یوم سیاہ ۔۔۔ ایک نئے عمرانی معاہدے کے ضرورت

یوم سیاہ ۔۔۔ ایک نئے عمرانی معاہدے کے ضرورت

  

آج 5 جولائی ہے، ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسی دن یعنی 5 جولائی 1977 کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور ملک کا اقتدار خود سنبھال لیا۔ کہنے کو تو ملک کے بھٹو مخالف حلقوں کے لئے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی وہ اسے یوم نجات سمجھتے تھے ان کا خیال تھاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے ہوتے ہوئے انہیں اقتدار میں آنے کا چانس نہیں مل سکتا، انہوں نے سیاسی ماحول کو اپنے لئے سازگار سمجھتے ہوئے اس تبدیلی کو ویلکم کہا اور ایک ایسے اقدام کی حمایت کردی جس کی ملکی آئین میں کوئی گنجائش ہی نہ تھی اور اپنے سیاسی مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے وہ جنرل ضیاء الحق کے ہم رکاب ہوگئے۔ اگرچہ ذوالفقار علی بھْٹو کے انتخاب پر ان کی اپوزیشن ناخوش تھی اور ان کا کہنا تھا کہ بھٹو نے دھاندلی سے خود کودوبارہ منتخب کروایا ہے لیکن یہ اختلافات بات چیت سے حل ہو جاتے ہیں اور اس پر گفتگو بھی جاری۔ تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ پروفیسر غفور احمد کی قیادت میں بننے والی اپوزیشن کی کمیٹی اور حکومت کے مابین اس سلسلہ میں مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے لیکن حقیقت تو یہ ہے دھاندلی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک سے جو ماحول بن چکا تھا ، وہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے لئے انتہائی شاندار تھا اس بحران کا حل ہونا اس کے لئے کسی صورت بھی قابل قبول نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس سے قبل کہ اپوزیشن رہنما اور حکومتی نمائندے مشترکہ طور پر کسی مصالحتی ایجنڈے کا اعلان کرتے جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ پروفیسر غفور احمد مرحوم نے اپنے متعدد انٹرویوز میں اس امر کا اظہار بھی کیا کہ فوج نے مارشل لا لگانے میں جلد بازی کی۔ اسی کمیٹی کے رکن نوابزادہ نصراللہ مرحوم نے بھی اپنی زندگی میں کئی بار فوج کے اقدام پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ لیکن بدقسمتی کہ اس وقت کی اپوزیشن نے عمومی طور پر اس رویے کا اظہار نہ کیا اور پیپلزپارٹی کو اپنی صلیب خود ہی اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑی، سڑکوں سے لے کر کوڑوں کی ٹکٹکی اور پھانسی گھاٹ تک صرف جیالوں نے ہی اس غیر آئینی اقدام کے خلاف مزاحمت کی۔

یہاں تک کہ پیپلزپارٹی کی اعلی ترین قیادت یعنی ذوالفقار علی بھٹو کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جبکہ ہماری اپوزیشن نے 5 جولائی کے اقدام کوآئین کے قتل کی بجائے محض بھٹو حکومت کے خاتمے کے طور پر لیا اور اس تحریک سے یکسر لاتعلق رہی۔

