ڈیلٹا ویرئنٹ اور چوتھی لہر کے خدشات

 ڈیلٹا ویرئنٹ اور چوتھی لہر کے خدشات

  

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم  نے کووِڈ19 کے ڈیلٹا ویرئنٹ کو سب سے زیادہ پھیلنے والا وائرس قرار دیا ہے،دُنیا کے85 ممالک میں ڈیلٹا ویرئنٹ وائرس کی شناخت ہو چکی ہے اور یہ غیر منظم آبادی میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے متاثر مریضوں کی تعداد میں اضافے سے ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں کووِڈ وائرس کی مزید نئی اقسام متوقع ہیں وائرس کی زیادہ اقسام،زیادہ پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں،ویکسین کے ساتھ احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے،اس صورتِ حال کے پیش ِ نظر ڈبلیو ایچ او  طبی عملے اور کمزور لوگوں کو ویکسین لگانے پر زور دے رہی ہے۔ادارے کی ڈائریکٹر ماریا وین کیرخوف نے کہا کہ عالمی صورتِ حال بہت نازک ہے، تمام ممالک کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ڈیلٹا وائرس جس  بھی ملک میں پہنچتا ہے اس میں انتہائی متعدی بیماری کی شدت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ وائرس ایسے ممالک کو بھی متاثر کر رہا ہے، جہاں حفاظتی ٹیکے(ویکسین) لگانے کی شرح زیادہ ہے۔

پاکستان میں طبی ماہرین بھی مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ جولائی کے آخری عشرے میں کورونا کی چوتھی لہر آ سکتی ہے، جو خاصی شدید ہو گی ان ماہرین کا خیال ہے کہ عیدالاضحی سے پہلے ہفتہ دس دِنوں میں بہت زیادہ  محتاط رہنے کی ضرورت ہو گی،کیونکہ ان ایام میں ملک بھر میں قربانی کے جانوروں کی منڈیاں لگتی ہیں،جہاں صبح سے رات گئے تک لاکھوں لوگ جانوروں کی خریداری کے لئے آتے ہیں،ان میں ایسے بھی بہت ہوتے ہیں جو کسی منڈی میں کئی گھنٹے گھومنے پھرنے کے باوجود مختلف وجوہ کی بنا پر جانور خریدنے میں تو کامیاب نہیں ہوتے، لیکن وائرس کے ”کیریئر“  ضرور  بن سکتے ہیں، کیونکہ وہ منڈی میں بہت سے جانوروں کو باقاعدہ ہاتھوں سے چھو کر دیکھتے اور اس عمل کو بار باہر دہراتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی جانور کو ہاتھ لگانا ضروری ہو تو اسے دستانے پہن کر چیک کرنا چاہئے تاہم مشاہدہ یہ ہے کہ ہاتھوں پر دستانے تو لوگ شاذ ہی پہنتے ہیں ماسک پہننے  والے بھی آہستہ آہستہ اس سے ”الرجک“ ہو چکے اور انہوں نے مثبت کیسوں کی کم شرح کے بعد احتیاط کا دامن چھوڑ دیا ہے، حالانکہ یہی ایام ہیں جب بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے،کیونکہ کورونا پابندیوں میں نرمی کے بعد کاروبار زیادہ گھنٹوں کے لئے کھلنے لگے ہیں،ٹرانسپورٹ کا دائرہ وسیع تر ہو گیا ہے اور بسوں میں جہاں پہلے50فیصد گنجائش کے مطابق مسافر بٹھانے کی اجازت تھی،اب یہ تعداد70 فیصد کر دی گئی ہے، اس طرح بعض شعبے جو پہلے بند تھے اب کھول دیئے گئے ہیں، جم اور ریستورانوں میں بھی ایس او پیز کے تحت داخلے کی اجازت ہے۔یہ پابندیاں یکم جولائی سے نرم ہوئیں اور اسی روز بعض پوش علاقوں کے ریستورانوں میں لوگوں کا ہجوم نظر آیا یہ ساری مثالیں یہ عندیہ دیتی ہیں کہ جوں جوں عیدالاضحی قریب آئے گی بازاروں،شاپنگ مالز اور دوسرے عوامی مقامات پر آمدو رفت بھی بڑھے گی اور سماجی رابطوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی کے مالیکولر پیتھالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید خان اور بعض دوسرے ماہرین نے خاص طور پر اس جانب توجہ دلائی ہے کہ چوتھی لہر زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیلٹا ویرئنٹ انسانی جسم میں اپنی نشوونما بہت تیزی سے کرتا ہے اور اپنی موجودگی کا احساس شدت سے دلاتا ہے۔ یہ ڈیلٹا ویرئنٹ برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت ور ہے،اس سے محفوظ رہنے کے لئے مسلسل ماسک کا استعمال اور مکمل ویکسی نیشن لازمی ہے، کیونکہ اس میں دہری جنیاتی تبدیلی ہے۔چوتھی لہر نے شدت اختیار کی  تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور ہسپتالوں کو وائرس سے متاثر ہونے والوں کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پروفیسر سعید خان نے مشورہ دیا کہ لوگ قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری کو ترجیح دیں، کیونکہ جانوروں کی منڈیوں کا ماحول بڑا غیر صحت مند ہوتا ہے،جہاں سے یہ وائرس تیزی سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

ویکسین کے بارے میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک پورے ملک میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔این سی او سی کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ تین دِنوں میں آٹھ لاکھ30ہزار سے زیادہ لوگوں کو مختلف قسم کی ویکسین لگائی گئی، تمام سٹاف اور مویشی منڈیوں کے تاجروں کو ویکسین لگانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔انتظامیہ کو داخلے پر ہینڈ سینی ٹائزر، ماسک اورر ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کی سہولتیں میسر کرنے کی تائید کی گئی ہے۔ امریکہ سے موڈرنا ویکسین کی جو 25 لاکھ خوراکیں آئی ہیں وہ بھی صوبوں کو ان کی ضرورت کے مطابق بھیج دی گئی ہیں، بیرون ملک جانے والوں کو ایسی ویکسین لگائی جا رہی ہے، جو سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں قابل ِ قبول ہے۔اگرچہ ویکسی نیشن کا عمل آگے بڑھ رہا ہے تاہم اگر احتیاطی تدابیر بھی ساتھ ہی ساتھ اختیار کی جائیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ چوتھی لہر اگر آ بھی گئی تو اس کا پھیلاؤ زیادہ نہیں ہو گا،لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر طبقہ زندگی کے لوگ عالمی ادارہئ صحت اور ماہرین طب کی ہدایات کو سنجیدگی سے لیں،خاص طور پر ڈیلٹا ویرئنٹ سے بچنا اِس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ وائرس اب اُن ممالک میں حملہ آور ہے، جو پہلے ہی کئی مہینوں تک وائرس کے شدید حملوں کا سامنا کر چکے ہیں اور وہاں متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے،ان ممالک نے پہلے حملوں کا تو کامیابی سے مقابلہ کیا ہے،لیکن اب مسافروں کے ذریعے یہ وائرس تیزی سے سفر کر رہا ہے اور کئی ممالک میں جہاں ویکسی نیشن بڑی تیز رفتاری سے مکمل کی جا رہی ہے وہاں بھی اس کے مریض سامنے آ رہے ہیں، ان حالات میں ہمارے لئے بہترین راستہ احتیاطی تدابیر ہی ہیں ویکسی نیشن کے عمل کی رفتار بھی تیز کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں انتظامیہ کی سطح پر جو شکایات ہیں وہ بھی دور ہونی چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -