دار العلوم اسلامیہ عربیبہ میں 25 ہزار طلباء زیر تعلیم،مولانا قاسم

دار العلوم اسلامیہ عربیبہ میں 25 ہزار طلباء زیر تعلیم،مولانا قاسم

  

شیر گڑھ (مولانا عبد اللہ جان) جمعیت علمائے اسلام ضلع مردان کے امیر سابق ممبر قومی اسمبلی، اور دارالعلوم اسلامیہ عربیہ شیر گڑھ ضلع مردان کے مہمتم شیخ القر آن والحدیث حضرت مولانا محمد قاسم نے کہا ہے کہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ شیر گڑھ میں نئے احاطے جو مولانا محمد احمد المعروف مہتمم باباجی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے کے تعمیر کیلئے تمام مخیر حضرات سے امدا د کی اپیل کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ شیر گڑھ وفاق المدارس کیساتھ رجسٹرڈ ایک دینی مدرسہ ہے اور ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور طالبات اس میں دینی علوم حاصل کرتے ہیں۔ اور مذکورہ دینی مدرسے کا بنیاد اُس کے والد مولانا محمد احمد المعروف مہمتم باباجی نے سال 1952 میں رکھی۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ شیر گڑھ میں اس وقت تقریباََ2500/- طلباء زیر تعلیم ہے۔خوراک و پوشاک کی مد میں یومیہ خرچہ45000/- ہزار روپے بنتا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں اُ س وقت کے وزیر اعلیٰ جناب اکرم خان درانی سے بہت سے اہم میگا پراجیکٹ منظور کرکے اپنے حلقے میں کثیر تعداد میں تر قیاتی کام کئے ہیں۔ جن میں جلالہ پل، لوند خوڑ پل، شیرگڑھ میں بدرگہ اور ہری چند کو شیر گڑھ کیساتھ ملانے والے پل شامل ہے۔اس کے علاوہ محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ سوئی گیس، لیبر کالونی تخت بھائی اور بجلی کے مد میں کروڑوں روپے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے ہیں۔موجودہ بجٹ کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعیتیں اس بجٹ کو یکسر مستر د کرتی ہے۔ اور یہ بجٹ عوام دشمن بجٹ ہے۔بجٹ میں غریب عوام اور سرکاری ملازمین کیلئے کچھ بھی نہیں ہیں مرکزی اور صوبائی حکومت عوام کو سہولت دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ کرو نا کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہا ر کیا کہ عوام الناس سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ محکمہ صحت کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر من وعن عمل کریں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، ماسک پہنے، سینٹائزر استعمال کریں، شریعت کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں شریعت کے نفاذ کیلئے اسمبلی کے فلور پر حسبہ بل منظور کرایا ہے جو کہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ جس پر بعد میں عدالت سے سٹے آڈر حاصل کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنے دور حکومت میں وزارت مذہبی امور میں حج کرپشن کیس کی تحقیقات کرکے اس کو میرٹ کی بنیاد پر حل کرایا۔جو کہ بعد ہم نے حج میں مبینہ کرپشن کی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروائی ہے جو کہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ جس کی بنیاد پر اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل حج و سیکرٹری جنرل حج اور وفاقی وزیر حج و سیکرٹری حج کو جیل بیھج دیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -