ڈہرکی:ناقص پلاننگ سے پولیس پسپا، جرائم پیشہ عناصر پھر کچہ پرقابض

  ڈہرکی:ناقص پلاننگ سے پولیس پسپا، جرائم پیشہ عناصر پھر کچہ پرقابض

  

ڈہرکی (نامہ نگار) ڈہرکی کے علاقہ رونتی تھانہ کی حدود کے کچے میں پولیس پولیس پارٹی اور آپریشن میں شامل بکتر بند گاڑی پر حملہ کرنے اور پولیس پر جدید ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کرنے والے واقعہ میں مبینہ ملوث 30 افراد پرپولیس نے مقدمہ درج کرلیا مقدمہ ایس ایچ او تھانہ رونتی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے مقدمے میں قتل پولیس مقابلہ ارداہ قتل حملہ کرنے اوردہشتگردی کے دفعات کو بھی شامل کیا گیاہے اس سلسلے میں معلومات ملی ہے کہ مقدمے میں عمر شر(بقیہ نمبر6صفحہ6پر)

گینگ کے 30 کارندوں کے نام شامل کیئے گئے ہیں جبکہ. ابھی تک پولیس والوں نے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لاسکے ہیں واضع رہے کہ گذشتہ روز پولیس نے گاؤں عمرشر کے مقام پر جرائم پیشہ افراد کو گرفتارکرنے اور چند روز قبل اغوا ہونے والے مغویوں کی بازیابی کیلئے پولیس افسران کی سربراہی ہی میں ضلع بھر کے تھانوں کی پولیس کی بھاری نفری نے عمر شر اور ملحقہ علاقے کامحاصر کرکے آپریشن شروع کردیا اور اس دوران پولیس پارٹی پر پہلے سے مورچہ زن ڈاکوؤں نے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی اور پولیس کی اے پی سی بکتر بند گاڑی پر راکیٹ لانچر کا کا گولا بھی مارا گیا جسکی وجہ سے ایک پولیس اہلکار خان محمد پہنور شدید زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں دوران علاج زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا تھا جبکہ دو ایس ایچ او خانپور مہر تھانہ کا ایس ایچ او مٹھل کھکھرانی اور تھانہ جروار کا ایس ایچ او وحید بھٹو سمیت 7 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جوکہ کچھ اہلکار ابھی تک زیرعلاج ہیں تاہم پولیس نے مقدمہ میں شامل کیئے گئے ملزمان کے نام ابھی تک ظاہر نہیں کیئے ہیں.. آزاد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی ناقص حکمت عملی اور گاڑیوں کی منٹینس اور جدید ہتھیار نہ ہونے کے باعث پولیس کوناکامی اور نقصان کا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قابض

مزید :

ملتان صفحہ آخر -