باہمی تعاون کے ذریعے انفرادی مسائل کا حل ممکن!

باہمی تعاون کے ذریعے انفرادی مسائل کا حل ممکن!
باہمی تعاون کے ذریعے انفرادی مسائل کا حل ممکن!

  

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ نے اپنی کیفیت کو اپنی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بیان فرمایاتو انہوں نے اپنے شوہر کی پوری زندگی چھ جملوں میں بیان کر دی۔یہ چھ جملے حقوق العباد سے متعلق تھے(1) آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور (2) ہر سچی بات کی تصدیق کرتے ہیں اور(3) دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور(4) دوسروں کو کما کر دیتے ہیں ( بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں) اور (5) مہمان نوازی کرتے ہیں اور(6) ہر حق والے کا ساتھ دیتے ہیں۔ ( مفہوم صحیح بخاری و مسلم )

ان چھ نکات میں سے ہر ایک پوائنٹ پر کتاب لکھی جا سکتی ہے ،یہ کہا جا سکتا ہے کہ دین اسلام کی اساس ہی امداد باہمی کے اصولوں پر رکھی گئی ہے ۔نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاو ن کرو۔(سورة مائدہ القرآن) اس تعاون اور باہمی بھائی چارے کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور ایک دوسرے کے لیے سہارا بن جائیں ۔یعنی امداد باہمی کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں۔ہمارے معاشرے میں امداد باہمی کو وہ اہمیت حاصل نہ ہو سکی جو ایک اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے ہونی چاہیے تھی۔ایک دوسرے کی کفالت کرنا ،مل جل کر دکھ درد بانٹا، ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنا ، اسے امداد باہمی کہتے ہیں ۔امداد باہمی کا مطلب کسی کو قرض دینا نہیں بلکہ اس کی اس طرح مدد کرنا کہ دوسرا اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو سکے ہے ۔

امداد باہمی کا عالمی دن ہر سال جولائی کے پہلے ہفتہ کے روز منایا جاتا ہے ۔ اس سال یہ دن4 جولائی 2020 ءکو منایا جا رہا ہے ۔اس دن کو منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ نے1992ءمیں کیا۔ اس دن کے منانے کا مقصدآگاہی دینا ہے کہ باہمی تعاون و اشتراک کے ذریعے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل بھی ممکن ہے۔اس دن کی مناسبت سے مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز اور کانفرنسز ،ٹی وی پروگرامز،اخبارات میں کالم و فیچر کا اہتمام کیا جاتا ہے جس سے عوام الناس میں امداد باہمی کے بارے شعور و آگاہی پیدا کیا جانا مقصود ہوتا ہے ۔

قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ ﷺ میں باہمی امداد اور تعاون کی بڑی ترغیب دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بھائی کہا گیا ہے ۔ہمارے ہاں بھائی ہی بھائی کو دکھ میں ،تکلیف میں ،تڑپتے دیکھ کر خوش ہوتا ہے، اس کے دکھ دور کیا کرنے اسے دکھ دیتا ہے۔

تمام لوگوں میں وہ شخص اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہچانے والا ہو، اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ پسندیدہ نیکی یہ ہے کہ ہماری وجہ سے کسی کی زندگی میں خوشی آجائے ،کسی کی تکلیف دور ہو جائے ،قرض کی ادائیگی کا انتظام ہو جائے،آدمی ہی آدمی کی دوا ہے ،ان کے خوش نصیب ہونے میں کیا شک ہے جو دوسروں کے کام آتے ہیں ،ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں ،جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا ان کا سہارا بنتے ہیں ،محتاج ،ضرورت مند،نادار،بے آسراکی مدد کرتے ہیں ۔

ہمیں مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے ۔ ہمارے معاشرے میںبعض افراد اتنے مال دار ہیں کہ وہ لاکھو ںروپے گھر کی تزئین، درباروں پر چادریں ،مسجدوں میں چندے ،عمرے کرنے ،حج کرنے ، شادی بیاہ پر ، اپنی نمود و نمائش کے لیے خرچ کر دیتے ہیں ۔لیکن ان کا پڑوسی،ملازم،یا رشتہ دار بیماری کی دوا ،بچوں کے کپڑے،شام کے کھانے کے لیے ترس رہا ہوتا ہے۔ایساکیوں؟ اس کی وجہ اسلام کی تعلیمات سے ناآشنائی ہے ۔ دین اسلام میں بتایاگیا ہے کہ مال کو جمع کرنے والوں کے منہ قیامت کے دن ان ہی کے مال سے داغے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ مال جس کو تم سنبھال کر رکھتے تھے ۔

ہمارے ہاںایک فرد کا محل ،کوٹھی اور کئی مکان اور سینکڑوں افرادسڑکوں ،پارکوں میں ،کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔ان سب سے پوچھ گچھ ہو گی ،وہاں صاحب مال لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہی متقی لوگ بہشت کے باغوں میں اور چشموں کے کناروں پر عیش سے رہیں گے جن کے مال کا ایک حصہ دنیا میں غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ ہوتا تھا (سورة الذاریات)جو دولت مند اپنی دولت کا ایک حصہ حاجت مندوں کی کفالت پر خرچ کرتے ہیں ، وہ اعزاز و اِکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔

(سورہ المعارج)اے نبی! لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون سا مال خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیں کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔''(سورةالبقرہ)یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگر کسی کی مدد کی جا ئے تو اس کو احسان نہ جتلایا جائے ۔” جو لوگ ریا کاری کے ساتھ یا کسی پر احسان جتانے کی غرض سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ، وہ کسی اجر و ثواب کے مستحق نہیں ہیں ۔ کیونکہ ریاکاری کا تعلق ایمان سے نہیں ہے بلکہ کفر و منافقت سے ہے (قرآن مجید میں مسکین (سفید پوش) کی ضروریات پر توجہ دلائی گئی ہے ۔

ایک اور حدیث میں بھی ان لوگوں کا خاص خیال رکھنے کا کہا گیاہے ، کیونکہ عام مانگنے والے تو دوسروں سے مانگ کر اپنی ضروریات پوری کرلیتے ہیں ، لیکن نہ مانگنے والے محروم لوگ زیادہ حاجت مند ہوتے ہیں ،اس لئے قرآن و حدیث میں ان کے بارے میں خصوصی حکم دیا گیا ہے ۔''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے دروازے کا چکر لگاتا ہے اورلقمہ دو لقمے اور کھجور دو کھجور لے کرلوٹتا ہے ، مسکین وہ ہے جو اتنا مال نہیں رکھتا کہ اپنی ضروریات پوری کرے اور اس کی غربت کولوگ سمجھ نہیں پاتے کہ اسے صدقہ دیں، اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوکر ہاتھ پھیلاتا ہے ۔ یہ بھی ارشاد ہواکہ جو مالدار لوگ یتیموں مسکینوں (سفید پوش ضرورت مند)کا خیال نہیں رکھتے ، وہ دولت کے حریص اور پجاری ہیں ۔

۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -