امید بہار رکھ

امید بہار رکھ
 امید بہار رکھ

  



پاکستان اور افغانستان کے میچ کے دوران جو ہوا، اس کے پیچھے ایک ایسی لابی کام کر رہی ہے جو اس حق میں نہیں تھی کہ پاکستان دنیا میں سرخرو ہو۔اس لابی کو انڈیا، افغانستان،امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ کہیں تو غلط نہیں ہو گا۔اسی گٹھ جوڑ کے باعث پاکستان میں کرکٹ کے میدان عرصہ دس سال سے سونے ہیں اور اب جب آباد ہونے کی باری آئی ہے تو انڈیا کی باندی یعنی آئی سی سی بہانے تلاش کر کے اور سیکیورٹی وجوہات کا بہانا بنا کر کسی ٹیم کے آنے کے حق میں نہیں ہوتی۔

انگلینڈ میں ہونے والے اس واقع کے بعد ابھی تک نا تو آئی سی سی نے کوئی خاطر خواہ قدم اٹھایا اور نا ہی انگلینڈ کی حکومت نے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس تیزی کے ساتھ دُنیا ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے اور اسے ہالی وڈ کی فلموں میں بہترین عکاسی کر کے دکھایا بھی جاتا ہے۔بالکل اسی طرح کسی فلمی سین کے عین مطابق ہیلی کاپٹر میں بیٹھے لوگوں کا گھناؤنا چہرہ دُنیا کے سامنے لایا جاتا،لیکن ایسا ممکن نہیں ہو ا کیونکہ ایسے سین صرف فلموں کی حد تک تو اچھے لگتے ہیں، مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ر ہ گئی انگلینڈ کی بات تو شاید اس کا اتنا اثرورسوخ نہ ہو یا پھر بدنامی کے ڈر سے میڈیا کے سامنے لانا نہیں چاہتے۔اب یہ تو ہماری دریا دلی ہے کہ ہم نے ابھی تک صرف اس کی تحقیقات کامطالبہ کیا ہے اور اگر ایسا کسی اور میچ میں ہوتا تو شاید اس کا نتیجہ فوری یا چند دنوں میں آجاتا اور پھر سزاوارکو سر عام اپنے کیے کی سزا مل جاتی۔

آئی سی سی کا یہ ایونٹ تین،چار میچز کے باعث مشکوک ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ افغانستان کا انڈیا سے جیتا جتایا میچ،انڈیا کا انگلینڈ سے جیتا میچ اور گزشتہ روز نیوزی لینڈکا انگلینڈ کے خلاف میچ اس ایونٹ کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے، یہاں ایک بات کرتا چلوں کہ جو ٹیم راؤنڈ میچز میں پاکستان اور انگلینڈ سے شکست کھا چکی ہو تو پھر قانون کے مطابق اس ٹیم کو باہر ہو جانا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہو ا اور کیوں نہیں ہو ا اس کا جواب آئی سی سی بہتر جانتی ہے۔لیکن یہی وہ میچز تھے جس میں انڈیا کے اثرورسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح انہوں نے ان میچز کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو باہر کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اب قومی ٹیم کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور قوم کے ارمان منہدم ہو چکے ہیں، لیکن ہونے کو اب بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے، کیونکہ 1992ء میں بھی اللہ رب العزت نے ملک و قوم کی لاج رکھی تھی اور وہ اب بھی رکھنے پر قادر ہے۔

بس مایوسی،ناامیدی کو ختم کر کے قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کی اشد ضرورت اور اس کے ساتھ ساتھ نمازِجمعہ میں دُعاؤں کی ایسی ضرورت ہے کہ مرتا ہوا مریض موت کے منہ سے باہر آجائے اور وہ اپنی زندگی پھر سے جینے لگے۔

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ آج ہونے والے میچ میں اپنی پرفارمنس سے شائقین کے دِل جیت لے اور دُنیا کو یہ بتا دے کہ ہمارے خلاف جیسے مرضی ہتھکنڈے استعمال کر لئے جائیں ہم صبر کی چٹان بن کر ان کا مقابلہ کریں گے اور اس سے پہلے بھی کرتے آئیں ہیں۔ آج بنگالیوں سمیت آئی سی سی کی ناقص پالیسیوں پر انہیں ایسا سبق یاد کروائیں کہ انہیں یہ میچ مدتوں یاد رہے اور دُنیا بھی یہ جان لے کہ ہم کمزور نہیں ہیں۔

آج ہونے والے میچ میں قومی ٹیم کو امام یا فخر کی جگہ آصف کو کھلانے کی اشد ضرورت ہے،حفیظ کو باہر کرنے سے کچھ نہیں ہو گا، کیونکہ جب ہماری اوپننگ ہی کسی کام کی نہیں رہے گی تو دباؤ نیچے کے بلے بازوں پر پڑے گا۔ضروری نہیں کہ ہر کھلاڑی اپنی سو فیصد کارکردگی دے۔گیارہ کھلاڑیوں میں سے میچ ونر ایک دو ہو سکتے ہیں گیارہ کے گیارہ نہیں۔

اسی لئے اگر قومی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتی ہے تب بھی اور اگر ٹارگٹ حاصل کرے تو آٹھ اوور میں میچ ختم کرنے کی تگ و دو کرتی نظر آتی ہے تو انہیں آصف کو بطور اوپنر کھلانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے اور انہیں یہ بتا کر بھیجا جائے کہ کم از کم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چارسو پچاس سے اوپر کا ٹارگٹ ذہن میں رکھ کر جائیں اور یہ ٹوٹل آج کی کرکٹ میں اتنا دشوار نہیں ہے کیونکہ کرکٹ بہت فاسٹ ہو چکی ہے اب اتنا بڑا ٹارگٹ دینے کے لیے سوچنا نہیں،کر کے دکھانا پڑتا ہے اور خاص طور پر جب آپ کی اور ملک کی عزت داؤ پر لگی ہو۔اللہ ہمارے ملک کی عزت کو بڑھائے اور ہمارے پرچم کو بلند رکھے۔ آمین۔

مزید : رائے /کالم