یہاں تک کی بات تو ایک ذکر ہے تاریخی واقعات اور حقائق کا۔ لیکن اس قومی رویے کا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی قیادت نے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف قوم کی جو ٹریننگ کرنا تھی اس معاملہ پر وہ تقسیم ہوگئی۔ جس سے فائدہ اٹھا کر جنرل ضیا ء نے نہ صرف مارشل لا کا دورانئیہ گیارہ سال پر محیط کر دیا بلکہ اپنی ہی منتخب کردہ ایک اور پارلیمنٹ کو ختم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کے اندر قانون اور آئین کے تقدس کا وہ جذبہ پیدا نہ ہوسکا جو اقوام کی برادری میں کسی بھی قوم کو نہ صرف ممتاز کرتا ہے بلکہ اسے ایک مہذب قوم بنا کر ریاست کے سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کی منزل کے حصول کا زینہ بنتا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کی اسی سیاسی و اخلاقی پستی اور مفاد پرستانہ رویوں کا ہی شاخسانہ تھا کہ 12 اکتوبر 1999 کو ملک میں چوتھا مارشل لا جنرل پرویز مشرف نے لگا دیا اور اس بار ہماری وہی سیاسی قیادت اس آئین شکنی کا نشانہ بنی جس نے 5 جولائی 1977 کے مارشل لا کو ایک قومی سانحے کی بجائے ایک سیاسی مخالف کی شکست سے تعبیر کرتے ہوئے اس کا ساتھ دیا اور ایک جمہوری حکومت کی لاش پر اپنے سیاست کا محل تعمیر کرنے کی کوشش کی۔

اس کے بعد ایک تبدیلی یہ آئی کہ تب سے ملک میں ایک کی بجائے دو یوم سیاہ منائے جاتے ہیں۔ ایک 5 جولائی کو اور دوسرا 12 اکتوبر کو۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آج سے دس سال قبل لندن میں ایک چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیا جس میں انہوں نے ایک دوسرے سے متعلق ماضی میں روا رکھے گئے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مستقبل میں کسی بھی غیرآئینی اقدام کے خلاف مشترکہ موقف اختیا ر کرنے کا عہد کیا۔ اس چارٹر آف ڈیموکریسی پر دونوں جماعتوں کے مخالفین بہت تنقید کرتے ہیں اور اسے مک مکا کی سیاست قرار دیتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس بار ملک میں سیاسی دور کی طوالت ماضی کے کسی بھی دور سے زیادہ ہے اور خالصتا جمہوری اور منتخب حکومتوں کا دورانیہ اپنے دسویں سال میں داخل ہو گیا ہے۔ اس میں میثاق جمہوریت کا بڑا عمل دخل ہے جس نے دو جماعتوں کی حد تک سیاسی کارکنوں کی یہ ٹریننگ کردی کہ وہاں غیر آئینی اقدام کو برا سمجھا جانے لگا ہے۔

آج حالات پر نظر ڈالیں تو ملک میں سیاسی تقسیم ایک بار پھر گہری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ سیاسی کشیدگی میں ہر گذرتے روز اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں تحریک انصاف کی شکل میں ایک نئی سیاسی قوت اپنا وجود منوا چکی ہے۔ تحریک انصاف کی مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے ساتھ کشیدگی سیاسی اختلاف کی حدود کو پھلانگتی نظر آرہی ہے۔ اس قسم کی صورت حال ماضی میں اکثر سیاسی سانحات کا باث بنتی رہی ہے،

پچھلے سال لاہور کے حلقہ این اے 122 کے ضمنی الیکشن کے دوران جب سیاسی کشیدگی پورے عروج پر تھی الیکشن سے ایک روز قبل راقم نے گورنر ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم نواز شریف سے پوچھا تھا کہ کیا اب تحریک انصاف کی صورت میں ایک نیا سیاسی فریق سامنے آنے کے بعد آپ پاکستان میں جمہوریت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ بننے کی دعوت دیں گے تو میاں صاحب نے اس پر زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ لیکن آج حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ پانامہ لیکس اور عمران خان نااہلیت کیس وغیرہ کے ایشوز کو ایک طرف رکھتے ہوئے تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ سیاسی اختلاف کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوریت کے تسلسل اور بقا کو یقینی بنانے کے لئے ایک بار پھر چارٹر آف ڈیموکریسی پر ایک ہو جائیں اور اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف خود ہاتھ آگے بڑھائیں اور اس چارٹر کو دو جماعتوں تک محدود رکھنے کی بجائے ایک وسیع تر اتفاق رائے والا عمرانی معاہدہ بنا دیں۔

مزید :

کالم -