مودی کی "منا بھائی ایم بی بی ایس" بننے کی کوشش ناکام

مودی کی "منا بھائی ایم بی بی ایس" بننے کی کوشش ناکام
 مودی کی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) منا بھائی ایم بی بی ایس بالی ووڈ کی وہ یاد گار فلم ہے جس نے سرحد کے دونوں جانب بالی ووڈ کے مداحوں کے دل موہ لیے۔

جنہوں نے یہ فلم دیکھی ہے انہیں یاد ہوگا کہ اس فلم کے  بہترین مناظر میں ایک منظر جرائم کے اڈے کو ہسپتال میں بدلنے کا تھا ، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب فلم میں ایک ڈان کا کردار نبھانے والے سنجے دت اپنے والد کے خوف سے اڈے کو ہسپتال میں بدل دیتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کرسکیں کہ وہ ایک حقیقی ڈاکٹر ہیں۔

اس سین سے شاید بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی بے حد متاثرہیں جنہوں نے دور دراز ہمالیہ ریجن میں نہ صرف جعلی ہسپتال بنوا دیا بلکہ اس میں دھڑلے سے فوٹو شوٹ بھی کروایا۔ یہاں یہ سمجھنامشکل ہے کہ مودی جی نے کس کے خوف سے ایسا کیا ہوگا۔

فلم کے ہسپتال میں ہسپتال میں لازم اشیا کا خیال رکھا گیا لیکن بی جے پی فار انڈیا اور دیگر سرکاری سوشل میڈیا اکاونٹس پر شیئر کی گئی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مودی جس ہسپتال میں کھڑے ہیں وہاں نہ تو کوئی ڈاکٹر ہے، نہ نرس نہ ہی وینٹی لیٹراور نہ ہی کوئی دیگر طبی آلات مزید ستم یہ کہ وہاں موجود بڑا سا پرجیکٹر ظاہر کررہا ہے کہ یہ کوئی کانفرنس روم ہے۔

بی جے پی فار انڈیا
تصویر بشکریہ:بی جے پی فار انڈیا،ٹویٹر

مودی سرکارکی اس کوشش کو منا بھائی فلم کے اس سین جتنا بھی مہلت نہ مل سکی اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کی جعلی تیمار داریاں پکڑ لیں ، بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا پرہیش ٹیگ ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ بھی ٹرینڈ کرنے لگا۔ جہاں ' زخمی' جوانوں کو رکھا گیا ہے اس جگہ پر سوال اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے وزیر اعظم مودی کی فوجیوں کے ساتھ اس ملاقات کو ’فوٹو اوپ‘ یعنی صرف تصاویر کے غرض سے کیے جانے والے دورہ قرار دیا ہے۔

نریندر مودی کی لداخ میں زخمیوں کی عیادت کرنے کی تصاویر صارفین کو ماضی میں لے گئیں اور وہ اس جعلی ہسپتال اور مریضوں کو یاد کرنے لگے جو منا بھائی کے دوستوں نے مل کر ان کے لیے بنایا تھا۔

وزیر اعظم کی ایک تصویر کو ٹویٹ کرتے ہوئے سیکولر انڈین 72 نامی صارف نے لکھا: ’نہ دواؤں کی ٹیبل ہے، نہ ڈاکٹر، نہ مرہم، نہ کوئی مریض سو رہا ہے، نہ کسی کو ڈرپ لگی ہے، نہ آکسیجن سیلنڈر ہے، نہ ہی وینٹیلیٹر۔’ایسا لگتا ہے کہ یہ منا بھائی ایم بی بی ایس کا کوئی سین ہے۔‘

ڈاکٹر جوالا جی نامی ایک صارف نے بھی اس تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ایک اصلی ڈاکٹر بتا رہی ہے کہ یہاں کیا کیا نہیں ہے۔

’مریضوں کا آئی ڈی بینڈ نہیں ہیں، پلس آکسی میٹر نہیں ہیں۔ ای سی جی کے تار نہیں ہیں۔ مانیٹر نہیں ہیں۔ آئی وی کینولا نہیں ہے۔ ایمرجنسی کریش کارٹ نہیں ہے۔ اور بھی بہت کچھ۔ نہ ہی کوئی ڈاکٹر مریض کی کیفیت بتا رہا ہے۔ اس طرح کے تصاویر بنانے سے قبل کسی ڈاکٹر کی خدمات ہی حاصل کر لیتے۔‘

جیجو جوزف نامی صارف نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور نریندر مودی کی تصویروں کا کولاج بنا کر ٹویٹ کیا اور لکھا: ’سچ کا ہسپتال بمقابلہ پی آر ایکسرسائز۔‘ان تصویروں میں ایک طرف نریندر مودی لیہہ میں فوجیوں سے مل رہے ہیں۔ دوسری تصاویر میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ایک ہسپتال میں داخل لوگوں سے مل رہے ہیں۔

انجلی شرما نے لکھا کہ ایک پرتشدد جدوجہد کا اس طرح مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ہم کچھ دن پہلے ہی 20 جوانوں کو کھو چکے ہیں۔

’لیکن یہاں کچھ تصاویر کے لیے ہسپتال کا نقلی سیٹ اپ تیار کروایا گيا ہے اور کچھ کرائے کے اداکاروں کو وہاں بٹھا دیا گيا۔ ایک دن سچ سامنے آئے گا۔‘

خیال رہے  نریندر مودی جمعہ یعنی تین جولائی کی صبح اچانک لیہہ پہنچ گئے جہاں انھوں نے فوجی افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

ان کا یہ دورہ 15-16 جون کی درمیانی شب انڈیا چین سرحد پر واقع وادی گلوان میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے مابین ایک پُرتشدد تصادم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ اس میں انڈین فوج کے 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیر اعظم نے فوجی افسران سے خطاب کیا اور اس کے بعد زخمی فوجیوں سے بھی ملاقات کی لیکن فوجیوں کے ایک ہسپتال میں ان کی تصاویر کا سوشل میڈیا پر صارفین نے خوب مذاق اڑایا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -تفریح -