وزیراعلیٰ سندھ نے 200 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح کر دیا ،اس میں کیا کیا سہولیات میسراور کن مریضوں کا علاج کیا جائے گا ؟تفصیل آپ کو بھی چونکا دے گی

وزیراعلیٰ سندھ نے 200 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح کر دیا ،اس میں کیا کیا ...
وزیراعلیٰ سندھ نے 200 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح کر دیا ،اس میں کیا کیا سہولیات میسراور کن مریضوں کا علاج کیا جائے گا ؟تفصیل آپ کو بھی چونکا دے گی

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 200 بستروں پر مشتمل سندھ انفیکٹیئس ڈزیز ہسپتال کا افتتاح کیا جو 54 بستروں کے باضابطہ آپریشن شروع کرے گا اور آئندہ 6 ہفتوں میں یہ ہسپتال 200 بستروں کی گنجائش کے ساتھ کام کرے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں اس ہسپتال کا ریسرچ سنٹرز کی حیثیت سے درجہ بڑھا رہا ہوں تاکہ کورونا وائرس اور اس طرح کی دیگر امراض میں ضروری تحقیق کی جاسکے، لہذا اب اس کا نام سندھ انفیکٹیئس ڈزیز ہسپتال اور ریسرچ سنٹر ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نےسندھ انفیکٹیئس ڈزیز اسپتال اور ریسرچ سینٹر، نیپا کے افتتاح کے موقع پر کہی۔ ان کے ہمراہ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ بھی تھے۔ وبائی امراض سے منسوب اس 400 بستروں پر مشتمل ہسپتال کو نیپا میں 11736.359 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسے انفیکٹیئس ڈزیز ہسپتال میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے محکمہ صحت کے لئے ایک خصوصی گرانٹ جاری کی تاکہ اسے فعال بنانے کا کام جاری رہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے دو مہینوں میں تین بار ہسپتال کے نامکمل ڈھانچے کا دورہ کیا اور اس کا بلاک اے اور بی مکمل ہوگیا ہے، ابھی بلاک سی سمیت گراؤنڈ پلس پانچ منزلہ عمارت مکمل ہونا باقی ہے۔سید مراد علی شاہ نے عملدرآمد اور انتظامات کا کام ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے حوالے کیا۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی نے ذاتی طور پر ہسپتال کو فعال بنانے کیلئے ہسپتال کے تمام سازوسامان نصب کردیئے۔ پہلے مرحلے میں بلاک اے اور بی میں واقع 200 بستروں پر مشتمل ہسپتال ڈاؤ یونیورسٹی کو انتہائی ضروری بنیادی سہولیات کے ساتھ پر فعال بنانے کے لئے خصوصی گرانٹ کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔ فی الحال بلاک اے اینڈ بی کے گراؤنڈ اور پہلی منزل کا کام مکمل ہوگیا ہے اور اس کا افتتاح آج  وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے دورے کے ساتھ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ہسپتال میں ایچ وی اے سی کا نظام شامل ہے جو کسی بھی جدید متعدی بیماریوں کے ہسپتال کے لئے ضروری اصولوں پر مبنی ہے اور یہ ہسپتال میں مجموعی طور پر 54 بیڈز، آٹھ بستروں پر مستمل گراؤنڈ فلور ایمرجنسی، 16 بستروں پر مشتمل آئی سی یو جن میں وینٹی لیٹرز سپورٹ اور 34 ایچ ڈی یو بیڈز ہوں گے۔ پہلی، دوسری اور تیسری منزل جس کو آئندہ 6 ہفتوں کے اندر فعال بنایا جائے گا وہاں 32 آئی سی یو بیڈز اور 88 ایچ ڈی یو بستروں کی گنجائش ہوگی۔ ان بستروں کے علاوہ، یہاں ریڈیولاجی کی خدمات بھی دستیاب ہیں جن میں ایک 500 ایم اے ایکس رے مشین، ایک موبائل ایکس رے یونٹ، ایک الٹراساؤنڈ مشین اور ایک موبائل الٹراساؤنڈ یونٹ شامل ہیں۔ یہاں ایک مکمل فارمیسی سروس ہے جس میں آئی وی ایڈمیچر فارمیسی شامل ہیں۔ ہسپتال میں دستیاب مشینری اور سامان، جن میں بالکل نئے 16 وینٹی لیٹرز، ٹیلیمیٹری سسٹم والے 200 مانیٹر، 50 بی آئی پی اے پی، 10 سی پی اے پی، 6 ڈیفبریلیٹرز، 6 ای سی جی مشینیں، VIE ٹینک کی فراہمی والے ہر بستر کے لئے مکمل آکسیجن، ہوا اور ویکیوم سسٹم شامل ہیں۔ ایک آرٹیریل بلڈ گیس (اے بی جی) مشین اور اس سے متعلق سازوسامان شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہسپتال میں مقرر کیے گئے انسانی خدمات کیلئے ایک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ایک ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ایک منیجر (فنانس اینڈ اکاؤنٹس)، ایک اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر شامل ہیں۔ کلینیکل عملے میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر انفیکٹیئس ڈزیز، ایک سینئر رجسٹرار انفیکٹیئس ڈزیز، دو انتہائی نگہداشت کے ماہرین، تین جونیئر کرٹیکل کیئر کنسلٹنٹس، ایک مینجر انفیکٹو کنٹرول، ایک مینیجر نرسنگ، 15 میڈیکل آفیسرز، نرسز، 5 آئی سی یو ٹیکنیشن، 4 فارمیسی ٹیکنیشن، 15 وارڈ بوائے شامل ہیں۔ جنیٹریئل اور سکیورٹی سروسز کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے کراچی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے دو ہسپتال قائم کر دیئے ہیں اور اب ہر ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر میں ہسپتال قائم کیے جائیں گے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -