انجینئرنگ یونیورسٹی کےوائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور کوکس کی سفارش پر تعینات کیا گیا؟سینئر کالم نگار نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

انجینئرنگ یونیورسٹی کےوائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور کوکس کی سفارش پر تعینات ...
انجینئرنگ یونیورسٹی کےوائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور کوکس کی سفارش پر تعینات کیا گیا؟سینئر کالم نگار نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف کالم نگاراورسینئر تجزیہ کار پروفیسر نعیم مسعود نے انکشاف کیا ہےکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر سید منصور سرور شاہ کو ان کے کزن وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ کی سفارش پر وائس چانسلر لگایا گیا۔

نجی ٹی وی کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےپروفیسر نعیم مسعودنے کہاکہ یوای ٹی لاہور  کی انتظامیہ کی مالی بدانتظامی کا اندازہ صرف اس بات سے ہی لگا لیں کہ  یہاں اچانک اساتذہ وملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد تک کٹوتی کرلی گئی ہے۔ انہوں نےکہاکہ ڈاکٹر منصور سروراس سے قبل  پنجاب یونیورسٹی کے بہت بڑے لیڈر تھے،اُس وقت جامعہ پنجاب میں اُن کے کزن ڈاکٹر مجاہد کامران وائس چانسلر تھے جنکی آشیر باد سے پہلے وہ انجوائے کرتے رہے تاہم بعد ازاں مجاہد کامران کی دوسری شادی کے بعد ان کے آپس میں شدید اختلافات ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ  یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پیدا ہونے والے انتظامی بحران اور اساتذہ کی تنخواہوں میں پچاس فیصد کٹوتی کا معاملہ افسوسناک ہے  ،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کہ اس ساری صورتحال کا براہ راست ذمہ دار کون ہے؟یو ای ٹی کے  موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر سید منصور سرور شاہ کو ان کے کزن وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ کی سفارش پر وائس چانسلر لگایا گیاتھا ۔

دوسری طرف صدر ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن یو ای ٹی لاہور ڈاکٹر فہیم گوہر اعوان نے وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور کے نام اپنے خط میں یوای ٹی کا مالی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  گزشتہ 10سال کا آڈٹ کسی تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے جسکی شفافیت پر کوئی سوال نہ اٹھا سکے، یو ای ٹی کی انتظامیہ نے جون 2020 کے مہینے میں یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں کٹوتی بغیر بتائے کردی اس بارے صرف ایچ او ڈی کو بتایا گیا ،کرونا وغیرہ کی وجہ سے، ایچ ای سی کی طرف سے بجٹ کٹوتی کی سمجھ آتی ہے مگر رچناکالج اور محمد نواشریف یوای ٹی ملتان کی تعمیر وغیرہ پر اٹھنے والے یوای ٹی کے اخراجات کے حوالے سے حکومت پنجاب سے اپنے فنڈز کی واپسی کو یقینی بناکر مالی بحران پر قابو پایاجاسکتا ہے، یقینا یوای ٹی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے خطوط لکھنے جس کو ہم سراہتے ہیں مگر کٹوتی کے معاملے پر اساتذہ کو اندھیرے میں رکھنا انتہائی غیر مناسب طرز عمل ہے۔ جس سے اساتذہ کا طبقہ بڑے پیمانے پر مایوس ہوا اور انتہائی غم کی حالت میں ہے، جو یوای ٹی کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جس سے تعلیمی اور غیر تعلیمی عملے کو صدمہ پہنچایا ہے، ٹیچرز اس فیصلے سے ناخوش ہیں اوراس صورتحال نے انہیں یونیورسٹی کے چانسلر سےاپنےبنیادی انسانی حقوق کےمطالبے کےلئےگورنرہاؤس کےسامنے احتجاج کرنے پرمجبورکیاہے،ہم سمجھتے ہیں کہ اساتذہ کے وقار کے خلاف ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پر سڑکوں پر احتجاج کریں۔

اساتذہ کو اس حق کےلئےاحتجاج کرنے پرمجبور کیاجارہا ہے،اساتذہ سمجھتے ہیں کہ یو ای ٹی ایک دن میں اس مالی صورتحال پر نہیں پہنچی،جس نےقومی اوربین الاقوامی سطح پریوای ٹی کی ساکھ کو داغدار کردیاہے،لہذا اساتذہ کی اکثریت کا مطالبہ ہے کہ مالی بد انتظامی کے مرکزی شعبوں کی نشاندہی کی جائے، اس بحران کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اس مقصد کے لیے پچھلے 10 سالوں سے کسی معتبر آڈٹ تنظیم سے ایک آزاد اور منصفانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے،آڈٹ کمیٹی میں ٹی ایس اے کونمائندگی بھی دی جائے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -