”اسلام آباد کے بڑے ہوٹل میں سنتھیا رچی کی ملاقات اس وقت کے وزیر ” مخدوم شہاب الدین “ سے ہوئی جو کہ قربت میں بدل گئی ، یوں ۔۔“سینئر صحافی اعزاز سید نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

”اسلام آباد کے بڑے ہوٹل میں سنتھیا رچی کی ملاقات اس وقت کے وزیر ” مخدوم شہاب ...
”اسلام آباد کے بڑے ہوٹل میں سنتھیا رچی کی ملاقات اس وقت کے وزیر ” مخدوم شہاب الدین “ سے ہوئی جو کہ قربت میں بدل گئی ، یوں ۔۔“سینئر صحافی اعزاز سید نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی اعزاز سید نے سنتھیا ڈی رچی کو لے کر کئی اہم انکشافات کیے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں امریکی دوشیزہ کی ملاقات اس وقت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین سے بھی ہوئی جو جلد ہی باہمی قربت میں بدل گئی۔ یوں اس کے پیپلز پارٹی حکومت کے اہم عہدیداروں کے ساتھ تعلقات کا آغاز ہوا اور وہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی مختلف تقاریب میں ملی۔

روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں صحافی اعزاز سید کا کہناتھا کہ سنتھیا ڈی رچی اپنے تئیں پہلی بار نومبر2009 میں پاکستان کے ایک مختصر دورے پر کراچی آئی اور وہاں متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ایک ریسرچر کی حیثیت سے ملی۔امریکہ واپسی پر سنتھیا نے پاکستانی ویزہ کے بہ آسانی حصول کے لیے امریکی شہر ہیوسٹن میں پاکستانیوں کی طرف سے بنائے گئے چیمبر ا?ف کامرس میں جان پہچان بنائی اور یوں اس کے پاکستان آنے جانے کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔

سینئر صحافی کے مطابق امریکہ سے سنتھیا کو نوشہرہ میں موجود ایک پاکستانی امریکن کاروباری شخصیت ڈاکٹر اشرف عباسی کے بارے میں پتا چلا۔ اشرف عباسی ہیوسٹن میں پاکستان چیمبر آف کامرس قائم کرنے والی کاروباری شخصیات میں سے ایک تھے جو ان دنوں کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر امریکہ چھوڑ کر اپنے آبائی شہر نوشہرہ منتقل ہو چکے تھے۔سنتھیا نے ان سے ان کے فیس بک پیج پر رابطہ کرکے ان دنوں سیلاب کے شکار نوشہرہ کے عوام کے لیے کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اسے خوش آمدید کہا گیا یوں وہ پاکستان میں فلاح و بہبود کے کاموں سے منسلک ہوگئی۔ پتا نہیں اس وقت اس کے دل میں کیا تھا لیکن وہ مانسہرہ، ایبٹ آباد اور کوہستان کے علاقوں میں جانے کی بڑی خواہشمند تھی۔

ان کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ یہ وہ دور ہے کہ جب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی ادارہ سی آئی اے بھی انہی علاقوں میں سال2011 کے آپریشن کی خفیہ تیاریوں میں مصروف تھا جس کا ذکر سی آئی اے کے اس وقت کے سربراہ لیون پینٹا بھی اپنی خودنوشت میں کر چکے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سے محض چند ماہ قبل سنتھیا ڈی رچی کو ایبٹ آباد میں انٹیلی جینس بیورو کے اہلکاروں نے روکا اور اسے فوری اس علاقے سے نکل جانے کا کہا گیا۔

سنتھیا رچی کا ویزہ ختم ہورہا تھا لہٰذا اس نے ویزے کی توسیع کے لیے ڈاکٹر اشرف عباسی سے مدد کی درخواست کی جنہوں نے اپنے قریبی عزیز موجودہ وفاقی وزیر اعظم سواتی سے رابطہ کیا۔ اعظم سواتی نے سینیٹ میں اپنے دوست اور اس وقت کے وزیر داخلہ سینیٹر رحمٰن ملک سے فون پر سنتھیا کی سفارش کی، بعد میں اعظم سواتی کی بیٹی سنتھیا ڈی رچی اور ڈاکٹراشرف عباسی کے ہمراہ رحمٰن ملک سے ان کے دفتر میں ملی۔

یہ وہ موقع تھا کہ جب سنتھیا کسی پاکستانی وزیر سے پہلی بار مل رہی تھی۔ رحمٰن ملک نے فوری ویزہ دینے کے بجائے ویزہ درخواست کو انٹیلی جینس کلیئرنس کے لیے معمول کے عمل سے گزارنے کا حکم دیا۔اسی دوران اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں امریکی دوشیزہ کی ملاقات اس وقت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین سے بھی ہوئی جو جلد ہی باہمی قربت میں بدل گئی۔ یوں اس کے پیپلز پارٹی حکومت کے اہم عہدیداروں کے ساتھ تعلقات کا آغاز ہوا اور وہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی مختلف تقاریب میں ملی۔

مخدوم شہاب الدین سے سنتھیا رچی کے معاملات خراب ہوئے تو انہوں نے اسے دی گئی رہائش کی سہولت واپس لے لی۔ سنتھیا اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان سے بھی جا ملی جنہوں نے ایک دوست کو کہہ کر اس کی رہائش کا بندوبست کرا دیا۔پاکستان آتے جاتے اس نے اسٹیبلشمنٹ سے بھی اپنے گہرے تعلقات استوار کیے۔ اس دوران سنتھیا نے خود کو ایک ڈاکیومینٹری فلم میکر کے طور پر متعارف کرایا یوں اسے ڈاکیومینٹری بنانے کے نام پر مختلف اداروں سے پیسے بھی دلائے گئے جبکہ اہم اور حساس مقامات پر بھی لیجایا گیا۔ سنتھیا ڈی رچی قومی منظر نامے پر اس وقت آئی جب اس نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو پر اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ کے ذریعے غیر اخلاقی اور نازیبا الزامات عائد کیے۔

پیپلز پارٹی نے اس پر ردعمل کے طورپر ایف آئی اے سے رجوع کیا تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین پر جنسی ہراسگی جبکہ سابق وزیرداخلہ رحمٰن ملک پر زیادتی کے الزامات لگا دیے گئے۔

مزید :

قومی -