پنجاب میں سیشن ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر 62سال،گریڈ 22دینے کا فیصلہ

پنجاب میں سیشن ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر 62سال،گریڈ 22دینے کا فیصلہ

  

لاہور(سعید چودھری)سیشن ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال سے بڑھا کر 62سال کرنے اور انہیں 22واں گریڈ دینے کا اصولی فیصلہ کرلیاگیاہے،اس سلسلے میں سمری متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو بھجوا دی گئی ہے،ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اس تجویز سے اتفاق کیاہے جس کے بعد متعلقہ حکام کی طرف سے یہ سمری محکمہ قانون،محکمہ خزانہ اور امپلیمنٹیشن اینڈ کوآرڈنیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئی،اس وقت سیشن ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر دیگر سرکاری ملازمین کی طرح 60سال مقررہے جسے اب 62سال کیا جارہا ہے۔سیشن جج 21ویں گریڈ میں کام کرتے ہیں تاہم اس عہدہ پر 10سال تک کام کرنیوالے سیشن ججوں کو ٹائم سکیل پروموشن کے اصول کے تحت 22واں گریڈ مل جاتاہے جبکہ اب ان کا بنیادی گریڈ ہی 22واں کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے،علاوہ ازیں سیشن ججوں کو اردلی الاؤنس دینے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے،20ویں گریڈ یا اس سے بڑے افسروں کوکم ازکم 14 ہزا ر روپے ماہانہ اردلی الاؤنس دیاجاتاہے لیکن سیشن ججوں کو یہ الاؤنس نہیں دیاجارہاتھا،اب یہ فیصلہ کیاگیاہے کہ سیشن ججوں کو بھی اردلی الاؤنس دیاجائے گاجو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی پنشن میں بھی شامل ہوگا۔ذرائع کے مطابق ریٹائرمنٹ کی بالائی حد میں 2سال اضافہ کا اطلاق ضلعی عدلیہ کے دیگر ججوں پر نہیں ہوگا،وہ معمول کے مطابق 60سال کی عمر میں ہی ریٹائر ہوں گے جبکہ سیشن جج کے عہدہ پر ترقی پانے والے افرادکی ریٹائرمنٹ کی عمر62سال ہوگی۔معلوم ہواہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ابتدائی طور پر تجویز کی مخا لفت کی تھی کہ قانون میں ترمیم کے بغیر اس پر عمل نہیں ہوسکتااوریہ کہ اس تجویز پر عملدرآمد کے باعث پنجاب اوردیگر صوبوں کے سیشن ججوں کی مراعات کے درمیان عدم مساوات پیدا ہوگی تاہم وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اب مذکورہ تجویز پر عملدرآمد کے لئے تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹ پیپر ورک مکمل کررہے ہیں۔

سیشن جج

مزید :

صفحہ اول -