نامور شاعر کی ایسی شرمناک جگت کہ مشورہ لینے والے شاعر کا دل ہی ٹوٹ گیا

نامور شاعر کی ایسی شرمناک جگت کہ مشورہ لینے والے شاعر کا دل ہی ٹوٹ گیا
نامور شاعر کی ایسی شرمناک جگت کہ مشورہ لینے والے شاعر کا دل ہی ٹوٹ گیا

  

لاہور(ایس چودھری )مجازلکھنوی بھی اپنی طبع کے نرالے انسان تھے ۔شعروں کی طرح مزاج میں بھی تیزی تھی اور کاٹ دار جملے کہنے حتٰی کہ قمیض پھاڑ قسم کے جملے بھی کہہ مارتے تھے ۔جس محفل میں وہ ہوتے، ہمعصروں کی کوشش ہوتی کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے کہ اس جملہ کو مجاز اچھال کر رکھ دیں اور انکی جگ ہنسائی ہوجائے ۔مجاز کا پورا نام اسرار الحق مجاز تھا۔19نومبر1911ء کو قصبہ رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ لکھنو سے ہائی اسکول پاس کیا۔ 1935ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کر نے کے بعد 1936ء میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ہونے والے جریدہ آواز کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے ۔ بمبئی انفارمیشن ڈیپارٹ منٹ میں بھی کچھ عرصہ کام کیا ۔ نیا ادب اور پرچم جیسے مقبول پرچوں کی ادارت بھی کی ۔

مجاز انقلابی شاعر تھے ۔انہوں نے محبوبہ کی زلفوں کی مدح سرائی اور ہجروفراق پر شعر کہتے رہنے کی بجائے انقلاب اور آزادی کو موضوع بنایا اور جدید غزل اور نظمیں کہ کر فلموں تک بھی پہنچ گئے تھے ۔ ان کے برجستہ جملوں نے ادبی لطیفوں کی روایت کو کافی ترقی دی تھی ۔جیسا کہ ان سے منسوب یہ فی البدیہہ جملہ لطیفہ بن کر رہ گیا ہے ۔

ایک بار سوز شاہجہانپوری لکھنو کے کافی ہاوس میں گئے اور مجاز کے پاس بیٹھ کر انکی خدمت میں مسئلہ پیش کیا اور کہا’’مجاز ،میں نے اپنا مجموعہ کلام تو مرتب کرلیا ہے ،اب اسکے لئے موزوں نام کی تلاش میں ہوں ،میری مدد کرو کہ کوئی ایسا نام بتا دو جو جدید بھی ہو اور اس میں میرے نام کی رعایت بھی ‘‘ 

یہ سنتے ہی مجاز نے برجستہ کہا ’’ارے صاحب مسئلہ کیا ہے ، سوزاک رکھ لو۔‘‘ سوز شاہجہانپوری اس نام کی کراہت سے ہی شرما گئے اورآزردہ دل لئے سلام کئے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔ 

مزید : ادب وثقافت