موت کے بعد تدفین میں سہولت 

موت کے بعد تدفین میں سہولت 

  

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے زرعی اراضی پر رہائشی کالونیاں بنانے کے حوالے سے تحریری حکم جاری کر دیا اور اس سلسلے میں بارہ رہنما اصول وضع کر کے حکومت پنجاب کو متعلقہ قوانین میں ترامیم کی ہدایت بھی کی ہے۔فاضل چیف جسٹس نے اسی فیصلے میں وفات پانے الے افراد کی مفت تدفین کے حوالے سے مارچ میں جاری کئے جانے والے عبوری حکم کی توثیق بھی کر دی، حکم میں رہائشی کالونیاں بنانے والوں کے لئے قبرستان کی جگہ مختص کرنے کے قانون کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کل رقبے کے 2فیصد کے برابر جگہ وفات پانے والوں کی تدفین کے لئے مختص ہونا لازمی ہے۔فاضل عدالت کے حکم میں مزید واضح کیا گیاکہ ہر فرد زندگی بھر اشیاء کی خریداری سے لے کر دوسرے امور تک ٹیکس ادا کرتا ہے۔یہ افسوس    ناک ہے کہ اس کی موت کے  وقت تدفین کے لئے بھی فیس وصول کی جائے۔یہ مفت اور مکمل سہولت کے ساتھ ہونا چاہئے۔حکومت ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کے لئے بھی متعلقہ قوانین میں مناسب ترامیم کرے، مزید ہدایت کی گئی کہ لاہور کے ماڈل قبرستان کی طرز پر دوسرے شہروں گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں بھی ایسے قبرستان بنائے جائیں، اسی حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ پبلک، پرائیویٹ پارٹنر شپ کے اصولوں پر کم آمدنی والے افراد کی وفات کے بعد تدفین کے لئے بھی انتظامات کئے جائیں۔فاضل چیف جسٹس قاسم خان کا یہ فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے،اس میں جہاں رہائشی کالونیوں کے حوالے سے رہنما اصول بتا دیئے گئے،وہاں تدفین کے حوالے سے حکم بھی غیر معمولی اور حقائق پر مبنی ہے، کہ آج کل زندگی گذارنے کے لئے جدوجہد کرنے والے اِس خوف میں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ ان کی موت کے بعد تدفین کا کیا ہو گا کہ قبرستان میں جگہ متعلقہ آبادیوں کے لئے مختص ہوتی ہے اور سرکاری قبرستانوں میں بھی فیس اور قبر کی کھدائی وغیرہ کے لئے بھاری اخراجات  لئے جاتے ہیں۔صوبائی حکومت کو اس حکم کی روح کے مطابق عمل کے لئے قوانین میں ترامیم یا ضرورت کے مطابق نئی قانون سازی کرنا چاہئے،اسی طرح ماڈل قبرستان لاہور میں بن چکا تو دوسرے شہروں میں بھی توسیع دینا، نیک نامی میں اضافے کا باعث ہو گا اور جب بِلا اخراجات آخرت کا سامان ہو جائے گا تو یہ بھی نیکیوں میں ہی شمار ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -