پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔ قسط نمبر 21

Jul 05, 2018 | 16:26:PM

مشرقی پاکستان کا سانحہ: میں نے خود بھٹو صاحب سے مشرقی پاکستان کے سانحے پر کبھی گفتگو نہیں کی تھی بلکہ جب کبھی پریس میں اس سانحہ پر کوئی کالم چھپا‘ ان پر یا ان کی پارٹی پر نکتہ چینی کی گئی یا ا ن کو ہدف بنایا گیا تو وہ عموماً اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ ان کا مشرقی پاکستان کے سانحے کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ ایک دفعہ کہنے لگے کہ اگر آ پ لوگوں کے حق کو دبائیں گے تو وہ ایک نہ ایک دن آپ کے خلاف ضرور اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مارشل لاء کا بار بار لگنا اور فوج میں بنگالیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر دیکھ کر ان کے دل میں کہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ حکومت میں انہیں ان کا حصہ کبھی نہ مل سکے گا۔ پھر فوج کا استعمال بھی غلط طریقے سے ہوا اور آخیر میں ہندوستان نے موقع پا کرہمیں دو لخت کرنے پر بڑا کردار ادا کیا۔ جب بھی اس موضوع پر بات ہوئی انہوں نے ہمیشہ زور دے کرکہا کہ ان کا اس میں ذرہ بھر بھی قصور نہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔ قسط نمبر 20پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دفعہ انہوں نے مجھے بتایا کہ روس کی حکومت نے اپنے سفیر کو ان کے پاس بھیجا اور مسٹر مجیب الرحمن کو قید سے رہا کرنے کی درخواست کی تھی‘ کہنے لگے کہ ایک پڑوسی سپر پاور کی درخواست رد کرنا کوئی عقل مندی نہیں تھی اسلئے میں نے مسٹر مجیب کو رہا کرنے کاحکم دے دیا۔

ناشکری قوم: سپریم کورٹ سے ان کی اپیل نا منظور ہونے کے بعد انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم بہت نا شکری قوم ہے۔ میں نے اس قوم کیلئے کیا کچھ نہیں کیا بلکہ اس قوم کو شہرت اور طاقت جس کیلئے میں ہمیشہ کوشاں رہا اس کی سزا مجھے جیل میں بند کر کے دی جا رہی ہے اور میری قوم کو کچھ پروا نہیں ہے۔ کہنے لگے کاش میں ترکی یا جرمنی میں پیدا ہوا ہوتا۔ یہ دو ایسی قومیں ہیں جو میری قدر کرتیں اور مجھے پوری عزت دیتیں۔ ایک اور موقع پر بھٹو صاحب نے کہا کہ جرمن دنیا کی بہتریں قوم ہے۔ دنیاوی طاقتوں نے ان کے حصے بخرے کر رکھے ہیں لیکن وہ دن دور نہیں جب یہ قوم پھر ابھرے گی اور ساری دنیا اس کی قیادت پر فخر محسوس کرے گی۔ انہوں نے ترکوں کی بہادری اور قومیت پر بھی ایک دن اسی قسم کے خیالات کیا اظہار کیا تھا۔

ؓنواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا کیس: بھٹو صاحب نے کئی مرتبہ مجھ سے کہا کہ کرنل رفیع خدا شاہد ہے کہ میرااس کیس سے کسی طرح کا بھی کوئی تعلق نہیں ۔ یہ بالکل جھوٹا مقدمہ ہے اورمجھے اس میں خوامخواہ پھنسانے کوشش کی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے مجھ سے کئی بار کہی ہو گی۔

برے سلوک پر بھٹو صاحب کی شکایات: بھٹو صاحب ہمیشہ شکایت کیا کرتے تھے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے چند مرتبہ مجھے سے کہاکہ وہ ملک کے سربراہ تھے اور ولی خان‘مینگل‘ مری اور بزنجو صاحب کو قید کیا گیا تھا تو انہوں نے ریسٹ ہاؤس کو لاکھوں روپے خرچ کر کے فرنش کروایا تھا تا کہ یہ لیڈر آرام سے اپنے دن گزاریں۔ جب جنرل ٹکا خان صاحب اور پیرزادہ صاحب کو پکڑ کر مارشل لاء حکام نے جنرل صاحب کو مری ریسٹ ہاؤس اور پیرزادہ صاحب کو ان کے کراچی والے گھر میں رکھا تو بھٹو صاحب سخت برانگیختہ ہوئے اور کہنے لگے کہ چونکہ تمھارا فوجی جرنیل ہے جو ریسٹ ہاؤس میں مزے کر رہا ہے تو کیا میں اس ملک کا سربراہ نہیں تھا کہ مجھے جیل میں ٹھونسا ہوا ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ میری عزّت کا سوال ہے۔

ایک دفعہ وہ بڑے طیش میں آگئے اور کہنے لگے’’ کرنل میں ان سب سے بدلہ لونگا‘‘۔ میں نے ان کو آہستہ سے یاد دلایا کہ جناب آ پ اسی قسم کے جملوں کی وجہ سے تو یہ تکلیف برداشت کر رہے ہیں تو انہوں نے فوراًکہا ’’ یہ صرف میرے اور آپ کے درمیان میں ہے‘‘

ایک اور موقع پر وہ اسی طرح طیش میں آگئے اور کہنے لگے اگر ایک بھٹوبھی زندہ رہا تو ضرور بدلہ لے گا۔ جب میں نے پھر ان کو یاد دہانی کرائی تو کہنے لگے ’’کرنل رفیع یہ صرف ہم دونوں میں ہے‘‘

Colonel Rafi, it is only between the two of us.

بہرحال جیل کی کڑی پابندیوں اور نا روا سلوک پر بھٹو صاحب کو بے حد شکایت رہی۔

بھٹو صاحب کا بے مثال حا فظہ: بھٹو صاحب کی یادداشت غیر معمولی تھی۔ وہ پرانی ملاقاتوں کے صحیح الفاظ‘ وقت‘ موقع و محل اور تاریخ بلکہ واقعات کی معمولی تفصیل تک یاد رکھتے تھے۔‘ اور ہر موقع کی بات چیت ‘ حتیٰ کہ لباس اور کیا کچھ کس پیرائے میں کہا گیا تھا معمولی جذبات تک ان کے ذہن میں رہتی تھیں۔ میں نے کچھ کہا تو وہ مجھے کافی مدت کے بعد بھی یاد دلایا کرتے تھے کہ فلاں موقع پر میں نے یہ کہا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ سے اگر میں نے کوئی بات کہی اور اسی موضوع پر بھٹو صاحب سے معمولی اختلاف پر بات ہوئی تو انہوں نے فوراً ہماری پرانی بات کا حوالہ دیا۔ ہم لوگ فوج میں عموماً اپنی ڈائری کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یادداشت ڈائری کی مدد سے واپس لائی جا سکے مگر بھٹو صاحب کے دماغ میں ہر بات نقش ہوجاتی تھی اور وہ معمولی بات کو بھی یاد رکھتے تھے۔ ایسی تیز یادداشت کا مالک کوئی اور شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔

ؓجناب پیرزادہ کی جنرل ضیاء الحق صاحب سے ملاقات: عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب بھی بھٹو صاحب کے وکلاء میں سے ایک تھے۔ وہ بھٹو صاحب کی پنڈی جیل میں اسیری کے شروع کے دنوں میں تو کبھی نہ آئے تھے لیکن سپریم کورٹ سے اپیل کے نا منظور ہو جانے کے بعدوہ کئی مرتبہ جیل میں بھٹو صاحب سے ملے۔ پیرزادہ صاحب 14 فروری سے31 مارچ1979ء تک18 مرتبہ بھٹو صاحب سے ملنے جیل میں آئے۔ اسی دوران شاید مارچ1979ء میں وہ جنرل ضیاء الحق صاحب سے بھی ملے اور بھٹو صاحب کے کیس پر ان سے تفصیلاً بات چیت کی۔ مجھے کہیں سے اڑتی سی خبر ملی کہ پیرزادہ صاحب نے جنرل ضیاء الحق صاحب سے بھٹو صاحب کو معافی کی درخواست کی اور ان سے کہا کہ بھٹو صاحب کی جان بخشی نہ کی گئی تو ملک ایک بڑے بحران سے دو چار ہو گا اور شاید اس بحران کی وجہ سے ملک مشرقی پاکستان کی طرح پھر ٹوٹ جائے لیکن جنرل ضیاء الحق صاحب نے ان کی اس دلیل سے اتفاق نہ کیا۔

اس خبر کے سننے کے بعد میں نے بھٹو صاحب سے اس کا ذکر کیا جس پر انہوں نے فرمایا کہ ہاں پیرزادہ نے یہ دلائل میری مرضی کے بغیر ہی جنرل ضیاء کو دئیے تھے۔ یہ سب کچھ ان کا اپنا ہی خیال تھا جسے جنرل ضیاء نے ماننے سے انکار کر دیا۔

