آئی ایم ایف سے نیا قرض مل گیا

آئی ایم ایف سے نیا قرض مل گیا

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے چھ ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی ہے،جن میں سے دو ارب ڈالر اِسی سال ملیں گے یہ پیکیج39 ماہ پر محیط ہو گا،اس قرض کے حصول کے لئے گزشتہ ماہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ ہوا تھا،جس کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے درکار تھی،جو واشنگٹن میں بورڈ کے 3جولائی کو ہونے والے اجلاس میں حاصل ہو گئی۔ آئی ایم ایف ہر تین ماہ بعد پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا، آئی ایم ایف کی ترجمان جیری رائس کا کہنا ہے کہ اس قرضے کا مقصد معاشی صورتِ حال بہتر بنانا ہے، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ قرض اصلاحاتی پروگرام کی سپورٹ کے لئے ملا۔

آئی ایم ایف سے بالآخر منظور ہونے والے اس قرض کے لئے پاکستان نے کتنے پاپڑ بیلے اور کیا کیا قربانیاں پیش کیں،اس موقع پر اُن پر ایک نظرِ واپسیں ڈالنا ضروری ہے، تاکہ پتہ چلے کہ یہ قرض حکومت کو کتنی منتیں مرادیں ماننے کے بعد حاصل ہوا سب سے پہلے تو وزیراعظم کو اس کے لئے اپنے اس آدرش کی قربانی دینا پڑی جس کا پہلا نقطہ ہی یہ تھا ”خود کشی کر لوں گا، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا“ لیکن انہوں نے نہ صرف اس مقصد کے لئے اپنے پندار کا صنم کدہ بیچ چوراہے کے ویران کیا، بلکہ اپنے قریب ترین دست ِ راست اسد عمر کو بھی آئی ایم ایف کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اسد عمر محض پارٹی کے ایک رہنما یا عام سے قومی اسمبلی کے رُکن نہیں تھے وہ پارٹی میں ایسی کلیدی حیثیت رکھتے تھے کہ پارٹی کا ہر کہ و مہ اُن کی شخصیت کا بُت تراشنے میں لگا ہوا تھا، دن رات اس صنم کو تراش تراش کر اس کے نین نقش سنوارے جا رہے تھے،قوم کو بتایا جا رہا تھا کہ اب جبکہ اسد عمر کو خزانے کی کنجیاں تھما دی گئی ہیں وہ ملک کی معیشت کو بدل کر رکھ دیں گے اُن میں ایسی ایسی صلاحیتیں تلاش اور پیدا کی گئیں جن کا شاید خود انہوں نے بھی کوئی دعویٰ کبھی نہیں کیا تھا، وہ سیاست میں آنے سے پہلے ایک بڑی کمپنی کے سی ای او ضرور تھے،لیکن ملک اگر کمپنیوں کی طرح چلتے ہوتے تو دُنیا کا کوئی بھی ملک ایسے تجربات سے گریز نہ کرنا، لیکن اسد عمر کے تجربے سے ثابت ہوا کہ ملک چلانا کوئی کمپنی چلانے سے مختلف کام ہے کئی سال تک اسد عمر کی تعریفوں کے پُل باندھتے باندھتے اُنہیں اچانک اس وقت ہٹا دیا گیا جب وہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کر کے لوٹے تھے۔

اسد عمر نے وزیر خزانہ کا منصب سنبھالتے ہی پہلے تو اعلان کیا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے یہ اعلان اُن کے لیڈر اور وزیراعظم عمران خان کی خواہش،پالیسی اور وژن کے عین مطابق تھا پھر جوں جوں وقت گزرتا رہا وہ اس ضمن میں ایسے اعلانات کرتے رہے،جن میں تضاد بھی پایا جاتا تھا یعنی نیمے دروں نیمے بیروں کی کیفیت تھی تاہم اُن کی جس انداز میں شخصیت سازی کر دی گئی تھی، کوئی ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا کہ وہ ناکام بھی ہو سکتے ہیں یا اُن کا فرمایا ہوا غیر مستند بھی ہو سکتا ہے،اہل ِ وطن ابھی اُن کی صلاحیتوں کے سحر میں گرفتار ہی تھے کہ ایک دن انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعلان کیا کہ اُن کے فلاں فلاں عزائم ہیں اور وہ یہ کریں گے اور وہ کریں گے،لیکن اس اعلان کی گونج ابھی فضا ہی میں تھی اور ان کے فرمائے ہوئے الفاظ کا زیر و بم ابھی اپنے اثرات ہی مرتب کر رہا تھا کہ اُنہیں ایوانِ اقتدار سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا،اگلے دن وزیراعظم نے یہ اعلان بھی ضروری سمجھا کہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ اُن کا روئے سخن اسد عمر کی طرف تھا یا نہیں،اسد عمر کو ہٹاتے ہی دو اور بھی بڑے کام ہوئے،سٹیٹ بینک کے گورنر کو بُلا کر اُن سے بھی شتابی میں استعفا لے لیا گیا یہ اُن کی عالی ظرفی تھی کہ انہوں نے کسی پس و پیش کے بغیر استعفا دے دیا ورنہ وہ انکار بھی کر دیتے تو ان کی قانونی پوزیشن مضبوط ہوتی،اُن کی جگہ مصر سے ایک گورنر امپورٹ کیا گیا، جو وہاں آئی ایم ایف کا ریذیڈنٹ چیف تھا، وہ اتنی عجلت میں آئے کہ معلوم نہیں اس عرصے میں انہوں نے اپنی سابقہ ملازمت بھی چھوڑی کہ نہیں، اور اگر چھوڑ دی تو صرف فنی طور پر ورنہ اُن کا دِل آج بھی آئی ایم ایف ہی میں اٹکا ہو گا۔اسد عمر کی جگہ لینے کے لئے پوری حکمران جماعت میں کوئی رجلِ ِ رشید نہیں تھا، چنانچہ اُن کی جگہ عبدالحفیظ شیخ کو درآمد کیا گیا، جو پیپلزپارٹی کی حکومت میں وزیر تھے اور خزانے کی پالیسیاں بناتے تھے، پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ ہمارے دور کے وزیر کو مشیر بنا کر ہماری اقتصادی پالیسیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی گئی ہے،لیکن یہ بات کوئی سننے کے لئے تیار نہیں۔کیونکہ پیپلزپارٹی کی پالیسیاں روز ہی ہدف تنقید و ملامت ہیں۔

آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کو پاکستان کے بجٹ کی منظوری کا انتظار تھا،اسی لئے بورڈ کے اجلاس کی تاریخ ایسی رکھی گئی تھی جب بجٹ منظور ہو چکا ہو۔ مخالف جماعتیں اِسے آئی ایم ایف کا بجٹ کہہ رہی ہیں وہ نہ بھی کہیں تو بھی صاف نظر آتا ہے کہ بجٹ میں بہت سی شرائط آئی ایم ایف کے کہنے پر رکھی گئی ہیں، ٹیکس ریونیو کا ہدف بھی اُن میں سے ایک ہے، ورنہ پچھلے سال کی نسبت ٹیکس ریونیو40 فیصد بڑھا دینا کوئی حکیمانہ سوچ نہیں،لیکن5555 ارب روپے کا ہدف رکھ دیا گیا ہے، یہ اور ایسی دوسری شرائط نہ مانی جاتیں تو شاید قرض کی منظوری مزید دو چار مہینے آگے جا پڑتی،یاسرے ہی سے انکار ہو جاتا،بجلی، گیس اور دوسری یوٹیلیٹی سروسز کے نرخ بھی آئی ایم ایف کے حکم پر ہی بڑھائے گئے ہیں، بہت سے دوسرے اقدام بھی چغلی کھاتے ہیں کہ اُن کے پیچھے بھی آئی ایم ایف کی دانش و حکمت ہی پوشیدہ ہے،لیکن حکومت یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں،اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ وہ شرائط سامنے لائی جائیں،جو قرض کے حصول کے لئے مانی گئی ہیں۔اگر ایسا ہو جائے تو پتہ چل جائے گا کہ آئی ایم ایف نے کیا منوایا اور ہم نے کیا مانا۔

اپوزیشن جماعتیں بھی اس قرض کی تفصیلات پارلیمینٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں،لیکن اُن کا منہ بند کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اپنے ادوارِ حکومت میں ایسا کیا،اس دلیل میں وزن ہے،لیکن نئے پاکستان کی انتظامیہ اگر پرانے پاکستان کے نقش ِ قدم پر چلتی رہی تو پھر نئے اور پرانے میں فرق کیا پڑا،اِس لئے یہ ضروری ہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض کی تمام تفصیلات پارلیمینٹ میں پیش کر کے نئی مثال قائم کی جائے، ویسے تو اس قرض کی ساری سختیاں بالآخر عوام ہی نے بھگتنی ہیں،جن کا آغاز بجٹ کے ساتھ ہی ہو چکا،اِس لئے کیا مضائقہ ہے کہ عوام کے منتخب ایوان کے سامنے ایسی تفصیلات رکھ دی جائیں، لیکن ہمیں یہ لکھتے ہوئے بھی یقین ہے کہ حکومت ایسا نہیں کرے گی،کیونکہ نئے نئے دعوؤں کے باوجود اس کا طرزِ حکومت وہی پرانا،بلکہ دقیانوسی ہے۔ کل اگر بھینس چوری میں سیاست دانوں پر مقدمہ بنتا تھا تو آج کے پاکستان میں سیاست دان منشیات فروشی میں گرفتار ہوتا ہے، فرمائیے جوہری طور پر دونوں مقدمات میں کیا فرق ہے؟

مزید : رائے /اداریہ