غیر روایتی پارلیمانی گفتگو اور ”فاطمہ بھٹو“ کا ذکر!

غیر روایتی پارلیمانی گفتگو اور ”فاطمہ بھٹو“ کا ذکر!
غیر روایتی پارلیمانی گفتگو اور ”فاطمہ بھٹو“ کا ذکر!

  

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ کوئی پہلا اور انوکھا مسئلہ نہیں کہ منتخب ایوانوں میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی طرف سے سرگرم اور وفادار اراکین کو ہدف دے دیئے جاتے ہیں کہ وہ کس کس لیڈر یا رکن کی تقریروں کا جواب دے گا، ایوانوں میں شور شرابا اور ہنگامہ آرائی بھی کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ دو سالہ دور میں اسمبلیوں کے اجلاسوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کچھ زیادہ عجیب اس لئے لگتا ہے کہ اول تو نوبت ایک دوسرے کو نہ ماننے کی ہے، حالانکہ ایوان میں موجود جماعتوں یا اراکین کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں کہ ایوان میں موجودگی یہ تسلیم کرنے کے لئے کافی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی ذات کا جہاں تک تعلق ہے تو ”انا“ ان کا ریکارڈ ہے، یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ ان کی طرف سے حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے، نہ ماننے کی بات کی گئی۔ ایوان سے استعفے دے کر باہر بیٹھنے کا ریکارڈ بنایا اور دوسری طرف سے جب ایوان ہی کی ”بالا دستی اور جمہوریت“ کے نام پر یہ سب قبول نہ کیا گیا تو پھر واپسی معہ مراعات ہو گئی۔ اب حالات یہ ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں، جو بھی ہوں ”چوروں اور لٹیروں“ سے بات ہی نہیں ہو سکتی، جاری جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ جو بھی احتساب ہے۔ اسے اپنی جگہ جاری رہنا چاہئے اور ایوان میں قواعد و ضوابط کے مطابق جمہوری طرز عمل ہونا چاہئے جس میں سوال بھی ہوتے اور جواب بھی دیئے جاتے ہیں، اعتراض کئے جاتے اور ان کی وضاحت بھی ہوتی ہے۔ جملہ بازی اور آوازے کسے جاتے ہیں تو ایک دوسرے سے خوش گوار ماحول میں بات بھی ہو جاتی ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں زیر غور امور پر مفاہمت اور مزاحمت کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ لیکن حالیہ ایوان میں اس حوالے سے بھی نئی روایات بن گئی ہیں، حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں خوش گوار الفاظ کا تبادلہ حیرت انگیز طور پر منقطع ہے۔ اور مشکل یہ بھی ہے کہ ایوان میں کنٹینر کی زبان اور لہجہ آ گیا ہے جو نئی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، اس ایوان میں خاص طور پر نوٹ کیا گیا کہ نوجوان وفاقی وزیر مراد سعید کے پاس بڑے ہدف ہیں، اور ان کے حوالے سے یہ بھی یقین حاصل کر لیا گیا کہ وہ جب چاہیں فلور ان کو دی جائے اور وہ جتنا وقت بھی بولیں، ان کو اجازت ہو گی۔ چنانچہ انہوں نے بڑا ہدف بلاول بھٹو زرداری ا ور اس کے بعد نوازشریف کو بنایا ہوا ہے اور اکثر کنٹینر والی زبان استعمال کرتے ہیں، ان کو یہ ترجیح بھی حاصل ہے کہ ان کا جواب دینے والے کو اول تو فلور ہی نہیں دی جاتی، وگرنہ اگر کوئی عبدالقادر پٹیل بول ہی پڑے تو اس کا مائیک بند ہو جاتا ہے۔

یہ سب ایوان میں ہوتا ہے، اور ذکر کر دیا، ورنہ بات تو مراد سعید کی نئی منطق پر کرنا ہے، جو انہوں نے گزشتہ دنوں بلاول بھٹو کو ہی ہدف بناتے ہوئے بیان کی۔ وہ مجموعی طور پر بلاول بھٹو کو زرداری زادہ اور ”پرچی کا چیئرمین“ کہتے ہیں، تاہم اس بار انہوں نے اضافہ کیا کہ وہ (بلاول) پیپلزپارٹی کے سربراہ یا ذوالفقار علی بھٹو کی وراثت کے حق دار نہیں ہیں، انہوں نے کہا ”ہم فاطمہ بھٹو کو بھٹو کی وارث مانتے ہیں، کاش ان لوگوں نے فاطمہ بھٹو کی کتاب ہی پڑھ لی ہوتی“ اس سے اندازہ ہوا کہ مراد سعید پڑھتے بھی ہیں، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ فاطمہ بھٹو کی کس کتاب کا ذکر کر رہے ہیں کہ انہوں (فاطمہ بھٹو) نے ایک سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ کئی مضمون اور کالم تحریر کئے اور متعدد لیکچر بھی دیئے۔ مراد سعید کی اس تازہ ترین بات سے ہمیں تحریک ہوئی کہ ہم بھی فاطمہ بھٹو کے حوالے سے بات کر لیں کہ ہم ان کو مدت سے جانتے ہیں، جب وہ سکول کی طالبہ تھیں اور اپنی سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو اور بھائی ذوالفقار بھٹو (جونیئر) کے ساتھ رہ رہی تھیں، ان دنوں غنویٰ بھٹو لاہور آئیں ان کا قیام اسحاق خاکوانی کی رہائش گاہ پر تھا، جو اس وقت مرتضیٰ بھٹو والی جماعت پیپلزپارٹی بھٹو شہید میں شامل تھے۔ ہمیں خصوصی فرمائش پر غنویٰ بھٹو کے انٹرویو کے لئے جانا پڑا، اسحاق خاکوانی کے ڈرائنگ روم میں غنویٰ بھٹو کے آنے سے قبل فاطمہ بھٹو آکر بیٹھ گئیں اور ہمیں ان کے ساتھ گفتگو کا موقع مل گیا۔ ہم نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں فاطمہ بھٹو کے خیالات جانے۔ اتنے میں خود غنویٰ آ گئیں تو انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں فاطمہ کو وہاں سے جانے کے لئے کہہ دیا، یوں ہم پر ظاہر ہوا کہ بچی کس جبر میں وقت گزار رہی ہے۔ اس کے برعکس ذوالفقار جونیئر جو اس وقت 7-6 سال کا ہو گا کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ کھیلتا پھر رہا تھا۔ جب ہم واپس آئے تو ذوالفقار جونیئر گیراج میں کھیلتا مل گیا۔ شاہد جگو (مرحوم) نے اس کی کئی یادگار تصاویر بنائیں تو ہم نے جونیئر سے پوچھ لیا کہ ان کی پھوپھو بے نظیر کیسی ہیں تو ان کا جواب نفرت پر مبنی تھا۔ ان کے شواہد اور بعد کی معلومات کے حوالے سے ہم بلا خوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ فاطمہ بھٹو نے زندگی جبر مسلسل کی طرح گزاری اور ان حالات نے ان کی تفسیات پر بھی اثر ڈالا اور ان کی تصانیف میں بھی اسی فرسٹریشن کی جھلک ملتی اور وہ سیاست سے بے زاری کا اظہار کرتی ہیں۔ اب مراد سعید کو نہ معلوم ان میں سیاسی وراثت کہاں سے نظر آ گئی۔ البتہ ذوالفقار جونیئر میں ذہانت اور جراثیم تھے جن کو خود ان کی والدہ والی تربیت نے ایک دوسری ہی قسم کی مایوسی میں تبدیل کر دیا اور یہ ذہین بچہ اور نوجوان ”ملنگ“ ہو چکا ہوا ہے۔ ان دونوں بچوں کی نفسیات میں وہ جبر شامل ہے جو ان کو بے نظیر بھٹو اور ان کی اولاد سے ”نفرت“ دلاتا رہا اور میل ملاقات بھی نہ رہی، اس لئے ہم تو مراد سعید سے درخواست کرتے ہیں کہ نازک خاندانی موضوع ہے۔ فاطمہ بھٹو کی کتاب پھر سے پڑھ لیں تو ان (فاطمہ) کی اذیت کا اندازہ ہو جائے گا ویسے صنم بھٹو بچوں کے درمیان ایک کڑی ہیں، اور ان کے بچوں کی سالگرہ پر یہ بچے ایک دو بار لندن میں جمع بھی ہوئے، لیکن دونوں خاندانوں کے موجودہ بڑوں کی وجہ سے بچوں کا ملاپ مشکل ہو چکا، ورنہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار جونیئر کا تعزیت کے لئے قرآن خوانی پر نوڈیرو تک چلے جانا پڑی بات تھی لیکن یہ بھی انسانوں کا قسمت پر زور ہے کہ یہ صدمہ بھی خاندان نہ ملا سکا۔ اس لئے مودبانہ اپیل ہے کہ مراد سعید جوش خطابت میں سب کچھ نہ کہا کریں۔

مزید :

رائے -کالم -