نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (4)

نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (4)
 نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (4)

  

اس پس منظر میں سندھ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد ڈاکٹر بخشانی کے الفاظ میں یہ تھا کہ ’’سندھ شاید ہندوستان کا سب سے پرانا صوبہ ہے اس کی اپنی تاریخ ثقافت اور روایات ہیں۔ اس کی نسلوں اور زبانوں کو شرقی امتیاز حاصل ہے۔ اس کی زمین اور پتھروں سے اس کی قدیم تحریکیں اور جغرافیائی تبدیلیاں اگلوائی جا سکتی ہیں۔ یہ سب غیر دریافت شدہ پڑا ہے اور عربی، فارسی اور سندھی زبانوں کو ان کی زبان دانی کے ورثے سمیت دریافت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی، چنانچہ1947ء میں صورتِ حال یہ تھی کہ سندھ یونیورسٹی کو پشت پر لٹے ہوئے سندھی زبان کی پوزیشن مضبوط تھی۔سندھ میں یہ عدالتوں، انتظامیہ اور صحافت کی زبان تھی، جہاں اس کی بڑی مانگ تھی اور جو شخص سندھی زبان میں تعلیم حاصل کر لیتا اسے آسانی سے ملازمت مل سکتی تھی۔تمام سکولوں میں ذریعہ تعلیم سندھی زبان تھی اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں مختلف سطحوں پر مطالعہ کا مضون بھی تھی۔ قیام پاکستان کی تحریک میں بھی سندھ پیش پیش تھا اور یہ واحد صوبہ تھا، جس کی اسمبلی نے1945ء میں پاکستان کے حق میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی سندھیوں نے مہاجروں کا آگے بڑھ کر خیر مقدم کیا تھا اور کراچی مہاجروں کے لئے پی آئی بی کالونی سندھ کے وزیراعلیٰ پیر الٰہی بخش نے بنوائی تھی۔کراچی کو کیونکہ پاکستان کا دارالخلافہ بنایا گیا تھا، اِس لئے پاکستان کے حق میں رضا مندی ظاہر کرنے والے تمام سرکاری ملازمین بھی کراچی پہنچے اور ان کے آگے پیچھے یوپی وغیرہ سے اُردو بولنے والوں کی بڑی تعداد بھی کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں آ پہنچی، جن میں سے اکثر اس وجہ سے تعلیم یافتہ اور ہنر مند تھے کہ یوپی کے مسلمانوں نے جہاں علی گڑھ یونیورسٹی سے تحریک پاکستان اٹھی تھی، سر سید احمد خان کی اپیل پر تعلیم حاصل کرنے پر خاطر خواہ توجہ دی تھی، جس کی بنیاد پر ان میں کئی کو انگریزی راج میں سرکاری ملازمتوں کا تجربہ بھی حاصل ہو گیا تھا، جس سے انہیں پاکستان کے انتظامی معاملات چلانے میں بڑی مدد ملی۔

