شرف الدین شہید اور پٹرولنگ پولیس کی حالت زار

شرف الدین شہید اور پٹرولنگ پولیس کی حالت زار
شرف الدین شہید اور پٹرولنگ پولیس کی حالت زار

  

محترم قارئین کرام ، 8 جنوری 2003ء کو "محفوظ راہزن" کے سلوگن کے تحت پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کی بنیاد رکھی گئی جسکا مقصد ہائی ویز پر گشت کرتے ہوئے عوام کو محفوظ رکھنا, کرائم کو کنٹرول کرنا اور بالخصوص دیہاتی علاقہ جات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے ۔بلاشبہ ابتداء میں اس فورس میں نوجوان, محنتی اور فرض شناس افراد کو بھرتی کیا گیا اور ان سے پنجاب ہائی وےپٹرول کے ویژن کے مطابق کام لیا گیا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا بلی تھیلے سے باہر آگئی ۔ ہوا کچھ یوں کہ ضلع پولیس سے 2 سالہ ڈیپوٹیشن پر پولیس افسران نے اس فورس میں آنا شروع کر دیا اور اسکا جنازہ نکال کر رکھ دیا ۔ آپ اور میں بخوبی جانتے ہیں کہ تھانوں میں تعینات پولیس افسران اپنی تنخواہ ہر صورت صافی بچاتے ہیں چاہے اسکے لئے انہیں کتنے ہی جتن کیوں نہ کرنے پڑیں لیکن پٹرولنگ پولیس میں تو ایسا رواج نہیں تھا ۔

جب سے ضلع پولیس کے افسران نے اس فورس میں آنا شروع کیا تب سے پنجاب ہائی وے پٹرول پولیس کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ پنجاب ہائی وے پٹرول پولیس کی بنیاد ق لیگ کے دور میں چوہدری پرویز الہی نے رکھی انکے دور حکومت تک تو معاملات ٹھیک رہے باقاعدہ فنڈز وغیرہ مہیا ہوتے رہے لیکن جونہی پیپلز پارٹی, مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی یکے بعد دیگرے حکومتیں آئیں انہوں نے اس فورس کو ہر طرح سے ناکام سمجھ کر ختم کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن اتنی بڑی فورس اورانفراسٹرکچر کو ختم کرنا ممکن نہیں تھا تو انہوں نے فنڈز و دیگر سہولیات روکنا شروع کر دی جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب ہائی وے پٹرولنگ میں دن بدن بد انتظامی ،بد نظمی اور کرپشن پروان چڑھنے لگی ۔

ایک واقعہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں میرے قریبی دوست جو پٹرولنگ پولیس میں بھرتی ہوئے،انتہائی ایماندار اور فرض شناس آفیسر شاید کہیں دیکھا ہو ۔ مجھے بتاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے کہ پی ایچ پی میں تو پنکچر تک گشت آفیسر کو خود لگوانا پڑتا ہے ،گاڑی خراب ہونے کی صورت میں خود ٹھیک کروانی پڑتی ہے،10 لیٹر پٹرول میں 8 گھنٹے ڈیوٹی گشت کیصورت میں کرنی پڑتی ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے،روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹ پورا کرنے کے لئے جرمانے اور مقدمے درج کروانا پڑتے ہیں،ہر چیز کا حساب کتاب خود لگانا پڑتا ہےاورمہینےکےآخرمیں ادھار مانگ کرگزر بسر کرتا ہوں اور بچوں کا پیٹ پالتا ہوں ۔ ظلم کی انتہاء اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے جو لوگ کرپشن کرنے کو تیار نہیں ہم انکو مجبور کرتے ہیں کہ یہ سب آپ کو کرنا پڑے گا؟انتہائی افسوس دہ بات ہے اور یہی سب کچھ ہمارے سرکاری اداروں میں ہورہا ہے ۔

پٹرولنگ پولیس کی حالت زار لکھنے بیٹھوں تو صفحات کم پڑ جائیں ،چیدہ چیدہ باتوں پر ارباب اختیار اور حکومت کی توجہ دلانا چاہتا ہوں ،سب سےپہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت کو چاہئیے کہ پی ایچ پی پولیس کو باقاعدہ فنڈز اور سہولیات دی جائیں تاکہ وہ اپنی سینکڑوں ناکارہ گاڑیاں ٹھیک کروا کو موئثر گشت کر سکیں اور عوام کے کام آسکیں۔ دوسرا ڈیپوٹیشن پیریڈ پر آنے والے ضلعی پولیس افسران کو اس فورس میں نہ شامل کیاجائے،اگرایسانہیں کر سکتےتوپھر تمام پنجاب ہائی پٹرول کی چوکیوں کو تھانوں میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ جرائم کے خاتمے کے لئے موئثر اقدامات اٹھائے جا سکیں ۔ تیسرا زیادہ تر جوان آرام پرست ہو چکے ہیں اور پٹرولنگ برائے نام رہ گئی ہے،کئی گشت آفیسر تو صرف گھروں تک محدود رہتے ہیں اسکا واحد حل بائیو میٹرک حاضری اور گشت والی گاڑیوں میں کیمرہ جات نصب کئے جائیں جسکو ہیڈ آفس میں مانیٹر کیا جائے ۔

چوتھا اقدام جو کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ رینک کے مطابق عہدے دئیے جائیں، کئی چوکیوں پر انچارج اور ایڈمن آفیسر ہیڈ کانسٹیبل بھی دیکھنے کو ملے جبکہ اے ایس آئی انکے ماتحت کام کرتے پائے گئے ۔پانچواں گاڑیوں کے پنکچر انکی مینٹی نینس جوانوں کی بجائے محکمہ خود ادا کرے ۔چھٹا پی ایچ پی سے چالان بک اورمقدمہ کے اندراج کا اختیار واپس لیا جائے اور انکو صرف گشت اور ریسکیو کرنے تک محدود رکھا جائے تاکہ دن بدن بڑھتی ہوئی کرپشن کو روکا جا سکے ۔ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ پی ایچ پی پولیس والے جعلی چالان بک اور ناکے لگا کر ٹریفک پولیس کی طرح لوگوں کو لوٹنے لگ گئے ہیں جو سوائے ندامت کے اور کچھ نہیں ۔

آخر میں حکومت, پنجاب ہائی پٹرول کے ایڈیشنل آئی جی, ایس پی و دیگر افسران کو دوش دوں گا کہ یقینا آپ کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے کانسٹیبل شرف الدین شہید ہو گیا ۔شہید کانسٹیبل شرف الدین کی وہ تصویر دیکھ کر کالم لکھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو آگئے جسمیں وہ اپنے 2 سالہ بیٹے کے ساتھ بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا ہے ۔ کیسا خوبصورت, دبلا پتلا, ملنسار اور فرض شناس نوجوان تھا دیکھ کر تصور ہی نہ ہو کہ اسکو بھی وقت سے پہلے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے جسکے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ہیں اور یتیمی انکا مقدر بنے گی ۔ شرف الدین شہید پٹرولنگ پوسٹ 69 سولنگ حاصل پور کا ملازم تھا ۔ چند دن پہلے گشت والی گاڑی کی خرابی کیوجہ سے وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر گشت کررہاتھا کہ بہاولپور روڈ پر رکشہ خراب ہونے کی اطلاع ملی موقع پر پہنچ کر اسکا پنکچر لگوانے کے لئے روڈ پر بیٹھا ٹائر کھول رہا تھا تو پیچھے سے تیز رفتار ٹرک نے کچل ڈالا ۔ شرف الدین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ۔اس اقت اگر گشت کی گاڑی روڈ پر کھڑی ہوتی اسکا سائرن اور لائٹیں جل رہی ہوتیں تو شاید شرف الدین بچ جاتا لیکن ایک اور چراغ فرض شناسی کے دوران اللہ کے حضور پیش ہو گیا ۔ میرا عقیدہ ہے شرف الدین جس قدر ملنسار, بااخلاق ,محنتی اور ایماندار تھا شہادت اس قدر دھج کے ساتھ اسکا مقدر بنی لیکن شرف الدین شہید کے بچے حکومت, پنجاب ہائی وے پٹرول پولیس کی نالائقی اور حالت زار پر ضرور افسردہ ہوں گے ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطعہ نظر ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -