تقسیم شدہ سیکرٹریٹ وسیب کے باسیوں کولڑانے کی سازش، نخبہ تاج لنگاہ

تقسیم شدہ سیکرٹریٹ وسیب کے باسیوں کولڑانے کی سازش، نخبہ تاج لنگاہ

  

ملتان (سٹی رپورٹر)پاکستان سرائیکی پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کا ہنگامی اجلاس زیرصدارت چیئرپرسن ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ،زیر میزبانی مرکزی صدر ملک اللہ نواز وینس(بقیہ نمبر47صفحہ6پر)

،زیر نظامت سیکریٹری جنرل محمد اکبر انصاری ایڈووکیٹ، سنٹرل سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر حکومت کی جانب سے تقسیم شدہ سیکریٹریٹ کے قیام کو حکومت اور پنجاب تقسیم مخالف قوتوں کی جانب سے وسیب کے باسیوں کو آپس میں لڑانے کی گھناؤنی سازش قراردے کر شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ ملتان سرائیکی وسیب کے عین وسط میں ہے اور وسیب کے باسیوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکریٹریٹ ملتان میں قائم کیا جائے اور بہاولپور اور ڈی جی خان میں اس کے کیمپ آفس قائم کیئے جائیں۔ چیئرپرسن ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست پاکستان کی جانب سے آٹھ کروڑ سرائیکی قوم کی شناخت کو تسلیم نہ کرنا اور انکے حقوق کے تحفظ کیلئے ان کے صوبہ کا مطالبہ پورا نہ کرنا دراصل ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ مرکزی صدر اللہ نواز وینس نے کہا کہ سرائیکی قوم تین دہائیوں سے پرامن آئینی جمہوری جدوجہد نہ تو سول سیکریٹریٹ اور نہ ہی گیارہ اضلاع پر جنوبی پنجاب کے نام سے صوبہ کیلئے کررہی ہے۔ مکمل سرائیکی وسیب پر شناخت کے ساتھ صوبہ کے قیام کیلئے حکومت فوری طور پر آئینی بل پارلیمنٹ میں لائے تاکہ پی پی پی اور ن لیگ کی اصلیت بھی سرائیکی قوم کے سامنے آسکے۔ سیکریٹری جنرل محمد اکبر انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ تخت لاہور کی سازش کو سمجھنے کی بجائے جو لوگ بھونڈے انداز کے ساتھ سیکریٹریٹ کے حوالے سے ملتان یا بہاولپور کی حمایت یا مخالفت یا نامنظور نامنظور کے نعرے لگا کر سرائیکی وسیب کے ان دو شہروں سے متعلق زہر اگل رہے ہیں وہ دراصل سرائیکی دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں۔ ملتان کی تاریخی، مذہبی اور وحانی اہمیت کو تسلیم نہ کرنیوالوں کو تجدید ایمان کی ضرورت ہے۔ جبکہ قیام پاکستان میں بہاولپور کا تکمیل پاکستان کیلئے تاریخی کردار کو نہ ماننے والوں کی حب الوطنی مشکوک ہے۔ ڈپٹی چیئرمین علامہ اقبال وسیم نے کہا کہ رحیمیارخان کی تمام تحصیلوں کی مسافت بذریعہ موٹروے ملتان تک اور بذریعہ نیشنل ہائی وے بہاولپور تک برابر ہے اسی طرح ضلع بہاولنگر کی تمام تحصیلوں بشمول تحصیل حاصل پور کی مسافت براستہ وہاڑی ملتان تک اور انکی براستہ لال سونہارا بہاولپور تک مسافت برابر ہے۔ جبکہ تحصیل احمدپورشرقیہ کی ساٹھ فیصد علاقوں کا فاصلہ ملتان اور بہاولپور برابر ہے جبکہ بقیہ چالیس فیصد محض پانچ سے بیس کلومیٹر زیادہ ہے۔ بہاولپو ر اور یزمان کا فاصلہ لاہور تک کیلئے زائد از پانچ سو کلومیٹر ہے جبکہ ملتان کی مسافت محض ایک گھنٹہ ہے۔ چیف آرگنائزر احمدنواز سومرونے کہا کہ تخت لاہور نے سرائیکی وسیب کے باسیوں کو سہولت دینے کی بجائے وسیب میں فتنہ کی بنیاد رکھی ہے تاکہ ملتان اور بہاولپور کی بحث میں سرائیکی صوبہ کی تحریک کو ثبوتاڑ کیا جاسکے۔ مرکزی نائب صدر اللہ وسایا لنگاہ نے کہا کہ بہاولپور سیکریٹریٹ کی صورت میں ڈیرہ غازی خان ڈویڑن کے باسیوں کو زیادہ مسافت کی صعوبت برداشت کرنا ہوگی۔ یوں اس سیکریٹریٹ کی افادیت کا خاطرخواہ فائدہ نہ اٹھاسکیں گے۔ رحیمیارخان سے مرکزی رہنماخلیل بخاری نے کہا کہ سیکریٹریٹ ہمارے مسئلہ کا حل نہیں مکمل سرائیکی وسیب پر شناخت کیساتھ صوبہ بنایا جائے اور ملتان کو اس کا دارالحکومت بنایا جائے۔ ترجمان ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیکریٹریٹ کا علاقائی دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں فوری طور پر جھنگ،میانوالی، بھکر اور خوشاب کے اضلاع بھی شامل کئیے جائیں۔ ڈپٹی مرکزی سیکریٹری اطلاعات سلطان محمود کلاچی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سرائیکی وسیب میں پانچ نئے اضلاع کے قیام پر حکومتی پیش رفت خوش آئند ہے،اس کے ہمراہ مزید نئے اضلاع علی پور، جام پور،شورکوٹ،نورپورتھل اور پیرمحل کو بھی اضلاع کا درجہ دیا جائے۔اجلاس میں علامہ اقبال وسیم،احمد نواز سومرو،ملک جاوید چنڑ،سید خلیل بخاری، ڈاکٹر مقصود لنگاہ،ریاض کھرل،اکرم گھلو، ملک شوکت،ملک صابر گھلو،سلطان کلاچی،اعجاز الرحمن، اشرف لنگاہ،عبدالقیوم شاکر،شرافت عباس لنگاہ،عبدالرزاق،زین العابدین بھٹی،میڈم بشیراں،جعفر لنگاہ،اللہ وسایا لنگاہ،ملک نعیم اقبال،عبدالحمید بلوچ،سید اضغر، شاہ، اللہ دادبھی شریک ہوئے۔

نخبہ تاج لنگاہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -