کورونا سے متعلق پہلی اطلاع چین نے نہیں ہمارے دفتر نے دی،عالمی ادارہ صحت

کورونا سے متعلق پہلی اطلاع چین نے نہیں ہمارے دفتر نے دی،عالمی ادارہ صحت

  

نیویارک(این این آئی)عالمی ادارہ صحت نے کہاہے کہ ہمارے ادارے کو ووہان میں نمونیا کے پہلے کیسوں کے متعلق چین نے نہیں بتایا تھا بلکہ ہمیں چین میں موجود اپنے دفتر سے پہلا الرٹ موصول ہوا تھا۔ عالمی ادارہ صحت نے کورونابحران کے ابتدائی مراحل کی اطلاعات ملنے سے متعلق تازہ معلومات جاری کی ہیں۔رواں ہفتے شائع ہونے والی نئی ٹائم لائن سے ایسے اشارے ملتے ہیں کہ 31دسمبر کو چین میں ڈبلیو ایچ او کے دفتر نے ووہان ہیلتھ کمیشن کی ویب سائٹ پر مقامی میڈیا کو دی جانے والی معلومات کی روشنی میں اپنے علاقائی دفتر کو وائرل نمونیہ کے مریضوں سے متعلق مطلع کیا تھا۔اسی روز ڈبلیو ایچ او کی وبا سے متعلق انفارمیشن سروس نے امریکہ میں کام کرنے والے عالمی نگرانی کے نیٹ ورک سے ایک خبر ملی جس میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر نمونیہ کے متاثرین کا تذکرہ تھا۔جس کے بعد ڈبلیو ایچ او نے یکم اور 2جنوری کو چینی حکام سے اس بارے میں معلومات طلب کیں جو انھوں نے 3جنوری کو فراہم کیں۔ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے بتایا کہ کسی بھی ملک کے پاس کسی واقعے کی باضابطہ طور پر تصدیق کرنے اور ایجنسی کو کسی واقعے کی نوعیت یا اس کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کرنے کے لیے 24سے 48گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ رپورٹ کی تصدیق کے لیے چینی حکام نے فوری طور پر ایجنسی سے رابطہ کیا۔

عالمی ادارہ صحت

مزید :

صفحہ آخر -