ہندوستان سے اُردو بولنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد میں آمد سے سندھ کے شہروں میں آبادی کا تناسب غیر معمولی طور پر تبدیل ہو گیا۔1951ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی میں ان کی آبادی57فیصد، حیدر آباد میں 66فیصد، سکھر میں54فیصد، میرپور خاص میں 65فیصد اور نواب شاہ میں54فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ چنانچہ اُردو بولنے والوں کی سندھ کے شہروں میں یکایک اکثریت کا مطلب یہ تھا کہ سندھی نہ صرف ثقافتی اور سماجی طور پر، بلکہ تعلیمی اور معاشی طور پر بھی نقصان میں ر ہیں گے،بلکہ نوکریوں کے لئے انہیں اُن سے مقابلہ کرنا پڑے گا ،جن کی مادری زبان اُردو ہے۔یہ کتنا بڑا نفسیاتی دھچکا تھا اس کا غیر سندھی اندازہ نہیں کر سکتے۔ یہ احساس کہ وہ گھاٹے میں آ گئے ہیں اور اپنے ہی صوبے میں ان کی مٹی پلید ہو گئی ہے۔ نئی سندھی مڈل کلاس کے لئے ایک پھوڑے کی طرح تکلیف کا باعث تھا، صرف نوکری اور طاقت کے لحاظ سے نہیں، بلکہ عزتِ نفس کے لحاظ سے بھی۔ کسی کے دِل میں یہ خیال کہ اس کی زبان دیہاتی اور گنواروں والی زبان ہے اسے ذلت کا احساس دِلانے کے لئے کافی ہے۔اُردو بولنے والوں نے بھی کبھی یہ بات چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ سندھ کی ثقافت کو ایک دیہاتی، چنانچہ کم درجے کی ثقافت سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نفسیاتی طور پر بھی اپنی نظرمیں اس کم تر کلچر سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس حوالے سے ایک مہاجر نقطہ نظر بھی ہے، جس کو سمجھنے کے لئے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔انیسویں صدی میں اُردو نے شمالی ہندوستان میں تعلیم یافتہ اشرافیہ کی علامت کے طور پر فارسی کی جگہ لے لی تھی اور ہندوؤں و مسلمانوں کے درمیان کشمکش کے نتیجے میں مسلمانوں کی شناخت بن گئی تھی، چنانچہ یو پی سی بی سے پاکستان آنے والے مسلمانوں کے دِلوں میں یہ تاثر عام تھا کہ پاکستان میں اُردو کو تحفظ اور فروغ دیا جائے گا۔ مقامی زبان کی خاطر اُردو کی اہمیت کو کم کرنے کا خیال اس تصور کے منافی تھا جو وہ اُردو کے برصغیر کے تمام مسلمانوں کی زبان پر ہونے کے بارے میں سنتے چلے آ رہے ہیں۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ہندوستان سے آنے والے مسلمان شہروں کے باسی تھے اوردوبارہ شہروں میں آباد ہو گئے تھے اور شہروں کے لوگ جنوبی ایشیا میں ہی نہیں پوری دنیا میں غیر شہری لوگوں کو کم تر سمجھتے ہیں، چنانچہ بطور شہری باشندوں کے اُردو بولنے والوں کے ذہن میں ایک قدرتی تعصب تھا جس نے انہیں سندھی زبان سیکھنے سے روکا۔ ادھر ریاست کی پالیسیوں نے بھی اُردو بولنے والوں کو سندھی سیکھنے پر مجبور نہیں کیا۔ صورت حال یہ بنی کہ کم از کم شہروں میں جہاں اُردو بولنے والوں کی اکثریت ہو گئی تھی، اُردو زبان سے کام چلایا جا سکتا تھا۔ ادھر مغربی پاکستان کے تمام شہروں میں بھی اُردو اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ کوئی اور زبان مروج دکھائی نہیں دیتی تھی۔

شہروں میں موسیقی، فلمیں، مقبول عام رسالے، اخبارات گفتگو سب کچھ اُردو میں تھا، چنانچہ مہاجروں کو سندھی سیکھنے میں کوئی دلچسپی تھی نہ ضرورت۔ اگر وہ چاہتے بھی تو ایسا نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ تمام کاروبار رسمی یا غیر رسمی اُردو میں ہو رہا تھا۔ ان وجوہات کے سبب اُردو بولنے والے سندھ میں ایک ممتاز اقلیت بن گئے جو سندھیوں سے ہم آہنگی پر آمادہ نہیں تھی، جس کے نتیجے میں سندھی زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے جانے کا معاملہ تعلیم سے ہٹ کر قومیتی سیاست کا حصہ بن گیا۔ سندھ میں اُردو کے غلبے سے پہلا دھچکا سندھیوں کو اس وقت لگا جب سندھ یونیورسٹی کو کراچی سے اٹھا کر حیدر آباد پھینک دیا گیا اور اس کی جگہ کراچی یونیورسٹی قائم کر دی گئی، جس میں البتہ سندھی زبان کی تعلیم کا ایک شعبہ بھی رکھا گیا۔ کراچی یونیورسٹی اُردو بولنے والے دانشوروں کا مرکز بن گئی، لیکن سندھ یونیورسٹی میں ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ ادھر کراچی کیونکہ وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا تھا، اس لئے کراچی یونیورسٹی بھی سندھ کا حصہ نہ رہی جس پر سندھی بہت ناراض ہوئے۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -