"مارشل لاء میں ہم نے صرف کھویا پایا کچھ نہیں، آج ہی کے دن ۔ ۔ ۔" حامد میر اور عاصمہ شیزاری صبح صبح میدان میں آگئے

"مارشل لاء میں ہم نے صرف کھویا پایا کچھ نہیں، آج ہی کے دن ۔ ۔ ۔" حامد میر اور ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی حامد میر اور عاصمہ شیرازی صبح صبح ہی جمہوریت کی حمایت اور آمریت کی مخالفت میں میدان میں آگئے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ پر انہوں نے پانچ جولائی  1977کے مارشل لا کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی اور فسادات کی وجہ قرار دیا۔

سینیئر صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ "آج 5 جولائی ہے 1977 میں اسی دن مارشل لاء نافذ ہوا جس کے بعد صحافت پابند ہوئی اور سیاست میں لسانی و فرقہ وارانہ جماعتوں کو متعارف کرایا گیا 1985 کے غیر جماعتی الیکشن نے قوم کو برادریوں میں تقسیم کیا اور سیاچن پر بھی بھارت نے قبضہ کر لیا مارشل لاء میں ہم نے صرف کھویا پایا کچھ نہیں"

ضیا کے مارشل لا پر تبصرہ کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی نے کہا کہ "پانچ جولائی کے دن ہماری تاریخ کے ایک سیاہ باب کا آغاز ہوا، پاکستان میں فرقہ واریت، انتہا پسندی اور عدم برداشت نے جنم لیا۔ آئین اور قانون کی پامالی اور جمہوریت پر شب خون ۔۔۔ عوام نہ کبھی بھولے ہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے۔ آمریت ہمیشہ کے لئے مردہ باد ، جمہوریت زندہ باد " عاصمہ نے بلیک ڈے کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

حامد اور عاصمہ کے ٹویٹس کے ردعمل میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے جمہوریت کی حمایت اور آمریت کی مخالفت میں بات کی۔

مزید :

کورونا وائرس -