قومی سلامتی کیلئے مربوط لائحہ عمل کی ضرورت !

قومی سلامتی کیلئے مربوط لائحہ عمل کی ضرورت !
قومی سلامتی کیلئے مربوط لائحہ عمل کی ضرورت !

  

   پاکستان سیاسی ابتری کا شکار ہے، جس کے باعث قومی معاملات پر وہ توجہ مرکوز نہیں کی جارہی، جس کی ضرورت ہے،اس کی وجہ سے ملکی مسائل میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔افراد معاشرہ مل کر قوم بنتے ہیں، قوم کا ہر فرد وہ امیر ہو یا غریب، چھوٹا ہو یا بڑا، عورت ہو یا مرد بلا کسی تخصیص کے اپنی جملہ ذمہ داریاں،اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر انجام دے  تو قومی معاملات میں بہتری آنے کی صورت پیدا ہوتی ہے،بصورت دیگر ملکی معاملات بد سے بد تر  کی طرف بڑھتے ہیں اور ان کا وہی  نتیجہ نکلتاہے، جس سے بحیثیت قوم آج ہم بر سر پیکار ہیں۔ ملکی معاملات کو احسن طریقے سے چلانے کی مکمل ذمہ داری حکومت اور قومی سلامتی کے ضامن اداروں پر عائد ہوتی ہے، اس میں اپوزیشن کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیئے ہوتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ اپنے معاملات بہتر بنانے کے لئے اپنی صلاحیتوں سے کام لے، تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کے بعد بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام بتدریج بڑھ رہا ہے۔

 قومی سلامتی دراصل ریاست اور ریاست کے اندر موجود تمام افراد سمیت اس کی سرزمین اور اس کے اداروں کی یکجہتی کا نام ہے۔ عالمگیریت نے قومی سرحدوں کو غیر متعلقہ بنا دیا ہے، جس کے باعث قومی سلامتی کا تصور کافی حد تک بدل گیا ہے۔ فی زمانہ صرف فوج ہی قومی سرزمین اور ملکی فضا کی سلامتی کی ذمے دار نہیں رہی،بلکہ اقتصادی اور ثقافتی معاملات بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ ہمیں بھی ان حقائق کا ادراک کرنا ہو گا۔اب فیصلہ سازی کے عمل میں کوئی تنہا ادارہ شامل نہیں، بلکہ اس حوالے سے اخلاقی اقدار،، مفادات اور مقاصد کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ پاکستان میں عارضی بنیادوں پر پالیسیاں تشکیل دی گئیں اور یہ روش تا حال  برقرار ہے۔ ہم نے حکومت سے باہر کے حلقوں سے کبھی مشاورت نہیں کی کہ وہ ہمیں ان اہم مسائل پر رہنمائی دے سکیں، یہی وجہ ہے کہ ٹھوس زمینی حقائق پر توجہ دینے کے بجائے ہم محض زبانی جمع خرچ سے کام لیتے رہے ہیں۔

اس میں کوئی تزویراتی ہم آہنگی نہیں اور فیصلے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستحکم طریقے سے نہیں کئے جاتے،بلکہ عجلت میں غیر جانبدارانہ جائزہ ہی نہیں لیا جاتا کہ جس سے معاملے کی صحیح معنوں میں تفہیم ہو سکے اور اس کا مناسب طریقے سے تجزیہ کر کے منصوبہ بندی کی جائے اور پھر فیصلے کو نافذ کیا جائے۔ ہم اپنے اجتماعی مفاد کے فیصلے یک طرفہ طور پر کرتے ہیں، حالانکہ  ایسے  فیصلے کرنے کے لئے ایک مستقل طریقہ کار کے ذریعے تمام وفاقی اور صوبائی ذرائع کو استعمال کر کے معلومات حاصل کی جانی چاہئیں نیز اس حوالے سے جو سفارشات  مرتب کی جائیں ان کی بنیاد بھی ٹھوس ہونی چاہئے۔

اگرچہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں بہت مضبوط ڈھانچہ رکھتی ہیں، لیکن سویلین اور عسکری انٹیلی جنس ایجنسیوں میں بہت محدود تعاون ہوتا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور منتخب سول سیٹ اپ کے مابین قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے بہت زیادہ تفاوت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ بار بار رونما ہونے والی سیاسی کشیدگی موجودہ سیاسی عدم استحکام کا باعث ہے۔ہم بغیر سوچے سمجھے الزام لگانے کے عادی ہو چکے ہیں،جس کا نقصان یہ ہے کہ بحیثیت قوم، اقوامِ عالم میں ہم اپنااعتماد کھو رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا بڑا حصہ غربت اور محرومیوں کا شکار ہے اس کی وجہ سے بہت کم لوگوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع ملتا ہے۔ قومی سلامتی کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں اور متوسط طبقے کی حالت زار کو بہتر بنانا ہو گا تا کہ یہ افراد بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا بنیادی کردار ادا کر سکیں، اس کے لئے ہمیں اقربا پروری اور کرپشن جو کہ بالائی طبقے سے اب نچلے طبقے کی طرف سرائیت کر رہی ہے، اس کے خاتمے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانے ہوں گے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک مربوط لائحہ عمل بنایا جائے،جس میں نئی نسل کی تربیت کے لئے ٹھوس بنیادوں اور زمینی حقائق کی روشنی میں سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ہمیں اپنی نئی نسل کی اخلاقیات کو بہتر کرنے کے ساتھ ان کے تعلیمی مسائل کے حل کے لئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے، اس مقصد کے حصول کے لئے تعلیمی اداروں کو بنیاد بنا کر کم از کم  25 سالہ پالیسی مرتب کرنا ہوگی، جس میں نئی نسل کی ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنا ہو گی، قوم کے ہر بچے کے سکول میں داخلے کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ، ان کی  وضع قطع، چال ڈھال، بول چال،  اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، رہنے سہنے، چلنے پھرنے غرض اسے معاشرے کی مثالی شخصیت اور فعال شہری بنانے کے حوالے سے ہر پہلو کو مدنظر رکھ کر پالیسی مرتب کر کے،اس پر عمل کرنے  کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے ہوں گے تو  پھر کہیں جا کر پندرہ بیس سال بعد اس کے مثبت نتائج  سامنے آنے پر ہم اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنا سکیں گے۔

   جزاکم اللہ خیرا ًکثیرا

مزید :

رائے -کالم -