سیاسی منظر نامہ

سیاسی منظر نامہ
 سیاسی منظر نامہ

  

حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور خود حکومت کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن اگر اپوزیشن عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہی تو پھر اپوزیشن کی بھی ہو جائے گی۔اسٹیبلشمنٹ ساکھ کھوتی حکومت سے بہت کچھ کروانے کی خواہش مند ہوگی، جس کے اشارے پر پی آئی اے کے پائلٹوں کی جگ ہنسائی کے پیچھے اس کے اثاثوں کی نیلامی اور خود پی آئی اے سمیت دیگراداروں کی نجکاری شامل ہے۔ اس کا آغاز پی ٹی ڈی سی شمالی کے ملازمین کی ملازمتوں سے برطرفی کی صورت میں ہو گیا ہے۔

حکومت گڈ گورننس رائج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ پہلے خیال تھا کہ بس کرپٹ سیاستدانوں کو سزائیں ہو جائیں گی اور ان سے کرپشن کا پیسہ برآمد ہو جائے گا تو کام بن جائے گا، حکومت کے دو سال بعد اندازہ ہوا کہ اس سے تو کام نہیں بن سکتا، کام بنانے کے لئے حکومت کو آمدن کے ذرائع پیدا کرنے ہوں گے، مہنگائی پر قابو پانا ہوگا اور ڈیمانڈ سپلائی میں توازن کو یقینی بنانا ہو گا۔ شروع شروع میں یہ بھی عام خیال تھا کہ ایماندار شخص اوپر آ جائے تو نیچے سب کچھ خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے، یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا اور ثابت ہوا کہ ایک نااہل ایماندار شخص کے نیچے بھی بے ایمانی کے کام ہوتے رہتے ہیں، وزیر اعظم بھلے ایماندار ہوگا مگر حکومتی امور سے نابلد ہیں، وہ صرف تقریریں کر سکتے ہیں اور چندہ اکٹھا کر سکتے ہیں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مذاکرات کی ان میں اہلیت نہیں ہے جبکہ ریاست کو چندے پر چلایا نہیں جا سکتا ہے۔

اب یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی ایک اسپتال یا یونیورسٹی بنانے والا شخص لازمی نہیں کہ ایک ایسا نظام بھی بنا سکے جس کے ذریعے امور مملکت کامیابی سے چل سکیں۔ اگر یہ کام اتنا آسان ہوتا تو پاکستان کی تاریخ کے بڑے بڑے سیاستدان جرنیل کبھی فیل نہ ہوتے جنھیں ایک منظم ورک فورس کی حمائت بھی حاصل ہوتی تھی۔

ایسی تمام باتیں اب دم توڑ چکی ہیں اورجو باتیں عام ہو رہی ہیں ان میں چیدہ چیدہ یہ ہیں کہ قائد اعظم کی جیب میں بھی کھوٹے سکے تھے، عمران خان کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے، وہ اسمبلیاں توڑ دے گا، وہ صدر کا عہدہ سنبھال کر صدارتی نظام نافذ کردے تاکہ ڈنڈا چلا سکے اور پارلیمنٹ سمیت کسی کا محتاج نہ رہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے مخالفین اگلے چھے ماہ میں تبدیلی کا امکان ظاہر کر رہے ہیں، انہیں یقین ہے کہ عمران خان کو فارغ کر دیا جائے گا!

کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے جان چھڑوالے گی؟ ایسا ہوتا ہے تو ان کے متبادل کے طور پر کون آئے گا؟ سروے کہتا ہے کہ شہباز شریف آسکتے ہیں، ان کا حال احوال بھی پوچھا جا رہا ہے، خیریت بھی دریافت ہو رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ متبادل موجود ہے۔ عوام کی تسلی کے لئے یہی کافی ہے۔ نون لیگ بطور ایک جماعت کے اپنی اہلیت منوا چکی ہے، نواز شریف بطور ایک لیڈر کے کسی کو قابل قبول ہوں یا نہ ہوں۔ اپوزیشن کو کسی ایک لیڈر پر اتفاق کرنا ہوگا، ممکن ہے کہ قرعہ فال شہباز شریف کے نام کا نکل آئے۔وہ تین سال کے لئے قابل قبول ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی پاپولیریٹی ایک وزیر اعظم کی نہیں ہے۔ تاہم ضروری یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو اس کی حلیف جماعتیں چھوڑ دیں اور آہستہ آہستہ اپوزیشن کی اے پی سی میں نظر آنا شروع ہو جائیں۔اس سے مڈٹرم انتخابات کی بجائے ان ہاؤس تبدیلی ممکن ہو جائے گی۔

عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کے لئے تیار ہیں۔سرکاری ملازمین تنخواہیں نہ بڑھنے پر، ٹی ڈی سی پی کے ملازمین برطرفی پر، پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی ایسوسی ایشنیں نجکاری پر اور ریلوے ملازمین پہلے ہی سڑکوں پر ہیں، غریب طبقہ بھی بے روزگاری اور غربت کا ستایا ہوا ہے، اس کے بھی سڑکوں پر آنے کے امکانات واضح ہیں۔

پی ٹی آئی کے حامی بھی عمران خان کے لئے سڑکوں پر آ سکتے ہیں مگر اپوزیشن اگر بڑے اجتماعات کرنے میں کامیاب ہو گئی عمران خان کے جلسوں کا وہ پتلا حال عیاں ہو جائے گا جو 2018 کے انتخابات میں بوجوہ نہیں ہو سکا تھا۔اگر شہباز شریف متبادل وزیر اعظم کے طور پر سامنے آگئے تو میڈیا پر بیٹھے بعض اینکرپرسنوں کی رپلیسمنٹ ہوسکتی ہے جس طرح نواز شریف کے جانے پر کچھ اینکر پرسنوں کی ہو گئی تھی۔

مزید :

رائے -کالم -