا مالک ہو کہ حکمران کی زیادتی بھولتا رہے اور نوازش کو یاد رکھے ۔

4۔وہ اس بات پر یقین رکھتا ہوکہ کسی دوسرے رکن کا مال ہضم کرنا کوئی گناہ نہیں ہوتا اور ہر وقت نفسا نفسی پر تیار رہتا ہو۔

5۔اگرچہ صحت کے مسائل سے دوچار رہتا ہو، مگر جعلی دوائیں خرید نے اور استعمال کرنے میں عار محسوس نہ کرے۔

6۔نہایت جلد باز، تُنک مزاج ہو، کسی لائن میں کھڑا ہونا پسند نہ کرے اور ٹریفک سگنل تو اس کے لئے وبال جان ہو، یعنی وہ دھکم پیل پر کامل یقین رکھتا ہو۔

7۔ذرا ذراسی بات پر بھڑک اٹھنا، اضافی قابلیت شمار ہوگی، لہٰذاسیماب صفت ہو اور ٹِک کر کھڑا ہونایابات سننا گوارانہ کرے۔

8۔اپنے کاروبار یاملازمت میں دیانت کو نقصان دہ سمجھتا ہو۔بس مال ہتھیانے پر یقین رکھتا ہو اور اپنی دکان یا ٹھیلہ عین اس جگہ پر جمائے جو عام لوگوں کی راہ گزر ہو۔ (اس سے وہ تمام لوگ جو سیدھا چلنے کے عادی ہیں، انہیں ورزش کا موقع ملتا ہے)۔

9۔اپنا گھٹیا مال بیچنے کی خاطر جھوٹی قسمیں اُٹھانے سے دریغ نہ کرے اور ڈھٹائی سے قسمیں اٹھاتا جائے۔

10۔ اپنے حکمران کی بے تکی بات پر بھی تالی پیٹے اور واہ واہ کرتا رہے۔

11۔ کسی دوسرے رکن کو بیوقوف بنانا اور مسلسل رزقِ حرام کی کھوج میں رہنا اس کا طرۂ امتیاز ہو۔

12۔ اپنے پیٹ کی خاطر، کسی دوسرے رکن کا پیٹ کاٹ دینے میں بھی عار محسوس نہ کرے۔

13۔ اگر کبھی چہار جانب سے مسائل کا سامنا ہو تو اپنی ’’خودی‘‘ کو ’’بے خودی‘‘ میں فوری تبدیل کرنے کا ہنر جانتا ہو۔

14۔ حکمران اور اس کے مصاحبان کی خدمت و قربانی کے لئے ہمہ وقت چوکس رہے ، مگر جب وہ سامنے موجود نہ ہوں تو دل کی بھڑاس گالیوں کی صورت میں نکالے۔(دراصل یہ مُنافقانہ خوبی ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی)۔

15۔مَیں چونکہ اپنے ملک کی آبادی تیزی سے بڑھانا چاہتا ہوں تاکہ اردگرد کے ممالک بھی میرے ملک کو ایک ملک سمجھیں، جس سے اقوامِ متحدہ میں بھی جلد رکنیت حاصل ہوسکے، اس لئے مطلوبہ رکن کے اندر ایک انتہائی اہم خوبی یہ بھی ہونی چاہئے کہ دھڑا دھڑ بچے پیدا کرنے میں ماہر ہو اور اس بات کا قطعاً غم نہ کھائے کہ اس کے وسائل کیسے ہیں؟

بہر حال رکن موصوف کے لئے مذکورہ چند خوبیاں تو ازبس ضروری ہیں۔ میرے مصاحبانِ خاص بھی وقتاً فوقتاً تربیت دیتے رہیں گے اور عوام کے لئے نئے نئے منصوبے تیار کرتے رہیں گے۔جوق درجوق میرے ملک میں شمولیت اختیار کریں۔ آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے میرے مصاحبِ چشم براہ ہیں۔

نوٹ:فی الحال انٹری مفت ہے، مگر دیر ہو جانے کی صورت میں ویزہ جیسی پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں، لہٰذا موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

مزید : کالم