بھٹو صاحب کا ہاتھ اور ان کی زندگی کی لکیر: میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیرِ تربیت تھا جب مجھے ایک ساتھی کیڈٹ کے ذریعے دست شناسی کا شوق پیدا ہوا۔ کمیشن حاصل کرنے کے بعد میں نے اس مشغلے کو کافی سنجیدگی سے لیا۔ بہت سی کتابیں پڑھیں ‘ بے شمار ہاتھ بھی دیکھے۔ اب بھی جب کبھی گاؤں جاتا ہوں تو بزرگ خواتین اپنے اہل و عیال کے ساتھ گھیر لیتی ہیں۔ لیکن جب انہیں بتاتا ہوں کہ مجھ سے یہ علم لے لیا گیا ہے تو وہ بہت رنجیدہ ہو جاتی ہیں۔ مگر پھر بھی ا صرار کرتی ہیں کہ میرے اس بچے کی قسمت کے متعلق کچھ بتاؤ۔

کافی عرصہ ہو ا میں نے پامسٹری کو پڑھنا اور پریکٹس کرنا چھوڑ دیا ہے لیکن اس کے باوجود میں کسی بھی ہاتھ کو دیکھتے ہی چند بڑی لکیروں پر نظر دوڑا لیتا ہوں۔

جس دن سے بھٹو صاحب کے ساتھ جیل میں ملنا ملانا شروع ہوا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کا سلسلہ چل نکلا تو میرا دشت شناسی کا پرانا اشتیاق جاگ اٹھا۔ در اصل بھٹو صاحب خوب باتیں کیا کرتے تھے اس دوران ان کی زبان کے ساتھ ساتھ ان کے ہاتھ بھی ہوا میں لہراتے رہتے تھے۔ میری آنکھیں ان کے ہاتھ پر جمی رہتی تھیں۔ ان کے ہاتھوں کی لکیروں کو بار بار دیکھتا رہتا تھا۔ ان کی شمسی اور قسمت کی لکیریں بے حد نمایاں تھیں۔ دل ‘ دماغ اور زندگی کی لکیریں بھی کافی غور سے دیکھیں۔ اس کیس کی وجہ سے میں ان کی زندگی کی لکیر کو بار بار دیکھتا ان کی یہ لکیر سوائے پہلے چند سالوں کے جو عموماً ہر ہاتھ پر ایسی ہی ہوتی ہے‘ باقی گہری‘ صاف ‘ بغیر کسی خلل اندازی یا کٹ کے شروع سے کلائی تک بالکل نمایاں تھی ‘ یعنی زندگی کی لائن ٹوٹ پھوٹ‘ جزیرے یا کٹ وغیرہ سے مبرا تھی۔ یہی نہیں بلکہ مدد گار لکیر بھی موجود تھی۔ مجھے ان کے ہاتھ پر کسی حادثے یا اچانک موت کی کوئی نشانی نہیں ملی۔ اس لئے مجھے یقین ہو رہا تھا کہ ان کو سزاتو ہو سکتی ہے لیکن پھانسی سے ان کی زندگی ختم نہیں ہو گی۔

ان کی اپیل خارج ہونے کے بعد جب ایک روز وہ باتیں کر رہے تھے اور ہاتھ کو میرے سامنے خوب ہلا رہے تھے‘ میں ان کی زندگی کی لکیر کو خوب غور سے دیکھ رہا تھا توکہنے لگے رفیع میرے ہاتھ پر کیا ہے جو آپ اتنے غور سے دیکھ رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا جناب آپ کے ہاتھ پر زندگی کی لیکر سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کافی دراز ہے۔ جواب میں انہوں نے کہاکرنل‘ بھٹو ز ہمیشہ جوانی میں ہی مرتے رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا لیکن آپ کا ہاتھ تو اس کے خلاف کہہ رہا ہے۔ وہ مسکرائے‘ اپنے ہاتھ کو دیکھا اور مجھ سے کہا‘ کیا آپ پامسٹری جانتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ گزشتہ سالوں میں یہ میرا مشغلہ رہا تھا لیکن آج کل اسے چھوڑا ہوا ہے۔ انہوں پھر اپنے ہاتھ کو دیکھا اور میرا خیال تھا کہ وہ اپنا ہاتھ مجھے تھما دیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر کہنے لگے کرنل رفیع آپ نے چودھری یار محمد سے ایک دفعہ کہا تھا کہ دو گردنوں میں سے ایک کو جانا ہے‘ بھٹو کی گردن یا جنرل ضیاء کی گردن۔ چونکہ بھٹو کی گردن اندر ہے اسلئے شایداسے ہی جانا ہو گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں اس سے انکار نہیں کرتا لیکن وہ ایک عام سی خیال آرائی تھی مگر آپ کے ہاتھ کی لکیر تو ایسا نہیں کہتی۔ بھٹو صاحب نے اس موضوع پر اور کچھ نہ کہا بلکہ خودبخود ہی کچھ دیر میں کوئی اور بات چھیڑ دی۔

ّ(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

کمپوزر: طارق عباس

مزیدخبریں