برطرف جج کے فیصلوں کا دوبارہ ٹرائل ہوا تو نواز شریف کی بریت بھی ختم ہو جائیگی:شہزاد اکبر

  برطرف جج کے فیصلوں کا دوبارہ ٹرائل ہوا تو نواز شریف کی بریت بھی ختم ہو ...

  

اسلام آباد(آن لائن) معاون خصوصی احتساب و امور داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جج ارشد ملک برطرف کی وجوہات اور تفصیلی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے مسلم لیگ ن روایتی طور پر جلد بازی میں مٹھائی کھا رہی ہے، مریم نواز سے بھی مبینہ ویڈیو کے معاملے میں تفتیش ہونی چاہئے، بر طرف جج کے فیصلوں کے کیسز کا دوبارہ ٹرائل ہو اتو نواز شریف کی بریت بھی ختم ہو جائے گی۔ ہفتے کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جج ارشد ملک کا ان کردارو ں کے ساتھ پرانا تعلق ہے، ناصر بٹ مفرور ہے وہ اس وقت برطانیہ میں ہیں۔جج کی برطرفی کے بعد نواز شریف کی ایک ریفرنس میں بریت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ نیب کے قانون میں اس معاملے کی 14 سال سزا ہے جبکہ نواز شریف کو صرف 7 سال کی سزا دی گئی ہے۔ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں مجموعی طور پر دواپیلیں زیر التوا ہیں ایک میں نواز شریف نے سزا کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی ہے جبکہ دوسری میں نیب نے سزا کو بڑھا کر 14 کر نے کی اپیل کر رکھی ہے۔اس کے علاوہ نیب نے نواز شریف کی ایک کیس میں بریت کو بھی چیلنج کر رکھا ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ مریم نواز سے بھی ویڈیوز کے بارے میں تفتیش ہونی چاہئے جن لوگوں نے ویڈیو دکھائی ہے ان کو فارنزک آڈٹ کے لئے اصل ویڈیو تفتیشی ادارو کے حوالے کرنا پڑے گی۔ اگر ویڈیو کا فارنزک آڈٹ کروانا ضروری ہوتا تو لاہور ہائی کورٹ کیساتھ سینئر ترین جج حکم دے سکتے تھے۔دوران سماعت کسی بھی جج کی جانب سے دیئے گئے ریمارکس حتمی نہیں ہوتے صرف تحریری فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اگر ایف آئی اے کو تحریری حکم دیا ہو تا تو وہ ضرور ویڈیو کا فارنزک کرواتے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس قیوم والے معاملے میں عدالتی نظر موجود ہے کہ اگر جج کی جانب داری ثابت ہو جائے تو مقدمے کا دوبارہ ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن ایسی صورت میں تو نواز شریف کی بریت والا فیصلہ بھی ختم ہو جائے گا۔

شہزاد اکبر

مزید :

صفحہ آخر -