سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل

سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ایک بہترین منصوبہ ہے۔ سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ہر حال میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ وزیراعظم نے سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ادارے کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں۔ سی پیک منصوبوں کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس میں وزیراعظم کو جاری منصوبوں کی رفتار کار کی رپورٹ پیش کی گئی ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقے ملکی معیشت کے لئے انجن آف گروتھ کا کام سرانجام دیں اور اس سے نوجوانوں کے لئے نوکریاں اور معاشی سرگرمیوں کے سنہری مواقع پیدا ہوں۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے سی پیک کے ثمرات تمام پاکستانیوں تک پہنچانے پر زور دیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے منصوبوں کی جلد تکمیل کی ہدایت کی ہے، سی پیک پاک چین بھائی چارے کا حقیقی عکس ہے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سی پیک کے منصوبے اگر پروگرام کے مطابق مکمل ہو جائیں تو ان کے فوائد سے عوام مستفید بھی ہوں گے اور ان کی افادیت نظر بھی آئے گی، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی جانب سے کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے ان منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ابھی زیادہ دن نہیں گزرے امریکہ نے ایک بار پھر ان منصوبوں کو ہدفِ تنقید بنایا تھا اس سے پہلے جب آئی ایم ایف سے قرض کی بات چیت چل رہی تھی تو امریکہ نے یہ بیان دیا تھا کہ آئی ایم ایف کا قرض مہنگے چینی قرضے واپس کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے حالانکہ ابھی تک ان قرضوں کی واپسی شروع بھی نہیں ہوئی اور چین نے کئی بار وضاحت کی ہے کہ چینی قرضے مہنگے نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک بڑی رقم تو سرمایہ کاری کی ذیل میں آتی ہے لیکن اس کے باوجود سی پیک کے بارے میں عالمی میڈیا میں پروپیگنڈہ جاری رہتا ہے جس کا مقصد بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہو جائے اور ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہو جائیں۔ بھارت بھی اس بارے میں منفی بیان بازی کرتا رہتا ہے جس کا مقصد تو واضح ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کبھی خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ہو لیکن حیرت ہے کہ ہمارے امریکی دوست کیوں اس کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں غالباً وہ سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبے اگر پروگرام کے مطابق تکمیل پذیر ہو گئے تو پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی جس کے نتیجے میں پاکستان قرضوں کا بوجھ اتارنے کے بھی قابل ہو جائے گا جو اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ پرانے قرضے اتارنے کے لئے بھی نئے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آدھے سے زیادہ بجٹ قرضوں کا سود ادا کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے۔ سی پیک کے میگا پراجیکٹس مکمل ہونے کی صورت میں جب کام کرنے لگیں گے تو یہ جی ڈی پی کی شرح نمو میں بھی اضافے کا باعث بنیں گے، بجلی پیدا کرنے کے جو منصوبے مکمل ہو چکے ہیں ان کی وجہ سے پیداوار بڑھی ہے اور بجلی ضرورت کے مطابق دستیاب بھی ہے لیکن حیرت ہے کہ پھر بھی بڑے شہروں میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور دیہات کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں، اس عرصے میں ہائیڈل بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے جو نسبتاً سستی پیدا ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بجلی کا ایک یونٹ بیس روپے سے زیادہ میں بھی فروخت ہو رہا ہے اور اگر بجلی پر وصول کئے جانے والے ٹیکس بھی اس میں شامل کر لئے جائیں تو یہ یونٹ گھریلو صارفین کو چوبیس روپے کے لگ بھگ پڑتا ہے، ہمارے پورے خطے میں اتنی مہنگی بجلی کہیں نہیں ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی تک صارفین سے نیلم جہلم سرچارج بھی وصول کیا جا رہا ہے اس پراجیکٹ کو مکمل ہوئے بھی دو سال سے زائد ہو چکے اور صارفین اس کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن کوئی اس پر توجہ ہی نہیں دے رہا۔

سی پیک کے تحت جو منصوبے مکمل ہونے کے قریب ہیں ان میں سے ایک لاہور کا اورنج لائن پراجیکٹ بھی ہے جو تمام تر رکاوٹوں کے باوجود 2018ء میں تکمیل کے قریب تھا اگر حکومت توجہ دیتی تو اس کا باقی ماندہ کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا سکتا تھا لیکن حکومت ابھی تک اس مخمصے ہی سے نہیں نکل پائی کہ اس منصوبے کی ضرورت ہی کیا تھی نتیجہ یہ ہے کہ اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود اب تک معلوم نہیں کہ اس کی تکمیل کب ہو گی اور عوام اس سے کب مستفید ہوں گے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ 23مارچ کو یہ ٹرین چلنا شروع ہو جائے گی لیکن اس کی نوبت نہیں آئی، ابھی تک پنجاب کی حکومت یہ فیصلہ بھی نہیں کر پائی کہ اس ٹرین کا کرایہ کیا ہو گا گیند کبھی کابینہ کی کورٹ میں چلی جاتی ہے اور کبھی اسمبلی کے میدان میں پہنچ جاتی ہے۔ حکومت کو غریبوں کی بہتری کے لئے سبسدی دینا گوارا نہیں، جبکہ شوگر ملوں کو سبسڈی کا مسئلہ چشم زدن میں حل کر لیا گیا تھا۔ اورنج لائن ٹرین ماس ٹرانزٹ کا منصوبہ ہے جو اگر بروقت مکمل ہوتا تو اب تک لاکھوں لوگ روزانہ اس سے مستفید ہو رہے ہوتے جو لاہور میں ٹرانسپورٹ کے دگرگوں نظام کی وجہ سے خجل خوار ہو رہے ہیں، حکومت نے پہلے سے چلنے والی بسیں بند کر دیں اور نئی بسیں ان کی جگہ نہیں لے سکیں، اس وقت چلچلاتی دھوپ اور قہر کی گرمی میں غریب لوگ گھنٹوں بسوں کا انتظار کرتے ہیں حالانکہ اگر اورنج ٹرین منصوبہ مکمل ہوتا تو شہریوں کی سفری ضروریات بطریق احسن پوری ہوتیں، یہ منصوبہ بھی سی پیک کا حصہ ہے اور وزیراعظم نے جو منصوبے بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ان میں شامل ہونا چاہیے۔ امید ہے اس جانب توجہ دی جائے گی۔ حکومت میں ایسے عناصر شامل ہیں جنہوں نے شریکِ اقتدار ہوتے ہی سی پیک کے خلاف منفی بیان بازی شروع کر دی تھی اور ایک سال کے لئے یہ منصوبے ”منجمد“ کرنے کا مطالبہ بھی داغ دیا تھا۔ مقامِ اطمینان ہے کہ سی پیک کے منتظمین نے اس تجویز پر کان نہیں دھرا لیکن یہ تجویز دینے والے اب بھی کسی نہ کسی انداز میں سی پیک منصوبوں میں کیڑے تو ڈال ہی رہے ہوں گے اس لئے اگریہ منصوبے بروقت مکمل کرنے ہیں تو ان عناصر سے بھی خبردار رہنا ہوگا جن کے عزائم اگرچہ فی الوقت دب گئے ہیں لیکن کیا پتہ یہ کب دوبارہ جاگ اُٹھیں کیونکہ امریکہ چین چپقلش تو جاری ہے اور جب کبھی یہ سلسلہ تیز ہوتا ہے سی پیک پر ہی پہلی بُری نظر پڑتی ہے جو چین کے مخالفین کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔

مزید :

رائے -اداریہ -