مائنس یا پلس کی بجائے عوام کی مرضی کو نمبر ون قرار دینا ہوگا:سراج الحق

  مائنس یا پلس کی بجائے عوام کی مرضی کو نمبر ون قرار دینا ہوگا:سراج الحق

  

لاہور (آن لائن) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ ملکی سیاسی منظر نامہ اضطرابی کیفیت کا شکا ر ہے۔اب مائنس یا پلس کی بجائے عوام کی مرضی کو نمبر ون قرار دینا ہوگا۔احتساب کااس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ ملک مافیاز کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے ۔مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔مہنگائی بے روز گاری کے ستائے عوام اب بدترین لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں۔وزیر اعظم جس چیز کے مہنگا ہونے کا نوٹس لیتے ہیں وہ مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہے۔وزیر اعظم اگر واقعی کوئی نوٹس لینا چاہتے ہیں تو انہیں عوام سے کئے گئے وعدوں کا نوٹس لینا چاہئے،ان کے تمام دعوے الٹ ہوچکے ہیں۔عوام اب مصیبتوں اور پریشانیوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے نوٹسوں سے بھی ڈرنے اور دعائیں کرنے لگے ہیں کہ وزیر اعظم نوٹس نہ لے لیں۔ملک میں متبادل معاشی نظا م کی ضرورت ہے،زکواۃ وعشر کا نظام موجودہ نظام سے کہیں زیادہ بہتر اور موثر ہے جس سے قومی آمدن میں فوری اضافہ ہوسکتا ہے اور بیرونی قرضوں سے بھی نجات مل سکتی ہے۔کورونا وبا کے دوران قوم کی خدمت کرنے والے جماعت اسلامی کے کارکنان اور الخدمت کے رضا کاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل امیر العظیم،نائب امراء اور ڈپٹی سیکرٹریز بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت نے ایک بار پھر ایل او سی پر گولہ باری میں اضافہ کردیا ہے۔چین سے ہزیمت اٹھانے کی خفت مٹانے کیلئے بھارت کوئی بھی شرارت کرسکتا ہے اس کیلئے ہمیں پوری طرح تیار رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر ستر سال سے موجود ہے اور سینکڑوں قرار دادوں کے باوجود اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -