اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیخلاف ن لیگ کی اسمبلی میں قرارداد لیکن دراصل اس عبادت گاہ کی تعمیر میں ن لیگ کا کیا کردار ہے؟ اندر کی بات سامنے آگئی

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیخلاف ن لیگ کی اسمبلی میں قرارداد لیکن دراصل اس ...
اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیخلاف ن لیگ کی اسمبلی میں قرارداد لیکن دراصل اس عبادت گاہ کی تعمیر میں ن لیگ کا کیا کردار ہے؟ اندر کی بات سامنے آگئی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد مٰیں مندر کی تعمیر  کیخلاف مسلم لیگ ن نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی اور سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد بالآخر کھدائی کا کام بھی روکے جانے کی اطلاعات ہیں لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ مندر کی تعمیر کے لیے زمین مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ہی الاٹ کی گئی اور اب عمران خان نے اسی زمین پر مندر کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجراء کا اعلان کیا۔

سینئر کالم نویس اور معروف شاعر منصور آفاق نے روزنامہ جنگ میں لکھا کہ "پاکستان میں تقریباً آٹھ لاکھ ہندو آبادہیں۔اکثریت صوبہ سندھ میں ہے۔وہاں زیادہ تر ہندوعمر کوٹ، تھرپارکر، اور میرپور خاص میں مقیم ہیں۔ اسلام آباد میں رہنے والے ہندوؤں کی تعداد تقریباً 3000 ہے۔

یہ سندھ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں،جو رفتہ رفتہ اسلام آباد آئے اور آباد ہوتے گئے۔اسلا م آباد کی اس ہندو کمیونٹی کے مطابق اسلام آباد کے گائوں سیدپور میں ایک چھوٹا سا بہت قدیم مندر تھاجسے اسلام آبا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بہتر بنا کر قومی ورثہ کا درجہ دےدیا،یہ ایک علامتی مندر ہے جو ہندوئوں کےلئے ناکافی ہے۔ان کے پاس کوئی کمیونٹی سنٹر نہیں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ دیوالی یا ہولی منا سکیں۔

اس بنیاد پر 2017 میں حکومت کی طرف سے مقامی ہندو کونسل کو مندر کےلئے چار کنال زمین الاٹ کر دی گئی مگروسائل کی کمی کے سبب تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکا۔ اب وزیراعظم نے تعمیر کے پہلے مرحلے کے لیے دس کروڑ روپے کا اعلان کیا تو بنیادیں کھودی جانے لگیں۔سب سے پہلے تو یہ کہا گیا کہ سرکاری رقم سے مندر تعمیر نہیں ہوسکتا۔میرے خیال کے مطابق تویہ رقم انہیں اقلیتی امور کے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اکائونٹ سے ملنی ہے۔ جہاں اقلیتوں کی مذہبی عمارات کےلئے مخصوص فنڈ موجودہے۔

اگرچہ وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ہندوؤں کی عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے فنڈز سے متعلق فیصلہ وزیر اعظم کریں گےمگراس پر زیادہ بہتر روشنی وزیر مذہبی و اقلیتی امور نور الحق قادری ہی ڈال سکتے ہیں۔مسلم لیگ نون کی طرف سےپنجاب اسمبلی میں اس مندر کی تعمیر کے خلاف قرار داد جمع کرا دی گئی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ زمین ہندو برادری کو نون لیگ کے دورِ حکومت میں ہی دی گئی تھی"۔

مزید :

قومی -