حکومت تفریق پیدا کرنیکی بجائے وسیب کو متحد کرے، غلام فرید کوریجہ

حکومت تفریق پیدا کرنیکی بجائے وسیب کو متحد کرے، غلام فرید کوریجہ

  

ملتان (سٹی رپورٹر)سول سیکرٹریٹ نہیں، صوبہ چاہئے۔ سول سیکرٹریٹ کے لولی پاپ کو مسترد کرتے ہیں۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیہ(بقیہ نمبر4صفحہ6پر)

میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے صوبے کا وعدہ کیا تھا، سول سیکرٹریٹ کا نہیں۔ وسیب کے لوگوں کا حافظہ کمزور نہیں۔ وسیب کے کروڑوں لوگوں کو بیوقوف بنانے کی پالیسی ترک کی جائے اور ملتان بہاولپور کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی بجائے پورے وسیب کی یکجہتی کیلئے کام کیا جائے۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کے چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ، شریک چیئرمین ظہور دھریجہ، ملک خضر حیات ڈیال، عاشق بزدار، اکبر خان ملکانی، مہر مظہر کات، شریف خان لاشاری، ملک غلام عباس ملنہاس اور حاجی عید احمد دھریجہ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر مسئلے کو گھمبیر بنا دیا ہے اور صوبے کے مسئلے سے فرار ہونے کی سازش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد صوبہ محاذ کا اجلاس بلایا جا رہا ہے اور اس مسئلے پر ایک ایکشن کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو کہ مطالبات کی منظوری تک پورے وسیب میں احتجاجی مظاہروں کو ترتیب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکستان کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر تمام سرائیکی جماعتوں کو متحد کریں گے اور اس مسئلے پر ملتان میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کا فیصلہ میرٹ کے مطابق ملتان بنتا ہے مگر استعمار کے سازشی منصوبے کے تحت وسیب کے لوگوں کو لڑایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ نہ ہمارا مطالبہ ہے اور نہ ہماری منزل۔ اس کے باوجود ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ وسیب میں کتنے اور کون کون سے اضلاع شامل ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو خود بھی معلوم نہیں کہ اُن کے پاس کیا اختیارات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب لولی پاپ اور وسیب کے لوگوں کی آنکھوں میں مرچیں ڈالنے والا گورکھ دھندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے مینڈیٹ کے مطابق پارلیمانی صوبہ کمیشن ترتیب دے جو کہ صوبے کی حدود، صوبے کے نام کا فیصلہ کرے۔ صوبہ کمیشن کے بغیر کسی کو اس بات کا اختیار حاصل نہیں کہ وہ وسیب کی شناخت کو مسخ کرے اور صوبے کی بجائے لولہے لنگڑے سول سیکرٹریٹ کا ڈھونگ رچائے۔ اعلامیہ میں مخدوم شاہ محمود قریشی، ملک عامر ڈوگر اور جلال الدین رومی کے اس بیان کی مذمت کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے وسیب کو شناخت ملی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہماری شناخت جنوبی پنجاب نہیں بلکہ سرائیکستان ہے کہ سرائیکی قوم کا اپنا وطن، اپنی سرزمین، اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، زبان و ثقافت ہے۔ وسیب کے لوگ نہ تو تخت لاہور یا تخت پشور کی کالونی ہیں اور نہ ہی پنجاب کے کمی و مزارعے۔ وسیب کے ساتھ بنگالیوں والا توہین آمیز امتیازی سلوک بند کیا جائے اور تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں کے فلسفے کے مطابق وسیب کو صوبہ اور شناخت دی جائے ورنہ احتجاج کریں گے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری عمران خان، عثمان بزدا اور کے پی کے کے وزیر اعلیٰ محمود خان پر عائد ہو گی۔

غلام فرید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -