بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس اور کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے،بڑا مطالبہ سامنے آگیا

بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس اور کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے،بڑا ...
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس اور کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے،بڑا مطالبہ سامنے آگیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں 22.5 فیصد اضافے کی شدید مذمت کر تے ہو ئے اسے کراچی کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی قرار دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے شہریوں پر ظلم بند کیا جائے اور یہ اضافہ فی الفور واپس لیا جائے،کے الیکڑک کا لائسنس منسوخ کرکے قومی تحویل میں لیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے پی ٹی آئی کی جانب سے کراچی میں کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرے کے اعلان پر حیرت کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ خود حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندے موجود ہیں تویہ اراکین اسمبلی کس کےخلاف احتجاج کررہےہیں؟کےالیکٹرک عوام کوریلیف دینےکی بجائےمشکلات و پریشانیوں میں مسلسل اضا فہ کر رہی ہے،کے الیکٹرک کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی سے شہری سخت نالاں ہیں،لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ نے عوام کو پہلے ہی دوہرے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے،عوام کے شدید احتجاج کے باوجود کے الیکٹرک نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور پیدا وار میں اضا فے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی اور اب ستم ظریفی یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائےگا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام پر ظلم ڈھانے والی کمپنی کو سبسڈی دینے کا سلسلہ جاری ہے،کے الیکٹرک کو اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے، اپنے تمام پاور پلانٹس کو چلانے کے لیے پابند کرنے کے بجائے اس کی سرپرستی کی جا رہی ہے، کے الیکٹرک کو صرف اپنے منافع کی فکر ہے، اسے کراچی کے عوام کی مشکلات اور پریشانیوں سے کوئی سرو کار نہیں، کے الیکٹرک اگر معاہدے کے مطابق اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں معاہدے کے مطابق سرمایہ کاری کرکے سسٹم کو اپ گریڈ کرے اور اپنے تمام پاور پلانٹس چلائے تو کراچی کے عوام کی بجلی کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں اور نیشنل گرڈ سمیت کسی اور ذریعے سے بجلی کی ضرورت باقی نہ رہے مگر افسوس کہ کئی سال گزر گئے اور کے الیکٹرک نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اب بہت ہو گیا ،وفاقی حکومت اور نیپرا کو کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، کراچی سے منتخب پی ٹی آئی کے 14 ایم این ایز اور اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی مومنٹ کے 4اراکین اسمبلی کراچی کے شہریوں کو ریلیف دینے بجائے کے الیکڑک کی سرپرستی کررہے ہیں،ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں لندن میں گرفتار کیا گیا،اُنہوں نے پی ٹی آئی کےلیے الیکشن فنڈنگ بھی کی اور وہ وفاقی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں بطور اہم رکن میٹنگز میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں،وفاقی حکومت کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی بلکہ کے الیکڑک کو ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے نواز اجارہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے ایک بار پھرچیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی کہ وہ کے الیکٹرک کے معاملات کا نوٹس لیکر فرانزک آڈٹ کروائیں، بالخصوص ابراج گروپ کی الیکشن فنڈنگ، نجکاری کے عمل، من مانا مہنگا ٹیرف، پرائیوٹ ادارہ ہونے کے باوجود اربوں روپے کی سالانہ سبسڈی، جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ، بجلی کے نظام کی بہتر بنانے کیلئے معاہدے کے مطابق 361 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری نہ کرنا، فرنس آئل کے پلانٹس کو منافع زیادہ کمانے کی خاطربند رکھنا اور اوور بلنگ کا باریک بینی سے فرانزک آڈٹ کرواکر رپورٹ شائع کرکے ملزمان کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -